مسلمانو!گمراہوں کے امتحان کے لیے ان کے سامنے یونہی کہہ دیکھو کہ اللہ پھر رسول عالم الغیب ہیں، اللہ پھر رسول ہماری مشکلیں کھول دیں ، دیکھ وتو یہ حکم شرک جڑتے ہیں یا نہیں ۔ اسی لئے تویہ عیارمشکوٰۃ کی اس حدیث متصل صحیح ابو داؤدکی میر بحری بجا گیا تھا جس میں لفظ ''پھر ''کے ساتھ اجازت ارشاد ہوئی تو ثابت ہوا کہ اس مرد ک کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہودی کا اعتراض پاکر بھی جو تبدیلی کی وہ خود شرک کی شرک ہی رہی۔
مسلمانو! یہ حاصل ہے رسولوں کی جناب میں اس گستاخ کے اعتقادکا۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۱۔
(اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے ۔ت)
(۱القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷)
یہ تو انکے طور پر نتیجہ احادیث تھا ہم اہل حق کے طور پر پوچھو تو اقول وباللہ التوفیق (تومیں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت)بحمداللہ تعالٰی نے صحابہ نہ شرک کیا نہ معاذاللہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے شرک سن کر گوارفرمایا، کسی کے لحاظ وپاس کو کام میں لانا ممکن نہ تھا، نہ یہودی مردک تعلیم توحید کرسکتا تھا ، بلکہ حقیقت امری یہ ہے کہ مشیت حقیقیہ ذاتیہ مستقلہ اللہ عزوجل کے لیے خاص ہے اورمشیت عطائیہ تابعہ لمشیۃ اللہ تعالٰی اللہ تعالٰی نے اپنے عباد کو عطا کی ہے ، مشیت محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو کائنات میں جیسا کچھ دخل عظیم بعطائے رب کریم جل جلالہ، ہے وہ ان تقریرات جلیلہ سے کہ ہم نے زیر حدیث ذکر کیں واضح وآشکار ہے ، محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ایک نائب وخادم سید نا علی مرتضٰی مشکل کشا کرم اللہ تعالٰی وجہہ الاسنی کی نسبت امت مرحومہ کا جو اعتقاد ہے وہ شاہ عبدالعزیز صاحب کی عبارت مذکورہ مقدمہ سے اظہار ہے کہ :
حضرت امیر وذریۃطاہرہ اوراتمام امت برمثال پیران می پر ستند وامور تکوینیہ رابایشاں وابستہ میدانند۱۔
حضرت امیر یعنی حضر ت علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ اوران کی اولاد کو تمام امت اپنے مرشد جیسا سمجھتی ہے اورتکوینی امور کو ان حضرات کے ساتھ وابستہ جانتی ہے ۔(ت)
(۱تحفہ اثنا عشریہ باب ہفتم درامامت سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۱۴)
اورخود امام الوہابیہ اس تقویۃ الایمان کے کفری ایمان سے پہلے جو ایمان صراط مستقیم میں رکھتا تھا وہ بھی یہی تھا جہاں کہتاتھا :
مقامت ولایت بل سائر خدمات مثل قطبیت وغوثیت وابدالیت وغیرہا ہمہ از عہد کرامت مہد حضرت مرتضٰی تاانقراض دنیا ہمہ بواسطہ ایشان ست ودرسلطنت سلاطین وامارتِ امرا ہمت ایشاں رادخلے ست کہ برسیاحین عالم ملکوت مخفی نیست۲۔
مقامات ولایت بلکہ تمام خدمات مثل قطبیت ، غوثیت وابدالیت وغیرہ سب رہیتی دنیا تک حضرت علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کے واسطے سے ملتے ہیں اوربادشاہوں کی سلطنت اورامیروں کی امارت میں بھی آنجناب کی ہمت کا دخل ہے ، یہ سیاحان عالم ملکوت پر پوشیدہ نہیں ۔ (ت)
(۲صراط مستقیم باب دوم فصل اول المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۵۸)
اب کہ تقویۃ الایمان نے بحکم :
قل بئسما یامرکم بہ ایمانکم ان کنتم مؤمنین ۳۔
تم فرمادو کیا براحکم دیتا ہے تم کو تمہارا ایمان اگر ایمان رکھتے ہو۔
(۳القرآن الکریم ۲ /۹۳)
اسے تمام امت مرحومہ کے خلاف ایک نیا ایمان سخت برا ایمان نام کا ایمان اورحقیقت میں پرلے سرے کا کفران سکھایا یا اسفل السافلین پہنچا، اب وہ بات کہ سیاحان عالم پر ظاہر تھی اسے کیونکر سُجھائی دے ،
ومن لم یجعل اللہ نوراً فمالہ، من نور۴۔
اورجسے اللہ نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں ۔(ت)
(۴ القرآن الکریم۲۴/۴۰)
اس مشیت مبارکہ عطائیہ کے باعث صحابہ کرام نام الٰہی عزوجل کے ساتھ حضو اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک ملا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ورسول چاہیں تو یہ کام ہوجائے گا مگر از انجاکہ طریق ادب سے اقرب وانسب یہ ہے کہ مشیت ذاتیہ ومشیت عطائیہ میں فرق مراتب نفس کلام سے واضح ہوکہ کسی احمق کو توہّم مساوات نہ گزرے سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اس کلمے پر خیال گزرتاتھا پھر ملاحظہ فرماتے کہ یہ اہل توحید ہیں معنی حق وصدق انہیں ملحوظ ہیں محبت خدا اوررسول اورنام پاک خلیفۃ اللہ الاعظم جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے تبرک وتوسل انہیں اس قول پر باعث ہے اوربات فی نفسہٖ شرعاً ممنوع نہیں کہ واؤمطلق جمع کے لیے ہے نہ مساوات (عہ) نہ معیت کے واسطے ، لہذا منع نہ فرماتے تھے ۔
عہ : اقول وھذا نکتۃ غفل عنہا بعض الجلۃ فجوز ماشاء اللہ ثم شاء محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وزعم ان لواتی بالواو لکان شرکا جلیا فانما یتم ان کانت الواوالمستویۃ وھو باطل قطعاقال تعالٰی ان اللہ وملٰئکتہ یصلون علی النبی۱ قال تعالٰی اغنٰھم اللہ ورسولہ۲الٰی غیر ذٰلک مما لایحصی ومع ذٰلک بحمدلالہ لیس ملحظہ ملحظ ھٰؤلاء الا بخاس الجاعلۃ اثبات المشیئۃ للنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم شرکا بنفسہ کما سمعت من امامھم السحیق ان ذاشان یختص باللہ عزوجل وان لامدخل فی لمخلوق ومشیتہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لایأتی بشیئ فلوکان یذھب مذھب ھٰؤلاء والعیاذباللہ لجعل ذکر مشیتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم شرکا مطلقا سواء فیہ الواو وثم کما علمت وھو قد سرح بجواز ماشاء اللہ ثم شاء محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فتثبت ولا تزل ۱۲منہ۔
اقول : (میں کہتاہوں )اس نکتہ کی طرف بعض بزرگوں کی توجہ نہ ہوئی، چنانچہ انہوں نے یوں کہنے کو تو جائز قرار دیا کہ ''جو چاہے اللہ پھر چاہیں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ''مگر گمان کیا کہ اگر ثم کی جگہ واو ہو توشرک جلی ہوگا ۔لیکن یہ استدلال توتب تام ہوتا اگر واو مقتضی مساوات ہوتی ، حالانکہ یہ قطعا باطل ہے ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا : بے شک اللہ تعالٰی اوراس کے فرشتے نبی کریم پر درود بھیجتے ہیں ۔ اورفرمایا : اللہ اوراس کے رسول نے غنی کردیا ۔ اس کے علاوہ بھی متعدد مقامات پر ایسا ہی ہے مگر باوجود اس عدم توجہ کے ان بزرگوں کا مطمع نظر بحمدللہ وہ نہیں جو ان کمینے وہابیوں کا ہے جو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کےلئے مشیت کے محض اثبات کو ہی شرک قرار دیتے ہیں جیسا تو ان کے ذلیل امام کی بات سن چکا ہے کہ یہ خاص اللہ تعالٰی کی شان ہے اس میں کسی مخلو ق کا کوئی دخل نہیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔اگر ان بزرگوں کا نظریہ وہی ہوتا جو ان وہابیوں کا ہے تو العیاذباللہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مشیت کے ذکر کو مطلقاً شرک قرار دیتے چاہے اس میں واؤمذکور ہویا ثم ،جیس اکہ تو جان چکا ہے ، حالانکہ انہوں نے تصریح فرمائی ہے کہ یوں کہنا جائز ہے ''جو چاہے اللہ پھر چاہیں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ''ثابت قدم رہ مت ڈگمگا۔۱۲مہ (ت)
(۱القرآن الکریم ۳۳ /۵۶)
(۲القرآن الکریم ۹ /۷۴)
حکمت :
جب اس یہودی خبیث نے جس کے خیالات امام الوہابیہ کے مثل تھے ، اعتراض کیا او رمعاذاللہ شرک کا الزام دیا ، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی رائے کریم کا زیادہ رجحان اسی طرف ہو اکہ ایسے لفظ کو جس میں احمق بدعقل مخالف جائے طعن جانے دوسرے سہل لفظ سے بدل دیا جائے کہ صحابہ کرام کا مطلب تبرک وتوسل برقرار رہے اورمخالف کج فہم کو گنجائش نہ ملے مگر یہ بات طرز عبارت کے ایک گونہ آداب سے تھی معناًتو قطعاً صحیح تھی لہذا اس کافر کے بکنے کے بعد بھی چنداں لحاظ نہ فرمایا گیا یہاں تک کہ طفیل بن سنجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وہ خواب دیکھا اور رؤیائے صادقہ القائے ملک ہوتاہے اب اس خیال کی زیادہ تقویت ہوئی اورظاہر ہوا کہ بارگاہ عزت میں یہی ٹھہرا ہے کہ یہ لفظ محالفوں کا جائے پناہ ٹھہرا ہے بدل دیا جائے جس طرح رب العزۃجل جلالہ، نے راعنا کہنے سے منع فرمایا تھا کہ یہود وعنود اسے اپنے مقصد مردود کا ذریعہ کرتے ہیں اور اس کی جگہ انظرنا کہنے کا ارشاد ہوا تھا ولہذا خواب میں کسی بندہ صالح کو اعتراض کرتے نہ دیکھا کہ یوں تو بات فی نفسہٖ محل اعتراض نہ ٹھہرتی بلکہ خواب بھی دیکھا تو انہیں یہود ونصارٰی اس امام الوہابیہ کے خیالوں کو معترض دیکھاتاکہ ظاہر وکہ صر فدہن دوزی مخالفان کی مصلحت داعی تبدیل لفظ ہے ۔ اب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خطبہ فرمایا اورارشاد فرمایاکہ یوں نہ کہو کہ اللہ ورسول چاہیں تو کام ہوگا بلکہ یوں کہو کہ اللہ پھر اللہ کا رسول چاہے تو کام ہوگا۔ ''پھر ''کا لفظ کہنے سے وہ توہمّ مساوات کہ ان وہابی خیال کے یہود ونصارٰی یایوں کہئے کہ ان یہودی خیال کے وہابیوں کو گزرتا ہے باقی نہ رہے گا
الحمدللہ علی تواتر اٰلائہٖ والصلٰوۃ والسلام علی انبیائہ
(تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کیلئے ہیں اسکی مسلسل نعمتوں پر ، اور دروودوسلام ہواسکے نبیوں پر۔)
اہل انصاف ودین ملاحظہ فرمائیں کہ یہ تقریر منیر کہ فیض قدیر سے قلب فقیر پر القاء ہوئی کیسی واضح ومستنیر ہے ان احادیث کو ایک مسلسل سلک گوہریں میں منظوم کیا اورتمام مدارج مراتب مرتبہ حمدللہ تعالٰی نورانی نقشہ کھینچ دیا۔ الحمدللہ کہ یہ حدیث فہمی ہم اہلسنت ہی کا حصہ ہے ،وہابیہ وغیرہم بدمذہبوں کو ا س کیا علاقہ ہے ،
ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم ، والحمدللہ رب العٰلمین
(یہ اللہ تعالٰی کا فضل ہے جسے چاہتاہے عطا کرتاہے ، اوراللہ بڑے فضل والا ہے ، اورسب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ت) غرض احادیث صحیحہ ثابتہ تو اس دروغ گوکو تابخانہ پہنچا رہی ہیں ۔ رہی وہ روایت مقطعہ کہ اس نے ذکر کی اوریونہی روایت (عہ) اعتبار ام المومنین صدیقہ سے کہ یہود کے اعتراض پر فرمایا یوں کہ کہو بلکہ کہو ماشاء اللہ وحدہ،۔
عہ : ای کتاب الاعتبار للحاوی ۱۲
اقول :
اگر صحیح بھی ہوتو نہ ہمٰن مضر نہ اسے مفید کہ واوسے احتراز کی دو صورتیں ہیں : تبدیل حرف جس کی طرف وہ احادیث صحیحہ ارشاد فرمارہی ہیں ، اوررأساًترک عطف جس کا اس روایت میں ذکر آیا۔ ایک صورت دوسری کی نافی ومنافی نہیں ، نہ ذاتی میں حصر عطائی کی نفی کرے ،
قال اللہ تعالٰی :
فلم تقتلوھم ولٰکن اللہ قتلھم وما رمتی اذ رمیت ولٰکن اللہ رمٰی ۱۔
تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اوراے محبوب !وہ خا تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی ۔ (ت)
(۱القرآن الکریم ۸ /۱۷)
اورجب بحمدہٖ تعالٰی ہم خود حدیث سے ماشاء اللہ ثم شاء فلان کی طرح ماشاء اللہ ثم شاء محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بھی اجازت دکھاچکے تو اب اصلاً ہمیں ان نکات وتوجیہات کی حاجت نہ رہی جو شراح نے اس روایت منقطعہ اوراس حدیث مستقل میں بظاہر ایک نوع تغایر کے لحاظ سے ذکر کئے ہیں۔ شیخ محقق قدس سرہ، نے یہاں یہ نکتہ ذکر فرمایا :
دریں جا غایت بندگی وتواضع وتوحید ست زیرا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اسناد مشیت اگرچہ بطریق تاخر وتبعیت باشد تجویز کردامادرحق خود بآں نیز راضی نہ شد بلکہ امر کر دباسناد مشیت بہ پروردگار تعالٰی تنہا بے توہم شرکت۱۔
یہاں انتہائی بندگی ، انکساری اورتوحید ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے غیر کی طرف اسناد مشیت کو جائز قرار دیا اگرچہ بطور تاخر وتبعیت ، لیکن اپنے لئے اس کی بھی اجازت دینے پر راضی نہ ہوئے بلکہ فقط پروردگار عالم کی طرف بے توہم شرکت مشیت کا اسناد کرنے کا حکم دیا۔ (ت)
(۱اشعۃ اللمعات کتاب الادب باب الاسامی الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۵۳)
اقول : یہ توجیہہ بھی شرک امام الوہابیہ کی کیفر چشانی کو بس ہے ۔ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تواضعاً اپنی مشیت کا ذکر کرنے کو نہ فرمایا اوروں کے ذکر مشیت کی اجازت دی ، اگر شرک ہو تو معاذاللہ یہ ٹھہرے گی کہ حضور انے اپنی ذات کریم کو شریک خدا کرنے سے منع فرمایا اورزید عمرکو شریک کردینا جائز رکھا۔ علامہ طیبی نے ایک اورتوجیہ لطیف ودقیق کی طرف اشارہ کیاکہ :
انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رأس الموحدین ومشیئتہ، معمورۃ فی مشیئۃ اللہ تعالٰی ومضمحلۃ فیھا۲۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سردار موحّدین ہیں اورحضور کی مشیئت اللہ عزوجل کی مشیئت میں مستغرق وگم ہے ۔
(۲الکاشف عن حقائق السنن شرح الطیبی علی المشکوٰۃ کتاب الادب حدیث ۴۷۷۹ اداراۃ القرآن کراچی ۹ /۷۹)