نیز ابن ماجہ واحمد وبغوی وابن قانع وغیرہم نے یہی مضمون طفیل بن سخبرۃ برادر مادری ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا:
بیدانہ اعنی ابن ماجہ ۳احالہ علی حدیث حذیفۃ فقال نحوہ ولم یسق لفظہ۔
سوائے اس کے کہ ابن ماجہ نے اسکو حدیث حذیفہ کی طرف پھیرتے ہوئے نحوہ، کہا ہے اس کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔(ت)
(۳سنن ابن ماجۃ ابواب الکفارات باب النہی ان یقال ما شاء اللہ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۴)
اورمسند امام احمد بسند حسن صحیح کہ حدثنا بھز وعفان ثنا حماد بن سلمۃ عن عبدالملک بن عمیر عن ربعی بن ھراش عن طفیل بن سخبرۃ اخی عائشۃ لامھا رضی اللہ تعالٰی عنہما یوں ہے کہ انہیں خواب میں کچھ یہودی ملے انہوں نے ابنیت عزیرعلیہ الصلٰوۃ والسلام ماننے کا ان پر اعتراض کیا انہوں نے کہا تم خاص کا مل لوگ ہوا گر ویں نہ کہو کہ جو چاہے اللہ اورچاہیں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، پھر کچھ نصارٰی ملے ان سے بھی ابنیت مسیح کے جواب میں یہی سنا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے خواب عرض کیا ، حضور نے خطبے میں بعد حمدوثناء الٰہی فرمایا :
انکم کنتم تقولون کلمۃ کان یمنعنی الحیاء منکن ان انھٰکم عنہا لاتقولوا ماشاء اللہ وما شاء محمد۱۔
تم لوگ ایک بات کہا کرتے تھے مجھے تمہارا لحاظ روکتاتھا کہ تمہیں اس سے منع کرودوں یوں نہ کہو جو چاہے اللہ اورجو چاہیں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ۔
(۱ مسند احمد بن حنبل حدیث طفیل بن سخبرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۷۲)
حدیث ۱۷۴:
سنن نسائی میں بسند صحیح بطریق مسعرعن معبدبن خالد عن عبداللہ بن یسارٍ قتیلہ بنت صیفی جہنیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :
ان یہودیا اتی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقال انکم تنددون وانکم تشرکون تقولون ماشاء اللہ وشئت وتقولون والکعبۃ فامرھم النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اذا اراد وان یحلفواان یقولوا ورب الکعبۃ ویقول احد ماشاء اللہ ثم شئت ۲۔
یعنی ایک یہودی نے خدمت اقدس حضورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حاضر ہوکر عرض کی : بیشک تم لوگ اللہ کا برابروالا ٹھہراتے ہو بیشک تم لوگ شرک کرتے ہو یوں کہتے ہوجو چاہے اللہ چاہو توم ، اورکعبے کی قسم کھاتے ہو۔اس پر سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو فرمایا کہ قسم کھانا چاہیں تو یوں کہیں''رب کعبہ کی قسم ''اورکہنے والا یوں کہے ''جو چاہے اللہ اورپھر جو چاہو تم۔''
(۲سنن النسائی کتاب الایمان والنذور الحلف بالکعبۃ نورمحمد کارخانہ کرچی ۲ /۱۴۳)
یہ حدیث سنن بیہقی ۳میں بھی ہے ،
(۳السنن الکبرٰی کتاب الجمعۃ باب مایکرہ من الکلام فی الخطبۃ دارصادر بیروت ۳ /۲۱۲)
(الطبقات الکبرٰی لابن سعد تسمیۃ غرائب نساء العرب دارصادر بیروت ۸ /۳۰۹)
(المعجم الکبیر عن قتیلۃ بنت صیفی الجہنیہ حدیث ۵المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۵ /۱۴و۱۵)
نیز ابن سعد نے طبقات اور طبرانی معجم کبیر میں میں بطریق مذکور مسعر اور ابن مندہ نے بطریق المسعودی عن معبدن الجدلی عن ابن یسارن الجھنی عن قتیلۃ الجھنیۃ رضی اللہ تعالٰی عنہا روایت کی اورامام احمد نے مسند میں اس طریق مسعودی سے بسند صحیح یوں روایت فرمائی :
حدثنا یحیٰی بن سعید ثنا یحیی المسعودی ثنی معبد بن خالد عن عبداللہ بن یسارعن قتیلۃ بنت صیفی ن الجھنیۃ ، قالت اتٰی خبر من الاخبار رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقال یا محمد نعم القوم انتم لولا انکم تشرکون قال سبحان اللہ وما ذاک قال تقولون اذا حلفتم ولکعبۃ قالت فامھل رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم شیأا ثم قال انہ قد قال فمن حلف فلیحلف برب الکعبۃ قال یا محمد نعم القوم انتم لولا انکم تجعلون للہ ندًّا قال سبحان اللہ وما ذاک قال تقولون ما شاء اللہ وشئت قالت فامھل رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم شیئا قال انہ قد قال ماشاء اللہ فلیفصل بینھما ثم شئت ۱۔
یعنی یہود کے ایک عالم نے خدمت اقدس حضورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضرہوکر عرض کی ، اے محمد!آپ بہت عمدہ لوگ ہیں اگر شرک نہ کیجئے ۔ فرمایا : سبحان اللہ !یہ کیا۔ کہا:آپ کعبہ کی قسم کھاتے ہیں ۔ اس پر سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کچھ مہلت دی یعنی ایک مدت تک کچھ ممانعت نہ فرمائی ، پھر فرمایا : یہودی نے ایسا کہا ہے تو اب جو قسم کھائے وہ رب کعبہ کی قسم کھائے ۔ یہودی نے عرض کی : اے محمد ! آپ بہت عمدہ لوگ ہیں اگر اللہ کا برابر نہ ٹھہرائےے ۔ فرمایا: سبحان اللہ !یہ کیا ۔ کہا : آپ کہتے ہیں جو چاہے اللہ اورچاہو تم۔ اس پر بھی سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک مہلت تک کچھ نہ فرمایا ، بعدہ، فرمادیا : اس یہودی نے ایسا کہا ہے تو اب جو کہے کہ جو چاہے للہ تعالٰی تو دوسرے کے چاہنے کو جدا کر کے کہے کپ پھر چاہو تم۔
(۱مسند احمد بن حنبل عن قتیلہ بنت صیفی حدیث قتیلہ المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۳۷۱و۳۷۲)
بحمد اللہ یہ احادیث کثیرہ صحیحہ جلیلہ متصلہ کتب صحاح سے ہیں، امام الوہابیہ نے ان سب کو بالائے طاق رکھ کر شرح السنہ کی ایک روایت منقطع دکھائی اوربحمداللہ اس میں بھی کہیں اپنے حکم شرک کی بو نہ پائی ۔
اقول : وباللہ التوفیق
اب بفضلہ تعالٰی ملاحظہ کیجئے کہ یہی حدیثیں اسکے دعوٰی شرک کو کس کس طرح جہنم رسید فرماتی ہیں :
اولاً :
ان احادیث سے ثابت کہ صحابہ کرام میں قول کہ اللہ ورسول چاہیں تو یہ کام ہوجائیگا یا اللہ اورتم چاہو تو یوں ہوگا شائع وذائع تھا اورحضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس پر مطلع تھے اور انکار نہ فرماتے تھے بلکہ اس عالم یہود کے ظاہر الفاظ تو یہ ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خود بھی ایسا فرمایا کرتے تھے ، امام الوہابیہ اسے شرک کہتاہے ، تو ثابت ہوا کہ اس کے نزدیک صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم شرک کرتے تھے اورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم منع نہ فرماتے تھے۔
ثانیاً :
حدیث طفیل رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لفظ دیکھو کہ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''اس لفظ کا خیال مجھے بھی گزرتا تھا مگر تمہارے لحاظ سے منع نہ کرتا تھا ۔''جب یہ لفظ امام الوہابیہ کے نزدیک شرک ٹھہرا تو معاذاللہ نبی نے دانستہ شرک کو گواراکیا اوراس سے ممانعت پر اپنے یاروں کے لحاظ پاس کو غلبہ دیا اور امام الوہابیہ کے یہاں یہ نبوت کی شان ہے ،
والعیاذباللہ باللہ رب العالمین ۔
ثالثاً :
ایک یہودی نے آکر اعتراض کیا اس کے بعد حکم ممانعت ہوا، تو امام الوہابیہ کے نزدیک صحابہ کرام بلکہ سید انام علیہ الصلٰوۃ والسلام کو سچی توحید اوراس پر استقامت کی تاکید ایک یہودی نے سکھائی
ولا حول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم۔
رابعاً :
قتیلہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کہ حدیث صحیح دیکھو، اس یہودی کی عرض پر بھی فوراً حضور نے ممانعت نہ فرمائی بلکہ ایک زمانہ کے بعد خیال آیا اوفرمایا : وہ یہودی اعتراض کر گیا ہے اچھا یوں نہ کہا کرو۔ تو امام الوہابیہ کے نزدیک اللہ کے رسول نے آپ تو شرک سے نہ روکا یا شرک کو شرک نہ جانا جب ایک کافر نے بتایا اس پر بھی ایک مدت تک شرک کو روا رکھا پھر ممانعت بھی کی تو یوں نہیں کی شرک کی برائی سے ، بلکہ یوں کہ ایک مخالف اعتراض کرتا ہے لہذا چھوڑدو ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
خامساً :
ان سب دقتوں کے بعد جو تعلیم فرمائی وہ بھی ہماں آس درکاسہ لائی ارشادہوا کہ یوں کہا کرو ''جو چاہے اللہ پھر چاہیں محمد'' صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ تو یہ کام ہوگا ، امام الوہابیہ کے لفظ یا دکیجئے :
''یہ خاص اللہ کی شان ہے اس میں کسی مخلو ق کو دخل نہیں رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۱۔''
(۱تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴۰)
مسلمانو! لِلہ انصاف ،جو بات خاص شان الٰہی عزوجل ہے جس میں کسی مخلوق کو کچھ دخل نہیں اس میں دوسرے کو خد اکے ساتھ ''اور ''کہہ کر ملایات تو کیا ، شرک سے کیونکر نجات ہوجائے گی ۔ مثلاً آسمان وزمین کا خالق ہونا ، اپنی ذاتی قدرت سے تمام اولین وآخرین کا رازق ہونا خاص خدا کی شانیں ہیں ۔ کیا اگر کوئی یوں کہے کہ اللہ ورسول خالق السمٰوٰت والارض ہیں ، اللہ ورسول اپنی ذاتی قدرت سے رازق عالم ہیں جبھی شرک ہوگا۔ اور اگرکہے کہ اللہ پھر رسول خالق السمٰوٰت والارض ہیں ، اللہ پھر رسول اپنی ذاتی قدرت سے رازق جہاں ہیں تو شرک نہ ہوگا۔