اقول : تقریر اس اشارہ لطیفہ کی یہ ہے کہ عطف واؤسے ہو خواہ ثم خواہ کسی حرف سے ، معطوف ومعطوف علیہ میں مغایرت چاہتاہے بلکہ ثم بوجہ افادئہ فصل وتراخی زیادہ مفید مغایرت ہے اورسید الموحدین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے لئے کوئی مشیئت جداگانہ اپنے رب عزوجل کی مشیئت سے رکھی ہی نہیں انکی مشیئت بعینہٖ خدا کی مشیئت ہے اورمشیئت خدا بعینہٖ ان کی مشیئت،اورعطف کر کے کہئے تو دوئی سمجھی جائے گی کہ اللہ کی مشیئت اورہے اور رسول کی مشیئت اور، لہذا یہاں عطف کے لیے ارشاد نہ فرمایا فقط مشیت اللہ وحدہ کا ذکر بتایا کہ اس میں خود ہی مشیۃ الرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ذکر آجائے گا جل جلالہ، و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
ھٰکذا ینبغی ان یفھم ھذا المقام وبہٖ یندفع ما اوردعلیہ القاری من النقض بان مشیئۃ غیرہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایضاً مضمحلۃ فی مشیئۃ اللہ تعالٰی سبحانہ۱اھ
اس مقام پر اسی طرح سمجھنا چاہیے اور اس سے ملا علی قاری علیہ الرحمہ کا وارد کردہ اعتراض بھی مندفع ہوگیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے غیر کی مشیت بھی تو اللہ تعالٰی سبحانہ، کی مشیت میں گم ہے اھ ۔
(۱مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسامی الفصل الثانی تحت الحدیث ۴۷۷۹ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۳۳)
اقول : فلم یفرق بین الاضمحلال الاضطر اری الحاصل لکل الخلق والاختیاری المختص بخلص عباداللہ الممتاز فیہ وفی کل صفۃ الٰھیّہ من بینھم سید ھم نبیھم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم واعترض علیہ ایضاً بانہ، لایفید جواز الاتیان بالواؤ۲اھ
اقول :(میں کہتاہوں) کہ اضمحلال (مستغرق اورگم ہونا )دو قسم ہے
(۱) اضطراری : یہ تمام مخلوق کے لئے ثابت ہے ۔
(۲) اختیاری : یہ اللہ تعالٰی کے لیے مخصوص بندوں کے ساتھ ہے جو صفت مشیت اواللہ تعالٰی کی ہر صفت میں امتیاز رکھتے ہیں، ان کے سردار ان کے نبی ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، ملا علی قاری نے علامہ طیبی کی تقریرپر یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ ان کے جواب سے ''واو''کے استعمال کا جواب ثابت نہیں ہوتا اھ ۔
(۲مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسامی الفصل الثانی تحت الحدیث ۴۷۷۹ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۳۳)
اقول : ماکان مساق کلام الطیبہ لاثبات جواز الاتیان بالواوحتی یکون عدم افادتہ نقصاً فی مرامہٖ انما ارادبداء نکتۃ الفرق بین مشیئتہ ومشیئۃ غیرہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حیث ذکر الاولٰی بثم وطوی ذکر ھذہٖ رأساً وھذا مستفاد من کلامہٖ مابین وجہٍ کما سمعت منا تقریرہ، فلا ادری مالمراد بذالایراد ثم افادہ وجہ اٰکر للفرق فقال ماسبق م قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ولٰکن قولوا ماشاء اللہ ثم شاء فلان لمجرد الرخصۃ ولوقال ھنا قولوا ماشاء اللہ ثم شاء محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لکان امر وجوب اوندب ولیس الامر کذٰلک ۱اھ۔
اقول : علامہ طیبہ نے اپنا کلام ''واؤ''کے استعمال کو جائز ثابت کرنے کے لیے نہیں چلایا تھا، یہاں تک کہ اگر ان کاکلام اس مقصد کا فائدہ نہ دے سکے توانکے مقصد میں نقص لازم آئے ، بلکہ ان کا مقصد تویہ تھا کہ وہی نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اوردوسروں کی مشیت میں فرق ظاہر کریں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فلاں کی مشیت کا ذکر لفظ''ثم''کے ساتھ کردیا لیکن اپنی مشیت کا ذکر نہیں فرمایا ۔ یہ فرق ان کے ایک وجہ کے بیان سے مستفاد ہے جیسا کہ آپ ہم سے اس کی تقریر سن چکےہیں ، مجھے معلوم نہیں ہوسکا کہ اس اعتراض سے انکا مقصد کیا ہے ۔ پھر فرق کی ایک اوروجہ بیان کرتے ہوئے ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جوفرمان گزرچکا ہے ''لیکن کہو جو چاہے اللہ تعالٰی پھر چاہے فلاں ''یہ محض رخصت کیلئے ہے اوراگر اس جگہ یوں فرماتے ''کہو جو چاہے اللہ پھر چاہیں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ''تو یہ امر وجوب یا استحباب کے لئے ہوتا ، حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔اھ۔
(۱مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسامی الفصل الثانی تحت الحدیث ۴۷۷۹ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۳۳)
اقول :کانہ یستنبط من ترک لفظۃ لٰکن ھٰھنا فانہ، یکون حینئذٍ امراً مقصوداً واقلہ الندب بخلاف الاول فانہ استدراک علی النھی فیفید مجرد الرخسۃ ھٰذا ما ظھرلی فی تقریر مرامہ وانت تعلم انہ یرجع الفرق علی ھذا الٰی جھۃ العبارۃ فلو ذکر ھٰھنا لکن لساغ ان یذکر العطف بثم ولو ترکہا ثمہ لقال قولوا ماشاء اللہ وحدہ، ثم قال مع المشیئۃ المسندۃ الی فلان انما ھی مشیئۃ جزئیۃ لایجوز حملھا علی المشیئۃ الکلیۃ کما رمزنا الیہ فیما سبق من الکلام ۱اھ۔
اقول : دوسرے ارشاد میں لفظ ''لکن ''مذکور نہیں ہے ۔ گویا کہ ملا علی قاری اس سے اس بات کا استنباط کرتے ہیں کہ اس صورت میں امر مقصودی ہوگا جو کم از کم استحباب کے لیے ہوتاہے برخلاف پہلے ارشاد کے کہ وہاں نہی کے بعد لفظ ''لکن ''استدراک کیلئے ہے اس لئے محض رخصت کا فائدہ دے گا ۔ یہ وہ بات ہے جو انکے مقصد کی وضاھت کیلئے مجھے ظاہر ہوئی ہے ۔ قارئین کرام !آپ جانتے ہیں کہ اس تقریر کے مطابق فرق عبارت ذکر کیا جاتا تو ''ثم ''کے ساتھ عطف جائز ہوتااوراگر اس جگہ لفظ ''لٰکن ''ترک کردیا جاتا تو فرماتے کہ کہ ''ماشاء اللہ وحدہ، ''پھر علامہ قاری نے فرمایاکہ فلاں کی طرف جس مشیت کی نسبت کی گئی ہے وہ مشیت جزئیہ ہے اسے مشیت کلیہ پر محمول کرنا جائز نہیں ہے ، جیسا کہ ہم کلام سابق اسکی طرف اشارہ کرچکے ہیں ۔اھ
(۱مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسامی الفصل الثانی تحت الحدیث ۴۷۷۹ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۳۳)
اقول : ھٰذا شیئ متحاز عن البحث ومشیئۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایضاً لاتحیط بجمیع مرادات اللہ تعالٰی سبحٰنہ ھٰذا قد کان افادۃ العلامۃ الطیبی وجھا رابعاً وھو انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قال ھذا ای قولوا ما شاء اللہ وحدہ دفعا لمظنۃ التھمۃ قولھم ماشاء اللہ وشاء محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تعظما لہ وریاء لسمعتہ۲ اھ ۔
اقول : (میں کہتاہوں )یہ بحث سے علیحدہ چیز ہے ، نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مشیت بھی اللہ تعالٰی کی تمام مرادوں کا احاطہ نہیں کرتی ۔ اسکو یادکرلو ۔ علامہ طیبی نے ایک چوتھی وجہ بھی بیان کی تھی اوروہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''کہو ماشاء اللہ وحدہ، ''اس لئے کہ اگر صحابہ کرام یوں کہتے ''ما شاء اللہ وشاء محمد ''تو اس میں آپ کی عظمت کے بطور ریاء وسمعہ اظہار کے وہم کا گمان ہوتا ، اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ کہو''ماشاء اللہ وحدہ۔''
(۲ الکاشف عن حقائق السنن (شرح الطیبی علی المشکوٰۃ) الفصل الثانی تحت الحدیث ۴۷۷۹ ادارۃ القرآن کراچی ۹ /۷۹)
اقول : ای والمظنۃ بحالھا فی ذکر اسمہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ولو بثم فعدل الٰی ذکر اللہ تعالٰی وحدہ ولیس یرید ان المظنۃ نشأت من(عہ) الواو اذ لو ارادہ لہ یصلح ماذکرہ وجھا للفرق بذکر مشیئۃ غیرہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بثم لامشیئۃ ھو فان المحذور علی ھذا ان کان ففی الواؤلا فی ثم وفیھا الکلام فارادۃ ھذا خروج عن اصل المرام ھٰذا تقریرکلامہ علی ماظھر لی۔
اقول : نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک لفظ''ثم ''کے ساتھ بھی ذکر کیاجاتاہے تب بھی وہ وہم برقرار رہتا، اس لئے وہاں بھی صرف اللہ تعالٰی کاذکر ہونا چاہیے تھا، ان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہم لفظ ''واؤ''کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ، اگریہ ان کا مقصد ہوتا تو جو کچھ انہوں نے بیان کیا ہے وہ وجہ فرق نہیں بن سکتایعنی ''ثم''کے بعد غیر مشیت کا ذکر کیا جاسکتاہے ، نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مشیت کا ذکر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس تقریر کے مطابق اگر خرابی لازم آتی ہے تو ''واؤ''میں ہے نہ کہ ''ثم''میں ، حالانکہ گفتگو ''ثم''ہی میں ہے ۔ لہذا یہ مطلب مراد لینے سے اصل مقصد سے خارج ہونا لازم آئے گا، یہ انکے کلام کی تقریر ہے جو میری سمجھ میں آئی ہے ۔
عہ :کما توھم الفاضل الراد ففاہ بما قد علمت بطلانہ بدلائل قاھرۃ لاقبل لاحدبھا زعما منہ ان الواؤنص فی التسویۃ لامجرد مظنۃ تھمۃ وباللہ العصمۃ ۱۲منہ۔
جیسا کہ رد کرنیوالے فاضل (ملا علی قاری)نے وہم کیا ہے کہ واؤمیں محض تہمت کا گمان نہیں ہے بلکہ وہ برابری میں نص ہے ۔ اورآ پ ان کے وہم کا ناقابل تردید وجوہ سے باطل ہونا جان چکے ہیں ، اور عصمت اللہ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے ۔ت)
اقول : وھو ارؤوا الوجوہ عندی وکیف یظن ان یظن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بصحابتہ فی ذکر نفسہ السمعۃ والریاء وحاشاہ وحاشاھم عن ذٰلک واحسن الوجوہ ما ذکر نا سابقا عن الطبیبی وما قد منا عن الشیخ المحقق مع ان کل ذٰلک مستغنی عنہ کما علمت وقد اشارالیہ القاری ایضاً اذ قال اصل السؤال مدفوع لانہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم داخل فی عموم فلان فیجوز ان یقال ماشاء اللہ ثم ماشاء محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ولا یجوز ان یقال ماشاء اللہ وشاء محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱اھ
اقول :(میں کہتاہوں ) میرے نزدیک یہ سب سے کمزور وجہ ہے ۔ اس گمان کا کیا جواز ہے کہ اگرنبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنا ذکر فرمادیں تو آپ کو اپنے صحابہ کے بارے میں یہ گمان ہوکہ انہیں ریاء اورسُمعہ کا وہم ہوگا ۔ یہ گمان نہ تو نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لائق ہے اورنہ ہی صحابہ کرام کے ۔ سب سے بہتر وجہ وہ ہے جو ہم علامہ طیبہ اورشیخ محقق کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں، اگرچہ ان توجیہات کی ضرورت نہیں ہے ، جیسا کہ آپ جان چکے ہیں ، اورملا علی قاری نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے ، انہوں نے فرمایا کہ اصل سوال مندفع ہے ، کیونکہ بنی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فلان کے عموم میں داخل ہیں، اس لئے ما شاء اللہ ثم ماشاء محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہنا جائز ہے اورماشاء اللہ وشاء محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہنا جائز نہیں ہے ۔
(۱مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسامی الفصل الثانی تحت الحدیث ۴۷۷۹المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۳۳)
اقول : ولو استحضر حدیث ابن ماجۃ لم یحتاج الی عموم فلان کما ان السائل لو استظھر لما سائل کما ان المحبیبین لو تذکروہ لما ذھبوا الی ھنا وھنا فسبحان من لایعزب عنہ شیئ ۔
اقول : (میں کہتاہوں) اگر ملا علی قاری کو ابن ماجہ کی حدیث مستحضر ہوتی تو انہیں فلان کے عموم کی حاجت نہ ہوتی اوریہ حدیث سائل کے پیش نظر ہوتی تو وہ سوال ہی نہ کرتا اور جواب دینے والے حضرات کو یاد ہوتی تو انہیں طرح طرح کی توجیہوں کی ضرورت نہ پڑتی۔ پاک ہے وہ ذات جس سے کوئی چیز مخفی نہیں رہتی۔(ت)
الحمدللہ ! یہ وصل مبارک کہ اعظم مقصد کتاب تھا بروجہ احسن واجمل اختتام کو پہنچا اورہنوز اس کی ابحاث میں ردّوہابیت کا بہت کلام باقی جس کا بعض ان شاء اللہ العزیز خاتمہ کتاب میں مذکور ہوگا ، یہاں تک اس باب میں وجہ دوم پر بعد اسم پاک جامع ایک سو چودہ حدیثیں متعلق بذات اقدس حضوراکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مذکورہوئیں اوربعض آئندہ آتی ہیں اورپچاس حدیثیں کہ ہم نے شمار کر کے شمار نہ کیں علاوہ ہم ابنائے زماں میں کسل وتقاعد ہے ، لہذا بخوف ملالت زیادہ اطالت نہ کیجئے اوربتوفیقہ تعالٰی بقیہ وصلوں کے وصل سے راحت وبرکت لیجئے وباللہ التوفیق۔