Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
161 - 212
حدیث ۱۷۰ :
معافی نے کتاب الجلیس والانیس میں بطریق حرمازی ابوعبیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، مالک بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ رئیس ہواز اسلام لاکر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اورحضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اپنا وہ قصیدہ نعتیہ سنایا (جس میں اسی مضمون کے شعر ذکر کئے )
فقال لہ، خیراً وکساہ حلّۃ
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کے حق میں کلمہ خیر فرمایا اور انہیں خلعت پہنایا ۔
ذکرھما الحافظ فی الاصابۃ۲؂
 (ان دونوں روایتوں کو حافظ نے اصابہ میں بیان کیا۔ت)
 (۲؂الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ الجلیس والانیس للمعانی ترجمہ ۷۶۷۲ مالک بن عوف دارالفکر بیروت     ۵ /۴۵)
اقول :
رضوان الٰہی کے بے شمار اباران یاران مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر برسیں یوں نہ کہا کہ متی یشاء جب وہ چاہیں تجھے غیب کی خبر دے دیں ۔ اس میں اس صورت پر بھی صادق آسکنے کا احتمال رہتا، جب بتانے والے کو کوئی اختیار نہ دیا جائے بلکہ سال دو سال میں ایک آدھ بات پر اطلاع عطا ہوا یسا جاننے والا بھی تو ریہ وایہام کے طور پر کہہ سکتاہے کہ جب چاہوں گا تمہین غیب کی خبر دے دوں کہ وہ اس وقت چاہے گا جب اسے اتفاق سے کوئی خبر ملے گی تو شرطیہ سچا ہے بلکہ یوں فرمایا کہ جب تُو چاہے وہ تجھے غیب کی کبر دے دیں گے ، یہاں سائل مطلق مخاطب ہے کسے باشد نہ وہ معین نہ ا سکے پوچھنے کا وقت محدود نہ غدٍ معرفہ بلکہ نکرہ غیر مخصوص ، تو حاصل یہ ٹھہرے گا کہ جو شخص چاہے جس وقت چاہے جس آئندہ بات کو چاہے حضور بتادیں گے ، یہ اسی کی شان ہوسکتی ہے جو بالفعل تما م آئندہ باتوں کو جانتاہو یا اطلاع غیب اس کے ارادہ وخواہش پر کردی گئی ہو کہ جب چاہے معلوم کرلے ورنہ یہ اطلاق ہرگز صادق نہیں آسکتا ، اسے ایک نظیر محسوس میں دیکھئے ۔ زید فقیر ہے نہ پاس کچھ رکھتا ہے نہ بادشاہی خوانوں پر اس کا ہاتھ پہنچتا ہے مگر بادشاہ کبھی کبھی اسے دوچار توڑے بخش دیتاہے وہ شخص پہلو رکھ کر یہ کہے تو کہہ لے کہ میں جب چاہوں ایک توڑا خیرات کردوں کہ وہ آپ ہی اسی وقت چاہے گا جب پائے گا مگر عام فقیروں کو اشتہار دے کر تم جس وقت چاہو میں توڑا عطاکردوں ، توضرور غلط کہا ،اوردم بھر میں اس کا دروغ کھل سکتاہے ، فقیر مانگیں اورنہ مال ہے نہ خزانے پر اختیار ، تو کہاں سے دے گا، ہاں اگر بادشاہ نے بالفعل ایسے خزانے دے دئے کہ جب کوئی کچھ مانگے یہ دے اورکمی نہ ہو، یا بالفعل نہ سہی تو خزانوں  پر اختیار ہی دیا ہوکہ جس وقت جو چاہے لے لے تو وہ بیشک ایسی بات کہہ سکتاہے ۔ اب یہ حدیثیں فرمارہی ہیں کہ صحابی یہ سفت کریم حضو ر کی نعت اقدس میں عرض کرتے ہیں اورحضور انکار نہیں فرماتے بلکہ خلعت وانعام بخشتے ہیں ، توصراحۃً یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالٰی نے اطلاع غیب حضور کے ارادہ واختیار پر رکھ دی ہے ، اورواقعی انبیاء کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام کی شان ایسی ہی ہے ،
 امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی فرماتے ہیں:
النبوۃ عبارۃ عما یختص بہ النبی ویفارق بہ غیرہ وھو یختص بانواع من الخواص ،

 احدھا : انہ یعرف حقائق الامور المتعلقۃ باللہ تعالٰی وصفاتہ وملٰئکتہ والدارالاٰخرۃ علما مخالفاً لعلم غیرہٖ بکثرۃ المعلومات وزیادۃ الکشف والتحقیق ، 

ثانیھا:  ان لہ فی نفسہ صفۃ بھا تتم الافعال الکارقۃ للعادۃ کما ان لنا صفۃ تتم بھا الحرکات المقرونۃ بارادتنا وھی القدرۃ ،  

ثالثھا:  ان لہ، صفۃ بھا یبصر الملٰئکۃ ویشاھدھم کما ان للبصیر صفۃ بھا یفارق الاعمٰی ،

 رابعھا:  ان لہ، صفۃ بھا یدرک ماسیکون فی الغیب ۔ نقلہ عنہ العلامۃ الزرقانی فی صدرشرح المواھب۱؂۔
یعنی نبوت وہ چیز ہے جو نبی کے ساتھ خاص ہے اورنبی اس کے سبب اوروں سے ممتاز ہے اوروہ کئی قسم کے خاصے ہیں جنسے نبی مختص ہوتاہے ،

 ایک  : یہ کہ جو امور اللہ عزوجل کے ذات وصفات اورملائکہ وآخرت سے متعلق ہیں نبی انکے حقائق کا ایساعلم رکھتا ہے کہ اوروں کے علم زیادت معلومات وفزونی تحقیق وانکشاف میں ان سے نسبت نہیں رکھتے ۔

دوم  : یہ کہ نبی کے لیے اس کی زات میں ایک وصف ہوتاہے جس سے افعال خلاف عادت (جنہیں معجزہ کہتے ہیں )انصرام پاتے ہیں جس طرح ہمارے لئے ایک صفت ہے کہ اس سے ہماری حرکات ارادیہ پوری ہوتی ہیں جسے قدرت کہتے ہیں ۔ 

سوم  : یہ کہ نبی کے لیے ایک صفت ہوتی ہے جس سے وہ ملائکہ کو دیکھتاہے جس طرح انکھیارے کے پاس ایک صفت ہوتی ہے جس کے باعث وہ اندھے سے ممتاز ہے ۔

 چہارم :  یہ کہ نبی کے لیے ایک صفت ہوتی ہے جس سے وہ آئندہ غیب کی باتیں جان لیتاہے ۔(علامہ زرقانی علیہ الرحمۃ نے شرح المواھب کے آغاز میں اسے امام غزالی علیہ الرحمۃ نے نقل کیا۔ت)
 (۱؂شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ بحوالۃ الغزالی مقدمۃ الکتاب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۹،۲۰)
اقول : مسلمانو!اس حدیث شریف اوران امام باعظمت ان حکیم امت قدس سرہ المنیف کے ارشاد لطیف کوامام الوہابیہ کے قول کثیف سے ملا کر دیکھو کہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام کے بارے میں اہل حق واہل باطل کے عقائد کا فرق ظاہر ہویہ فرماتے ہیں انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی زۤت میں رب عزوجل نے ایک صفت ایسی رکھی ہے جس سے وہ خرقِ عادت کرتے ہیں جس طرح ہم اپنے ارادے سے چلتے پھرتے ، حرکت کرتے ہیں ، ایک صفت رکھی ہے جس سے وہ ملائکہ کو دیکھتے ہیں، ایک صفت دی ہے جس سے وہ غیب کی آئندہ باتیں جانتے ہیں ۔ یہ کہتا ہے : ''ان کو کسی نوع کی قدرت نہیں ، کسی کام میں نہ بالفعل ان کو دخل ہے نہ اس کی طاقت رکھتے ہیں ۔ ایضاً کچھ اس بات میں بھی ان کو بڑائی نہیں کہ اللہ صاحب نے غیب دانی ان کے اختیار میں دی ہوکہ جس آئندہ بات کو جب ارادہ کریں تو دریافت کرلیں کہ فلانے کی اولاد ہوگی یا نہ ہوگی، یا اس سوداگری میں اس کو فائدہ ہوگا یا نہ ہوگا، یا اس لڑائی میں فتح پاوے گا یا شکست کہ ان باتوں میں بھی سب بندے بڑے ہوں یا چھوٹے یکساں بے خبر ہیں اورنادان ۔ ایضاً جو کچھ اللہ اپنے بندوں سے معاملہ کرے گا دنیا خواہ قبرخواہ آخرت میں اس کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں نہ نبی کو نہ ولی کو ، نہ اپنا حال نہ دوسرے کا ، اوراگر کچھ بات اللہ نے کسی مقبول بندے کو وحی یا الہام سے بتائی کہ فلانے کا م کا انجام بخیر ہے یا برا، سو وہ مجمل ہے اوراس سے زیادہ معلوم کرلینا اوراس کی تفصیل دریافت کرنی ان کے اختیار سے باہر ہے ۲؂۔''
 (۲؂تقویۃ الایمان الفصل الثانی فی ردالاشراک فی العلم          مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۷)
اقول:  اتنا لفظ سچ ہے کہ اللہ عزوجل کے بتانے سے زیادہ کوئی معلوم نہیں کرسکتا ۔ ہمارے اختیاری افعل کب عطائے الٰہی وارادئہ الٰہیہ سے بڑھ کر ہوسکتے ہیں مگر
کلمۃ حق ارید بھا باطل
 (کلمہ حق ہے جس سے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے ۔ت)خوارج کی طرح یہ سچا لفظ اس نے باطل ارادے سے کہا ہے وہ اس سے ان کے اختیار عطائی کا بھی سلب چاہتاہے یعنی ابنیاء علیہم الصلٰوۃ والتسلیم کو خدا کا دیا ہوا اختیار بھی نہیں بلکہ عاجز ومجبو رمحض ہیں۔
اس نے صاف تصریح کی ہے کہ : ''ظاہر کی چیزوں کو دریافت کرنا لوگوں کے اختیار میں ہے جب چاہیں کریں جب چاہیں نہ کریں ، سواس طرح غیب کا دریافت کرنا اپنے اختیار میں ہو کہ جب چاہے دریافت کرلیجئے یہ اللہ صاحب ہی کی شان ہے ، کسی نبی و ولی کو بھوت وپری کو اللہ صاحب نے یہ طاقت نہیں بخشی، اللہ صاحب اپنے ارادے سے کبھی کسی کو جتنی بات چاہتا ہے خبردیتاہے ، سویہ اپنے ارادے کے موافق نہ ان کی خواہش پر ۱؂۔''
(۱؂تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۴)
اسی کے اس اعتقاد باطل کا حدیث مذکوروقول مسطور امام مشہور میں ردّصریح ہے ۔
بالجملہ فرق یہ ہے کہ حدیث کے ارشاد اوران کے مطابق اہل حق کے اعتقاد میں انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام اظہار خوارق وادراک غیب میں انسان مختار بعطائے قادر جلیل الاقتدار ہیں کہ جس طرح عام آدمیوں کو ظاہری حرکات وظاہری ادراکات کے اختیارات حضرت واہب العطیات نے بخشے ہیں کہ جب چاہیں دست وپاک وجنبش دیں چاہیں نہ دیں، جب چاہیں آنکھ کھول کر چیز دیکھ لیں چاہیں نہ دیکھیں، اگرچہ بے خدا کے چاہے وہ کچھ نہیں چاہ سکتے ، اوروہ چاہیں خدا نہ چاہے تو ان کا چاہا کچھ نہیں ہوسکتا اوروہ عطائی اختیارات اس کے حقیقی ذاتی اختیارکے حضورکچھ نہیں چل سکتے بعینہٖ یہی حالت حضرات انبیائے کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام کی درباہ معجزات وادراک معیبات ہے کہ رب عزوجل نے انہیں ظاہری جوارح ومسع وبصر کی طرح باطنی سفات وہ عطافرمائی ہیں کہ جب چاہیں خرق عادات فرمادیں مغیبات کو معلوم فرمالیں چاہیں نہ فرمائیں اگرچہ بے خدا کے چاہے نہ وہ چاہ سکتے ہیں نہ بے ارادہ الٰہیہ ان کا ارادہ کام دے سکتا ہے ، اورامام الوہابیہ کے نزدیک ایسانہیں بلکہ انبیائے کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام پتھر کی طرح عاجز محض ومجبور مطلق ہیں کہ ہلانے والا محض اپنے قسری ارادے سے بے ان کے توسط اختیار عطائی کے اپنے ارادے کے موافق نہ ان کی خواہش پر ، ہلادے تو ہل جائیں ورنہ مجبور پڑے رہیں یہ کس ناکس اپنے اس خیال پر دلیل لایا کہ   :   ''چنانچہ پیغمبر کو بارہا ایسا اتفاق ہوا کہ بعض بات دریافت کرنے کی خواہش ہوئی اور وہ بات نہ معلوم ہوئی پھر جب اللہ صاحب کا ارادہ ہوا تو ایک آن میں بتا دی چنانچہ منافقوں نے حضرت عائشہ پرتہمت کی اورحضرت کو بڑا رنج ہوا اورکئی دن تک بہت تحقیق کیا کچھ حقیقت معلوم نہ ہوئی ، جب اللہ صاحب کا ارادہ ہوا تو بتادیا کہ منافق جھوٹے ہیں اورعائشہ پاک ۱؂۔''
 (۱؂تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۴)
اقول : اگراختیار ذاتی وعطائی میں فرق کی تمیز ہوتی تو جان لیتا کہ ایسے اتفاقات اختیار عطائی کے اصلاً منافی نہیں، مراد کا اکتیار سے متخلف نہ ہوسکتان قدرت ذاتیہ الٰہیہ کا خاصہ ہے ، قدرت عطائیہ انسانیہ میں لاکھ بار ایسا ہوتاہے کہ آدمی ایک کام کیا چاہتاہے اوراللہ نہیں چاہتانہیں بن پڑتا، اس سے نہ انسان پتھر ہوگیا نہ اس کا اختیار عطائی مسلوب، عطائی کی شان ہی یہ ہے کہ جب تک ارادہ ذاتیہ حقیقیہ الٰہیہ مساعدت نہ فرمائے کام نہیں دیتا۔ طرفہ قہر بر قہریہ ہے کہ ادھر تو تُو نے انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کو عیاذاً باللہ پتھر بنایا تھا ادھر اپنے معبود کو ایک آدمی کے برابر کر چھوڑا کہ  :   ''غیب کی بات دریافت کرنا اپنے اختیار میں ہوکہ جب چاہے کرلیجئے یہ اللہ صاحب کی شان ہے ۲؂۔''
(۲؂تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۴)
او اللہ عزوجل کو سخت عیب لاگانے والے بے ادب گستاخ !یہ ہرگز ہرگز اللہ تعالٰی کی شان نہیں، وہ اس بیہودہ مہمل شان سے پاک ومنزہ ہے اس کا علم اس کی صفت ذاتیہ ہے اس کے اختیار سے نہیں اس کا علم مخلوق نہیں ازلی ابدی ہے حادث نہیں۔ اوبدعقل بدزبان !غیب کا دریافت کرنا اختیار میں ہونے کے یہی معنٰی یا کچھ اورکہ بافعل تو معلوم نہیں مگر چاہے تو معلوم کرسکتاہے ،تُف بررُوئے بے دینی، یہ تیرا موہوم خدا جاہل بالفعل محل حوادث ہوگا سچا خدا تیری یہ صریح گالی ہے بے نہایت متعالی ہے
تعالٰی اللہ عما یقول الظٰلمون علوّاکبیرا
 (اللہ تعالٰی بہت بلند وبرتر ہے ۔ان باتوں سے جو ظالم کہتے ہیں ۔ت)
مسلمانو !دیکھاتم نے ، یہ ایمان ہے اس گمراہ کا انبیاء اورخود حضرت عزت کی جناب میں ،
انا للہ وانا الیہ راجعون ، ولا حول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم۔
خیر اس کی ضلالتیں کہاں تک لکھئے
ماعلی مثلہ یعد الخطاء
 (اس جیسے کی خطاؤں کا شمار نہیں کیاجاتا۔ت)حدیث دکھا کر اتنا پوچھئے کہ کیوں صاحب !وہاں تو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے غضب فرمایا نہ حکم شرک لگایا مگرانسار کی چھوکریوں کو اتنا ارشادہوا کہ اسے رہنے دو۔ یہاں جو یہ مرد عاقل یہ صحابی فاضل نعت حضور میں اس سے بھی زیادہ عظیم بات کررہے ہیں اورحدیث فرماتی ہے کہ حضور منع نہیں کرتے بلکہ اورانعام واکرام بخشتے ہیں۔ یہ شرک وہابیت پر کیسی آفت ہے ، اب یاد کر وہ اپنی اوندھی مت الٹی کھوپڑی ''چہ جائکہ عاقل مرد کہے یا سن کر پسند کرے۱؂''۔
 (۱؂تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۸)
کچھ یہ بھی سُوجھا کہ کہنے والے کون تھے اورسن کر پسند کرنیوالے کون
بل نقذف بالحق علی الباطل فید مغہ فاذا ھو زاھق ط ولکم الویل مما تصفون ۲؂۔
بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا بھیجہ نکال دیتاہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتاہے ، اورتمہاری خرابی ہے ان باتوں سے جو بناتے ہو۔ (ت)
(۲؂القرآن الکریم ۲۱/  ۱۸)
Flag Counter