اورانصاف کی نگاہ سے دیکھئے تو بحمدللہ تعالٰی حدیث نے شرک کا تسمہ بھی لگا نہ رکھا، اورشرک پسند ، اوشرک کی حقیقت وشناخت سے غافل !کیا شرک کوئی ایسی ہلکی چیز ہے کہ اللہ کا رسول اوررسولوں کا سردار صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی مجلس میں اپنےحضور اپنی امت کو شرک بکتے کفر بولتے سنے اوریونہی سہل دوحرفوں میں گزاردے کہ اسے رہنے دو وہی پہلی بات کہے جاؤ۔ اب یاد کر و
حدیث ابی داود ویحک انہ لایستشفع باللہ علی احدٍ۱۔
(تجھ پر افسوس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس اللہ تعالٰی سے سفارش نہیں کرائی جاتی )کے متعلق اپنی بدلگامی کی۔
(۱سنن ابی داود کتاب السنۃ باب فی الجہمیۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹۴)
تقریر کہ : ''عرب میں قحط پڑا تھا ایک گنوارنے آکر پیغمبر کے روبرو اس کی سخت بیان کی اوردعا طلب کی اورکہا تمہاری سفارش ہم اللہ کے پاس چاہتے ہیں اوراللہ کی تمہارے پاس، یہ بات سن کر پیغمبر خدا بہت خوف اور دہشت میں آگئے اوراللہ کی بڑائی ان کے منہ سے نکلنے لگی اوساری مجلس کے چہرے اللہ کی عظمت سے متغیر ہوگئے پھراس کو سمجھایا کہ اللہ کی شان بہت بڑی ہے سب انبیاء واولیاء اس کے روبروذرہ ناچیز سے کمتر ہیں وہ کس کے رو برو سفارش کرے۲۔''
(۲تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۳۸)
سبحان اللہ !اشرف المخلوقات محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اس کے دربار میں یہ حالت ہے کہ ایک گنوار کے منہ سے اتنی بات سنتے ہی مارے دہشت کے بے حواس ہوگئے اورعرش سے فرش تک جو اللہ کی عظمت بھری ہوی ہے بیان کرنے لگے ۔
اقول : انبیاء واولیاء کو ذرہ ناچیز سے کمتر کہنے کی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنا کہ حضور نے اسے یوں سمجھایا یا تیرا افتراہے حدیث میں اس کا وجود نہیں ، اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بے حواس کہنا یہ تیری بے دینی کا ادنی کرشمہ اور افترا پر افترا ہے حدیث میں اس کابھی نشان نہیں اوراللہ عزوجل کی عظمت اس کی صفت پاک اس کی ذات اقدس سے قائم ہے مکان ومحل سے منزہ ہے ، کیا جانئے تو کس چیز کو خدا سمجھاہے جس کی عظمت مکانوں میں بھری ہوئی ہے ، خیر یہ تو تیرے بائیں ہاتھ کے کھیل ہیں ؎
تیر برجاہ انبیاء اندازہ طعن درحضرت الٰہی کن
بے ادب با ش وانچہ دانی گو بیحیا باش وہرچہ خواہی کن
(انبیاء کرما علیہم الصلٰوۃ والسلام کے مقام ومرتبہ پر تیر اندازی کراوربارگاہ الٰہی میں طعن کر، بے ادب بن جا اورجو کچھ چاہتاہے کتہا جا، بے حیان بن جا اور جو چاہتاہے کرتا جا۔ ت)
مگرآنکھوں کی پٹی اترواکر ذرا یہ سوچ کہ جو بات عظمت شان الٰہی کے خلاف ہو اسے سن کر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ برتاؤ ہوتاہے حالانکہ سفارشی ٹھہرانے کو یہ بات کہ اس کا مرتبہ اس سے کم ہے جس کے پاس اس کی سفارش لائی گئی ایسی سریح لازم نہیں جسے عام لوگ سمجھ لیں ولہذا وہ صحابی اعرابی رضی ا للہ تعالٰی عنہ بآنکہ اہل زبان تھے اس نکتے سے غافل رہے تو کیا ممکن ہے کہ صریح شرک وکفر کےکلمے حضو رسنیں اور اصلاًکوئی اثر غضب وجلا ل چہرہ اقدس پر نمایاں نہ ہو، ہ حضور دیر تک سبحان اللہ سبحان اللہ کہیں ، نہ اہل مجلس کی حالت بدلے ، نہ ان کے کہنے والیوں پر کوئی مواخذہ ہو، ایک آسان سی بات پرقناعت فرمائیں کہ اسے رہنے دو، کویں نہیں فرماتے کہ اری !تم کفر بک رہی ہو ، اری !تقویۃ الایمان کے حکم سے تم مشرکہ ہوگئیں تمہارا دین جاتا رہا تم مرتد ہوئیں از سرانو ایمان لاؤ کلمہ پڑھو نکاح ہوگیا ہے تو تجدید نکاح کرو۔ گرض ایک حرف بھی ایسا نہ فرمایا جس سے شرک ہونا ثابت ہو، کہنے والیوں کو اپنا حال اوراہل مجلس کو اس لفظ کا حکم معلوم ہوحالانکہ وقت حاجت بیان حکم فرض ہے اورتاخیر اصلاً روا نہیں ، تو خود اس حدیث سے صاف ظاہر ہوا کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف اطلاع علی الغیب کی نسبت ہرگز شرک نہیں ۔ رہا ممانعت فرمانا ، وہ بھی یہ بتائےکہ انبیائے کرام وخود سید الانام علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ والسلام کی جانب میں اس کا اعتقاد فی نفسہٖ باطل ہے ، یہ منہ دھو رکھئے منع لفظ بطلان معنٰی ہی میں منحصر نہیں بلکہ اس کے لیے وجوہ ہیں اورعقل ونقل کا قاعدہ مسلمہ ہے کہ
اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال
(جب احتمال آجائے تو استدلال باطل ہوجاتاہے ۔ت)
اولاً :
ممکن ہے کہ لہو ولعب کے وقت اپنی نعت اوروہ بھی زنانے گانے اوروہ بھی دف بجانے میں پسند نہ فرمائی ،لہذا ارشادہوا : اسے رہنے دور اور وہی پہلے گیت گاؤ ۔ ارشاد الساری ، لمعات ومرقات وغیرہ میں اس احتمال کی تصریح ہے ۔
ثانیاً ,اقول:
ممکن کہ مجلس عورتوں ، کنیزوں ، کم فہم لوگوں کی تھی ان میں منع فرمایا کہ توہُّم ذاتیت کا سدباب ہو ، شرح حکیم ہے اورامام الوہابیہ کی مت اوندھی جو متحمل ذو وجوہ بات جس میں برے پہلو کی طرف لے جانے کا احتمال ہوچھوکریوں کو منع کی جائے دانشمند مردوں کے لیے اس کی ممانعت بدرجہ اولٰی جانتاہے حالانکہ معاملہ صاف الٹا ہے ایسی بات سے کم علموں کم فہموں کو روکتے ہیں کہ غلط نہ سمجھ بیٹھیں، عاقلوں دانشمندوں کو منع کیا ضرور کہ ان سے اندیشہ نہیں ۔صحیح مسلم ومسند احمد وسنن ابی داود وسنن نسائی میں عدی بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے ایک شخص نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے خطبہ پڑھا اور اس میں یہ لفظ کہے :
ومن یطع اللہ ورسولہ، فقد رشد ومن یعصہما فقد غوٰی ۔
جس نے اللہ ورسول کی اطاعت کی اس نے راہ پائی اورجس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا۔
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
بئس الخطیب انت ، قل ومن یعص اللہ ورسولہ، فقد غوٰی۱ ۔
کیا براہ خطیب ہے تُو، یوں کہہ کہ جس نے اللہ ورسول کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا۔
(۱صحیح مسلم کتاب الجمعۃ فصل فی ایجاز الخطبۃ واطالۃ الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۸۶)
(سنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الطہارۃ ۱ /۸۶ وکتاب الجمعۃ ۳ /۲۱۶ دارصادر بیروت )
( مسند احمد بن حنبل حدیث عدی بن حاتم المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۲۵۶)
ابوداؤد کی روایت میں ہے :
قال قم اوقال اذھب فبئس الخطیب انت۲۔
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : اٹھ ، یا فرمایا : چلا جاکہ تو برا خطیب ہے ۔
(۲سنن ابی داود کتاب الصلٰوۃ باب الرجل یخطب علی قوس آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۵۶)