Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
166 - 212
وصل دوم

احادیث متعلقہ بحضرات انبیاء واولیاء علیھم الصلٰوۃ والثناء
حدیث ۱۷۵ :
طبرانی معجم اوسط اورخرائطی مکارم الاخلاق میں امیر المومنین مولاعلی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم سے راوی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے جب کوئی شخص سوال کرتا اگر حضور کو منطور ہوتا نعم فرماتے یعنی اچھا ، اورنہ منظور ہوتا تو خاموش رہتے ، کسی چیز کو لایعنی نہ فرماتے ۔ 

ایک روز ایک اعرابی نے حاضر ہوکر سوال کیاحضور خاموش رہے ، پھر سوال کیاسکوت فرمایا ، پھر سوال کیا اس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جھڑکنے کے انداز سے فرمایا:
سل ما شئت یا اعرابی !
اے اعرابی !جو تیرا جی چاہے ہم سے مانگ۔ 

مولٰی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ ، فرماتے ہیں :
فغبطناہ فقلنا الاٰن یسأل الجنۃ
یہ حال دیکھ کر (کہ حضور خلیفۃ اللہ الاعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمادیا ہے جو دل میں آئے مانگ لے )ہمیں اس اعرابی پر رشک آیا ہم نے اپنے جی میں کہا اب یہ حضور سے جنت مانگے گا، اعرابی نے کہا تو کیا کہا کہ میں حضور سے سواری کا اونٹ مانگتاہوں ۔ فرمایا: عطا ہوا ۔ عرض کی : حضو سے زادراہ مانگتاہوں ۔ فرمایا : عطاہوا۔ ہمیں اس کے ان سوالوں پر تعجب آیا۔ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : کتنا فرق ہے اس اعربی کی مانگ اوربنی اسرائیل کی ایک پیرزن کے سوال میں ۔ پھرحضو رنے اس کا ذکر ارشاد فرمایا کہ جب موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دریا میں اترنے کا حکم ہوا کناردریا تک پہنے سواری کے جانوروں کے منہ اللہ عزوجل نے پھیر دیے کہ خود واپس پلٹ آئے ، پلٹ آئے ، موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے عرض کی : الٰہی !یہ کیا حال ہے ؟ارشاد ہوا : تم قبر یوسف (علیہ الصلٰوۃ والسلام )کے پاس ہو ان کا جسم مبارک اپنے ساتھ لے لو۔ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو قبر کا پتہ معلوم نہ تھا فرمایا: اگر تم میں کوئی جانتا ہوتو شاید بنی اسرائیل کی پیرزن کو معلوم ہو، اس کے پاس آدمی بھیجا کہ تجھے یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کی قبر معلوم ہے ؟کہا: ہاں۔ فرمایا : تو مجھے بتادے ۔ عرض کی :
لاواللہ حتی تعطینی ما اسئلک
خدا کی قسم میں نہ بتاؤں گی یہاں تک کہ میں جو کچھ آپ سے مانگوں آپ مجھے عطافرمادیں ۔ فرمایا :ذٰلک لک تیری عرض قبول ہے ۔
قالت فانی اسئلک ان اکون معک فی الدرجۃ التی تکون فیہا فی الجنۃ
پیرزن نے عرض کی : تو یں حضور سے یہ مانگتی ہوں کہ جنت میں آپ کے ساتھ ہوں اس درجے میں جس درجے میں آپ ہوں گے ۔
قال سلی الجنۃ
موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا: جنت مانگ لے ، یعنی تجھے یہی کافی ہے اتنا بڑا سوال نہ کر۔
قالت لا واللہ الا ان اکون معک
پیرزن نے کہا: خدا کی قسم میں نہ مانوں گی مگر یہی کہ آپ کے ساتھ ہوں ۔
فجعل موسٰی یرد دھا فاوحی اللہ ان اعطھا ذٰلک فانہ، لن ینقصک شیئاً فاعطاھا
موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام اس سے یہی رد وبدل کرتے رہے ۔اللہ عزوجل نے وحی بھیجی موسٰی ! وہ جو مانگ رہی ہے تم اسے وہی عطاکردو کہ اس میں تمھاراکچھ نقصان نہیں، موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے جنت میں اسے اپنی رفاقت عطافرمادی ، اس نے یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کی قبر بتادی ،موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نعش مبارک کو ساتھ لے کر دریا سے عبور فرماگئے ۱؂۔
 (۱؂کنز العمال بحوالہ طس والخرائطی الخ حدیث ۴۸۹۵   مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲ /۱۷۔۶۱۶) 

( المعجم الاوسط عن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ۷۷۶۳مکتبۃ المعارف ریاض ۸ /۳۷۶و۳۷۷)
اقول: وباللہ التوفیق ، بحمدہٖ تعالٰی
اس حدیث نفیس کا ایک ایک حرف جان وہابیت پر کوکب شہابی ہے ۔
اولاً :
حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اعرابی سے ارشاد کہ ''جو جی میں آئے مانگ لے ۔''حدیث ربیعہ رضی اللہ تعالٰی عنہ میں تو اطلاق ہی تھا جس سے علمائے کرام نے عموم مستفاد کیا یہاں صراحۃً خود ارشاد اقدس میں عموم موجود کہ جو دل میں آئے مانگ لے ہم سب کچھ عطافرمانے کا اختیار رکھتے ہیں
صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وبارک علیہ وعلٰی اٰلہ قدرجودہٖ ونوالہ ونعمد وافضالہٖ
 (اللہ تعالٰی درود وسلام اوربرکت نازل فرمائے آپ پر اور آپ کی آل  پر آپ کے جو دوسخا اورانعام واکرام کے مطابق۔ت)
ثانیاً :
یہ ارشاد سن کر مولی علی وغیرہ صحابہ حاضرین رضی اللہ تعالٰی عنہم کا غبطہ کہ کاش یہ عام انعام کا ارشاد اکرام ہمین نصیب ہوتاحضور تو اسے اختیار عطافرماہی چکے اب یہ حضور سے جنت مانگے گا۔ معلوم ہواکہ بحمداللہ تعالٰی صحابہ کرام کا یہی اعتقاد تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ہاتھ اللہ عزوجل کے تما م خزائن رحمت دنیا وآخرت کی ہر نعمت پر پہنچتا ہے یہاں تک کہ سب سے اعلٰی نعمت یعنی جنت جسے چاہیں بخش دیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
ثالثاً :
خود حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اس وقت اس اعرابی کے قصور ہمت پر تعجب کہ ہم نے اختیار عام دیا اورہم سے حطام دنیا مانگنے بیٹھا پیر زن اسرائیلیہ کی طرح جنت نہ صرف جنت بلکہ جنت میں اعلٰی سے اعلٰی درجہ مانگتا تو ہم زبان دے ہی چکے تھے اورسب کچھ ہمارے ہاتھ میں ہے وہی اسے عطافرمادیتے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
رابعاً  :
ان بڑی بی پر اللہ عزوجل کے بےشمار رحمتیں بھلا انہوں نے موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو خدائی کا رخانہ کا مختار جان کر جنت اورجنت میں بھی ایسے اعلٰی درجے عطا کردینے پر قادر مان کر شرک کیا تو موسٰی کلیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو کیا ہو اکہ یہ با آں شان غضب وجلا اس شرک پر انکار نہیں فرماتے اس کے سوال پر کیوں نہیں کہتے کہ میں نے جو اقرار کیا تھا تو ان چیزوں کا جو اپنے اختیار کی ہوں بھلا جنت اورجنت کا بھی ایسادرجہ یہ خد اکے گھر کے معاملے میں ان میں میرا کیا اختیار تو نے نہیں سنا کہ وہابیہ کے امام شہید اپنے قرآن جدید نام کے تقویۃ الایمان اورحقیقت کے کلمات کفر وکفران میں فرمائیں گے کہ : 

''انبیاء میں اس بات کی کچھ بڑائی نہیں کہ اللہ نے انہیں عالم میں تصرف کی کچھ قدرت دی ہو۔۱؂ ''
 (۱؂تقویۃ الایمان  الفصل الثانی  مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہورص۱۷)
میں تو میں مجھ سے اورتمام جہان سے افضل محمدرسول اللہ خاتم المرسلمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت ان کی وحی باطنی میں اترے گا کہ :  ''جس کا نام محمد ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں ۲؂۔''
 (۲؂تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور   ص۲۸)
خود انہیں کے نام سے بیان کیا جائے گا کہ : ''میری قدرت کا حال تو یہ ہے کہ اپنی جان تک کے بھی نفع ونقصان کا مالک نہیں تو دوسرے کا کیا کرسکوں۳؂۔''
 (۳؂تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہورص۱۷)
نیز کہا جائے گا : ''پیغمبر نے سب کو اپنی بیٹی تک کو کھول کر سنادیا کہ قرابت کا حق ادا کرنا اسی چیز میں ہوسکتاہے کہ اپنے اختیار میں ہو سو یہ میرا مال موجد ہے اس میں مجھ کو کچھ بخل نہیں اوراللہ کے یہاں کا معاملہ میرے اختیار سے باہر ہے وہاں میں کسی کی حمایت نہیں کرسکتا اورکسی کا وکیل نہیں بن سکتا سو وہاں کا معاملہ ہر کوئی اپنا اپنا درست کرلے اوردوزخ سے بچنے کی ہر کوئی تدبیرکرے ۴؂۔ ''
 (۴؂تقویۃ الایمان   الفصل الثالث   مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہورص۲۵)
بڑی بی !کیا تم سَٹھ گئی ہو، دیکھو تقویۃ الایمان کیا کہہ رہی ہے کہ رسول بھی کون ، محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ او رمعاملہ بی کس کا ، خود ان کے جگر پارے کا ۔اور وہ بھی کتنا کہ دوزخ سے بچالینا اس کا تو انہیں خود اپنی صاحبزادی کے لئے کچھ اختیار نہیں وہ اللہ کے یہاں کچھ کام نہیں آسکتے تو کہاں وہ اورکہاں میں ، کہاں ان کی صاحبزادی اورکہاں تم ، کہاں صرف دوزخ سے نجات اورکہاں جنت ، اور جنت کا بھی ایسا اعلٰی درجہ بخش دینا ۔ بھلا بڑی بی !تم مجھے خدا بنا رہی ہو، پہلے تمہارے لئے کچھ امید ہو بھی سکتی تو اب تو شرک کر کے تم نے جنت اپنے اوپر حرام کرلی۔ افسوس کہ موسٰی کلیم علیہ الصلٰوہ والتسلیم نے کچھ نہ فرمایا ، اس بھاری شرک پر اصلاً انکار نہ کیا۔

خامساًدرکنار اوررجسٹری کہ سلی الجنۃ اپنی لیاقت سے بڑھ کر تمنا نہ کر و  ہم سے جنت مانگ لو ہم وعدہ فرماچکے ہیں عطا کردیں گے تمہیں یہی بہت ہے ۔ افسوس موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کیا شکایت کہ امام الوہابیہ اگرچہ یہودی خیالات کا آدمی ہے جیسا کہ ابھی آخر وصل اول میں ثابت ہوچکا ہے مگراپنے آپ کو کہتا تو محمدی ہے ، خود محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کے جدید قرآن تقویۃ الایمن کو جنہم پہنچایا۔ ربیعہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور سے جنت کا سب سے اعلٰی درجہ مانگا، اس عظیم سوال کے صریح شرک پر انکار نہ فرمایا بلکہ صراحۃً عطافرمادینے کو متوقع کردیا اب اگر وہ جل جل کر ان کی توہین نہ کرے ان کا نام سَوسَو گستاخیوں سے نہ لے تو اورکیا کرے بیچاہر کلیم کا مردود حبیب کا مارا اپنے جلے دل کے پھپھولے بھی نہ پھوڑے ، مثل مشہور ہے کسی کا ہاتھ چلے کسی کی زبان۔
وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین ولٰکن المنٰفقین لایعلمون۱؂۔
اورعزت اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اورمومنین کے لیے ، لیکن منافقین نہیں جانتے ۔(ت)
(۱؂القرآن الکریم ۶۳ /۸)
Flag Counter