یعنی سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس خطیب کا اللہ ورسول کو ایک ضمیر تثنیہ (عہ) میں جمع کرنا کہ جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی کو پسند نہ فرمایا اس میں برابری کا دہم نہ ہوجائے اورحکم دیا کہ یوں کہے کہ جس نے اللہ ورسول کی نافرمانی کی جس میں اللہ عزوجل کا نام اقدس نام پاک رسول سے تعظیماً مقدم رہے ۔
(۱شرح صحیح مسلم للقاضی عیاض کتاب الجمعۃ حدیث ۸۷۰دارالوفاء ۳ /۲۷۵)
(شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم للنووی کتاب الجمعۃ فصل فی ایجاز الخطبۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۸۶)
عہ : اقول ھذا ھو الصحیح علۃ ومنافاتہ حدیث ابی داود الاتی مند فعۃ بما ذکر العبد الضعیف غفر اللہ تعالٰی لہ اما ما استصوب الامام الاجل النووی رحمہ اللہ تعالٰی فی المنھاج ان سبب النھی ان الخطب شانھا البسط والایضاح واجتناب الاشار ات والرموز ومثل ھذا الضمیر قد تکر رفی الاحادیث الصحیحۃ من کام رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کقولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان یکون اللہ ورسولہ احب الیہ مما سواھما وانام ثنی الضمیر ھٰھنا الانہ لیس خطبۃ وعظ وانما ھو تعلیم حکم فکلما قل لفظ کان اقرب الٰی حفظہ بخلاف خطبۃ الوعظ فانہ لیس المراد حفظھما وانما یراد الا تعاظ بھا ۱اھ
اقول: (میں کہتاہوں) یہی علت درست ہے ، اورا سکی منافات حدیث ابو داود کے ساتھ جو کہ عنقریب آرہی ہے ، عبد ضعیف (اللہ تعالٰی اس کی مغفرت فرمائے )کے بیان مذکور کے ساتھ مندفع ہے ۔ امام اجل نوری علیہ الرحمہ نے منہاج میں جو خیال ظاہر فرمایا ہے کہ انہی کا سبب یہ ہے کہ خطبات کی شان یہ ہے کہ ان میں تفصیل وتوضیح سے کام لیاجائے اورارشادات ورموز سے اجتناب کیا جائے حالانکہ اس قسم کی ضمیر کا استعمال کلام رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں متعدد احادیث صحیحہ میں وارد ہے ۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ''اللہ ورسول کی محبت اس کے دل میں ان دونوں کے ماسوا سے زیادہ ہو۔''یہاں ضمیر تثنیہ اس لئے آپ نے استعمال فرمائی کہ یہ خطبہ ووعظ نہیں بلکہ حکم شرعی کیت علیم ہے ، چنانچہ لفظوں کی قلت انہیں حفظ کرنے کے زیادہ قریب ہے بخلاف خطبہ کے کہ اس میں حفظ الفاظ مقصد نہیں ہوتا بلکہ ان سے نصیحت حاصل کرنا مقصود ہوتاہے ۔اھ
(۱شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الجمعۃ فصل فی ایجاز الخطبۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۸۶)
فاقول : انما حداہ رحمہ اللہ تعالٰی علی ھذا التکلف السعید ما رأی من التنافی بین نھیہ الخطیب وثبوتہ عن نفسہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وقد علمت ان لاتنا فی ولیس من واجبات الخطبۃ ترک الاضمار لامن شریطۃ الا یضاح وضع المظھر موضع المضمر وانماکان الاضمار یخل بالاظھار حیث یخشی الا لتباس وھٰھنا لا لیس فکیف یکون ھٰذا مقتضیا لان یواجھہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بالذم ویقول لہ اذھب اوقم وقدکان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یحب الایجاز فی الکلام بحیث لایخل بالافھام وکان یقول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم : ان طول صلٰوۃ الرجل وقصر خطبتہ مئنۃ من فقھہ فاطیلو االصلٰوۃ واقصروالخطبۃ وان من البیان لسحرا ثم ثبوت مثلہ عنہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی الخطبۃ کما ستسمع من حدیثی ابی داؤدلایذرلہذا الوجہ وجہ قبول اصلاً فانما المحیص الی ماذکر العبدالضعیف والحمدللہ علی التوقیف ۱۲منہ۔
فاقول : (تو میں کہتاہوں) امام نووی علیہ الرحمہ کو اس تکلف سعید پر اس بات نے برانگیختہ کیا ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خطیب کو ضمیر تثنیہ کے استعمال سے منع کرنے اور خود اس کو استعمال فرمانے میں منافات سمجھی، حالانکہ تُوجان چکا ہے کہ کوئی منافات نہیں۔ اورضمائر کو ترک کرنا خطبہ کے واجبات میں سے نہیں اور نہ ہی ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو رکھنا شرط توضیح ہے ۔ ضمیر کو استعمال کرنا وہاں مخلِّ اظہار ہوتاہے جہاں التباس کا ڈر ہوجبکہ یہاں ایسا نہیں ہے ۔ پھر یہ بات اس امر کی مقتضی یسے ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس خطیب کو مذمت فرمائیں اورحکم دیں کہ یہاں سے چلا جایا اٹھ جا، حالانکہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کلام میں ایسے اختصار کو پسند فرماتے تھے جو مخلِّ فہم نہ ہو ۔ اورآپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مرد کا نماز کو لمبا کرنا اورخطبہ کو مختصر کرنا اس کی فقاہت کی دلیل ہے لہذا نماز لمبی اورخطبہ مختصر کیا کرو ۔ اوربعض بیان جادو ہوتے ہیں۔ پھر خود رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اس جیسے کلام کا خطبہ میں ثبوت جیسا کہ ابو داود کی دو حدیثوں سے تُو سنے گا اس وجہ کو قابل قبول نہیں رہنے دیتالہذا مخلص اسی وجہ میں ہے جس کو عبدضعیف (مصنف علیہ الرحمہ) نے ذکر کیا ہے ۔ اس سوجھ بوجھ کی عطا پر تمام تعریف اللہ تعالٰی کیلئے ہے ۔(ت)
حالانکہ حدیث شریف میں ہے خود حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خطبے میں یوں فرمایا کرتے :
من یطع اللہ ورسولہ فقد رشد ومن یعصمھا فانہ لایضر الا نفسہ۔ ابو داؤد ۱ عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ بسند صحیحٍ۔
جس نے اللہ ورسول کی اطاعت کی وہ راہ یاب ہوا اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ (ابو داود نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
(۱ سنن ابی داود کتاب الصلٰوۃ (ابواب الجمعۃ)باب الرجل یخطب علٰی قوس آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۵۷)
نیزابن شہاب زہری نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کاخطبہئ جمعہ روایت کیا اس میں بعینہٖ وہی الفاظ ہیں کہ :
ومن یعصمھا فقد غوٰی ۔ رواہ ایضاً۲عنہ مرسلاً۔
جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی گمراہ ہوا۔ (نیز اس کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرسلاً روایت کیا گیا۔ت)
(۲ سنن ابی داود کتاب الصلٰوۃ (ابواب الجمعۃ)باب الرجل یخطب علٰی قوس آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۵۷)
حدیث آئندہ سے بتوفیق اللہ تعالٰی اس فقیر کی عمدہ تائید وتقریر ہوتی ہے فانتظر ۔
ثالثاً :
وجہ ممانعت علم غیب کی اسناد مطلق بے ذکر تعلیم الٰہی عزوجل ہے ۔ شیخ محقق رحمہ اللہ تعالٰی نے لمعات میں اس طرف ایمافرمایا ۔
اقول:
اوروہ بے شک وجیہ ہے جس طرح بغیر اللہ عزوجل کی مشیت کو ملائے یوں کہنا کہ میں یوں کروں گا، مکروہ ہے ۔
قال اللہ تعالٰی :
ولا تقولن لشیئٍ انی فاعل ذٰلک غداً الا ان یشاء اللہ۱ ۔
ہرگز نہ کہان کسی چیز کو کہ میں کل بایسا کرنے والا ہوں مگر یہ کہ خدا چاہے۔
(۱القرآن الکریم ۱۸ /۲۳)
علم غیب بالذۤت اللہ عزوجل کے لئے خاص ہے کفاراپنے معبود ان باطل وغیرہم کےلئے مانتے تھے لہذا مخلوق کو'' عالم الغیب ''کہنا مکروہ ، اوریوں کوئی حرج نہیں کہ اللہ تعالٰی کے بتائے سے امور غیب پر انہیں اطلاع ہے ، یہ دوسرا احتمال ہے کہ علماء نے اس حدیث میں ذکر فرمایا اس تقدیر پر بھی ممانعت ادب کالم کی طرف ناظر ہے نہ یہ کہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کو بتعلیم الٰہی غیب پر اطلاع کا عقیدہ ممنوع ہی ہوشرک تو درکنا جو اس طاغی کا مقصود ہے
ھکذا ینبغی التحقیق واللہ تعالٰی ولی التوفیق
(تحقیق یونہی مناسب ہے اوراللہ تعالٰی توفیق دینے والا ہے ۔ ت)
حدیث ۱۶۹ :
محمد بن اسحٰق تابعی ثقہ امام السیروالمغازی نے ابو وجزہ یزید بن عبید سعدی سے روایت کی ، جب (غزوئہ حنین میں ) مشرکین بھاگ گئے مالک بن عوف (کہ اس لڑائی میں سردارکفار ہوازن تھے)بھاگ کر طائف میں پناہ گزیں ہوئے رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ ایمان لاکر حاضرہو تو ہم اس کے اہل ومال اسے واپس دیں۔ یہ خبر مالک بن عوف کو پہنچی ، خدمت اقدس میں حاضر ہوئے جبکہ کہ حضور مقام جعرانہ سے نہضت فرماچکے گھے ، سید اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کےاہل ومال واپس دئے اورسو اونٹ اپنے خزانہ کرم سےعطاکئے،فقال مالک بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ یخاطب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من قصیدۃ (تو مالک بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اپنے قصیدہ سے مخاطب ہوئےت): ؎
ماان رایت ولا سمعت بواحدٍ فی الناس کلھم کمثل محمد
اوفٰی واعطٰی للجزیل لمجتدٍ ومتٰی تشاء یخبرک عما فی غدٖ
میں نے تمام جہان کے لوگوں میں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مثل نہ کوئی دیکھا نہ سنا، سب سے زیادہ وفا فرمانے والے اورسب سے فزوں تر سائل نفع کو کثیر عطابخشنے والے اورجب تو چاہے تجھے کل کی خبر بتادیں ۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں ان کی قوم ہوازن اورقبائل ثمالہ وسلمہ وفہم پر سردارفرمایا۱۔
(۱الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ بحوالہ ابن اسحٰق ترجمہ ۷۶۷۲ مالک بن عوف دارالفکر بیروت ۵ /۴۴و۴۵)