او ربڑھ کر سنئے ، شرک فی العادۃ کے بیان میں لکھا : ''اللہ صاحب نے اپنے بندوں کو سکھایا ہے کہ دنیا کے کاموں میں اللہ کو یاد رکھیں اوراس کو کچھ تعظیم کرتے رہیں جیسے اولاد کا نام عبداللہ ، خدا بخش رکھنا جس چیز کو فرمایا اس کو برتنا جو منع کیا اس سے دور رہنا اوریوں کہنا کہ اللہ چاہے تو ہم فلانا کام کرینگے اوراس کے نام کی قسم کھانی اس قسم کی چیزیں اللہ نے اپنی تعظیم کے واسطے بتائی ہیں پھر کوئی کسی انبیاء اولیاء بھوت پری کی اس قسم کی تعظیم کرے جیسے اولاد کا نام عبدالنبی امام بخش رکھنے کھانے پینے پہننے میں رسموں کی سند پکڑے یا یوں کہے کہ اللہ ورسول چاہے گا تو میں آؤں گا یا پیغمبر کی قسم کھاوے سو ان سب باتوں سے شرک ثابت ہوتاہے اس کو اشراک فی العادۃ کہتے ہیں۳۔''
پھر اس شرک کی فصل میں اس مدعا کے ثبوت کو مشکوٰۃ کے باب الاسامی سے شرح السنہ کی حدیث بروایت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ لایا کہ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لاتقولوا ماشاء اللہ وشاء محمد وقولوا ما شاء اللہ وحدہ۱ ۔
نہ کہو جو چاہے اللہ اورمحمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یوں کہو کہ جو چاہے ایک اللہ۔
(۱تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴۰)
اوراس پر یہ فائدہ چڑھایا: ''یعنی جو کہ اللہ کی شان ہے اوراس میں کسی مخلو ق کو دخل نہیں سو اس میں اللہ کے ساتھ کسی مخلوق کو نہ ملادے گوکیساہی بڑا ہو مثلاً یوں نہ بولو کہ اللہ ورسول چاہے گا تو فلاں کام ہوجائے گا کہ ساراکاروبار جہاں کا اللہ ہی کے چاہے سے ہوتاہے رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۲۔''
(۲تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴۰)
اقول : وباللہ التوفیق اولاً :
وہی قدیملت وہی پرانی علت کو دعوے کے وقت آسمان نشین اور دلیل لانے میں ا سفل السافلین ۔ حدیث میں تواتنا ہے کہ ''یوں نہ کہو ''وہ شرک کا حکم کدھر گیا۔
ثانیاً :
سخت عیاری ومکاری کی چال چلا ، مشکوٰۃ شریف کے باب مذکور میں حدیث حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ یوں مذکور تھی کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : لاتقولوا ماشاء اللہ وشاء فلان ولٰکن قولوا ماشاء اللہ ثم شاء فلان۳۔ نہ کہو جو چاہے اللہ اورچاہے فلاں بلکہ یوں کہو جو چاہے اللہ پھر چاہے فلاں ۔
(۳مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب باب الاسلامی قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۰۸)
مشکوٰۃ میں اسے مسند امام احمد وسنن ابی داود کی طرف نسبت کر کے فرمایا :
وفی روایۃٍ ۴منقطعاً
(۴مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب باب الاسلامی قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۰۸،۴۰۹)
او رایک روایت منقطع یعنی جس کی سند نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک متصل نہیں یوں آئی ہے یہاں وہ روایت شرح السنہ ذکر کی ہوشیار عیار نے دیکھا کہ اصل حدیث تو اس کے دعوٰی شرک کو داخل جہنم کئے دیتی ہے اسے صاف الگ اڑا گیا اورفقط یہ منقطع روایت نقل کرلیا ۔ کیا یہ سمجھتا تھا کہ مشکوٰۃ اہل علم کی نظر سے نہاں ہے ، نہیں نہیں ، خوب جانتاتھا کہ مبتدی طالب علم حدیث میں پہلے اسی کو پڑھتا ہے مگر اسے تو ان بیچارے عوام کو چھَلنا مقصود تھا جنہیں علم کی ہوا نہ لگی سمجھ لیا کہ ان پراندھیری ڈال ہی لوں گا ، اہل علم نے اورکون سی مانی ہے کہ اسی پر معترض ہونگے ۔
ع اس آنکھ سے ڈریے جو خدا سے نہ ڈرے آنکھ
ثالثاً :
امام الوہابیہ کا تو مبلغ علم یہی مشکوٰۃ ہے ، ہم اس مطلب کی احادیث اول ذکر کریں پھر بتوفیقہٖ تعالٰی ثابت کردکھائیں کہ یہی حدیثیں اس کے شرک کا کیسا سرتوڑتی ہیں ۔ اول تو یہی حدیث حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی (حدیث ۱۷۱) احمد وابی داؤد نے یوں مختصر اً اورابن ماجہ نے بسند حسن اس طرح مطولاً روایت کی :
حدثنا ھشام بن عمار ثنا سفیان بن عیینہ عن عبدالملک بن عمیر عن ربعی بن حراش عن حذیفۃ بن الیمان رضی اللہ تعالٰی عنہما ان رجلاًمن المسلمین راٰی فی النوم انہ لقی رجلاً من اھل الکتاب فقال نعم القوم انتم لولا انکم تشرکون تقولون ما شاء اللہ وشاء محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وذکر ذٰلک للنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقال اما واللہ ان کنت لاعرفھا لکم قولواما شاء اللہ ثم ماشاء محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۱ ۔
یعنی اہل اسلام سے کسی صاحب کو خواب میں ایک کتابی ملا وہ بولا : تم بہت خوب لوگ ہو اگر شرک نہ کرتے تم کہتے ہوجو چاہے اللہ اورچاہیں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ ان مسلم نے یہ خواب حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی، فرمایا : سنتے ہو خدا کی قسم تمہاری اس بات پر مجھے بھی خیال گزرتا تھا یوں کہا کرو جو چاہے اللہ پھر جو چاہیں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
(۱مسند احمد بن حنبل حدیث حذیفۃ بن الیمان المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۳۹۳)
(سنن ابی داود ، کتاب الادب باب منہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۴)
(سنن ابن ماجۃ ابواب الکفارات باب النہی ان یقال ماشاء اللہ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۴)
یہ حدیث ابن ابی شیبہ ۱وطبرانی وبیہقی وغیرہم نے بھی روایت کی۔
(۱اتحاف السادۃ بحوالہ ابن ابی شیبۃ الآفۃ التاسعۃ عشر دارالفکر بیروت ۷ /۵۷۴)
(اتحاف السادۃ بحوالہ المعجم الکبیر الآفۃ التاسعۃ عشر دارالفکر بیروت ۷ /۵۷۴)
(الاسماء والصفات باب قول اللہ عزوجل وما تشاؤن الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۱ /۲۳۷و۲۳۸)
حدیث ۱۷۲:
ابن ماجہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
اذا حلف احدکم فلا یقل ماشاء اللہ وشئت ولٰکن لیقل ماشاء اللہ ثم شئت ۲۔
جب تم میں سے کوئی شخص قسم کھائے تو یوں نہ کہے کہ جو چاہے اللہ اورمیں چاہوں ، ہاں یوں کہے کہ جو چاہے اللہ پھر میں چاہوں۔
(۲سنن ابن ماجۃ ابواب الکفارات باب النہی ان یقال ما شاء اللہ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۴)