Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
158 - 212
حدیث ۱۶۸:  صحیح بخاری ومسند احمد وسنن ابی داود وترمذی وابن ماجہ رُبَیّع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالٰی عنہما
سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میری شادی میں تشریف لائے چھو کر یاں دف بجا کر میرے باپ چچا جو بدر میں شہید ہوئے تھے ان کے اوصاف گاتی تھیں اس میں کوئی بولی ع
وفینا نبی یعلم ما فی غدٍ
ہم میں وہ نبی ہیں جنہیں آئندہ کا حال معلوم ہے

صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم

اس پر سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
دعی ھٰذا وقولی بالذی کنت تقولین۲؂۔
اسے رہنے دے اورجو کچھ پہلے کہہ رہی تھی وہی کہے جا۔
(۲؂صحیح البخاری کتاب النکاح باب ضرب الدف فی النکاح والولیمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۷۳) 

(سنن ابی داود کتاب الادب باب فی الغناء آفتاب عالم پریس لاہور     ۲ /۳۱۸) 

( سنن الترمذی کتاب النکاح حدیث ۱۰۹۲   دارالفکر بیروت    ۲ /۲۴۷) 

(سنن ابن ماجۃ ابواب النکاح باب الغناء والدف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی       ص۱۳۸) 

(مسند احمد بن حنبل حدیث الربیع بنت معوذ المکتب الاسلامی بیروت         ۶ /۳۵۹)
اقول:  وباللہ التوفیق
امام الوہابیہ اس حدیث کو شرک فی العلم کی فصل میں لایاجسے کہا : ''اس فصل میں ان آیتوں حدیثوں کا ذکر ہے جس سے اشراک فی العلم کی برائی ثابت ہوتی ہے۱؂۔''
 (۱؂تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۸)
تو وہ اس حدیث سے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف آئندہ بات جاننے کی اسناد مطلقاً شرک ہے اگرچہ بعطائے الہٰی جانے کہ اس نے صاف کہہ دیا : ''پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ بات ان کو اپنی ذات سے ہے خواہ اللہ کے دینے سے ہرطرح شرک ہے۲؂ ۔''
 (۲؂ تقویۃ الایمان    پہلا باب   مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور          ص۷)
اور خود مصرع مذکور کا مطلب ہی یوں بتایا کہ : ''چھوکریاں گانے لگیں اوراس میں پیغمبر خدا کی تعریف یہ کہی ان کو اللہ نے ایسا مرتبہ دیا ہے کہ آئندہ کی باتیں جانتے ہیں۳؂۔ ''
 (۳؂تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور        ص۱۸)
بایں ہمہ حدیث کو شرک فی العلم کی فصل میں لایا مگر جب حدیث میں حکم شرک کی بُواصلاً نہ پائی تو خود ہی اپنے دعوے سے تنزل پر آیا اورصرف اتنا لکھنے پر بس کی :  ''اس حدیث سے معلوم ہو ا کہ انبیاء کی جناب میں یہ عقیدہ نہ رکھے کہ وہ غیب کی باتیں جانتے ہیں ، پیغمبر خدا نے اس قسم کا شعر اپنی تعریف کا انصار کی چھوکریوں کو گانے بھی نہ دیا چہ جائیکہ عاقل مرد اس کو کہے یا سن کر پسند کرے ۴؂۔''
 (۴؂تقویۃ الایمان   الفصل الثانی   مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۸)
اللہ اللہ، اللہ دئے سے بھی ایسا مرتبہ ماننا اس کے نزدیک شرک ہوتو شکایت نہیں کہ اس کے دھرم میں اس کا معبود خود ہی کسی کو آئندہ باتیں جاننے کا مرتبہ دینے پر قادر نہیں کیا اپنا شریک کسی کو بناسکے گا ، یونہی یہ امر بھی اسے مضر نہیں کہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والتسلیم کو بعطائے الہٰی بھی اطلاع علی الغیب کا مرتبہ ملتا صریح مخالف قرآن ہے ۔
قال اللہ تعالٰی :
وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولٰکن اللہ یجتبی من رسلہٖ من یشاء ۱؂۔
اللہ اس لئے نہیں کہ تمہیں غیب پر اطلاع کا منصب دے ہاں اپنے رسولوں سے چن لیتاہے جسے چاہے ۔
(۱؂القرآن الکریم ۳ /۱۷۹)
وقال تعالٰی:
عٰلم الغیب فلایظھر علی غیبہ احدًا الا من ارتضٰی من رسولٍ۲؂۔
غیب کا جاننے والا تو کسی کو اپنے غیب پر غالب ومسلط نہیں کرتا مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کو ۔
 (۲؂القرآن الکریم    ۷۲ /۲۶و۲۷)
یہاں لایظھر غیبہ، علی احدٍ نہ فرمایا کہ اللہ تعالٰی اپنا غیب کسی پر ظاہر نہیں فرماتا کہ اظہار غیب تو اولیائے کرام قدست اسرارھم پر بھی ہوتاہے اوربذریعہ انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام ہم پر بھی ، بلکہ فرمایا : لایظھر علی غیبہٖ احداً اپنے غیب خاص پر کسی کو ظاہر وغالب ومسلط نہیں فرمایا مگر رسولوں کو ۔ ان دونوں مرتبوں میں کیسا فرق عظیم ہے اوریہ اعلٰی مرتبہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء کو عطاہونا قرآن عظیم سے کیسا ظاہرہے مگر اسے کیا مضر کہ جب اس کے نزدیک اللہ عزوجل کا کذب ممکن جیسا کہ اس کے رسالہ ''یکروزی ''سے ظاہر ، اور فقیر کے رسالہ ''سبحان السبوع عن عیب کذب مقبوح''(ف) میں اس کا رد ظاہر وباہر، تو قرآن کی مخالفت اس پر کیا موثر ،
ف : رسالہ ''سبحان السبوع عن عیب کذب مفتوح ''فتاوٰ ی رضویہ جلد ۱۵مطبوعہ رضا فاؤنڈیش جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہور کے صفحہ ۳۱۱پر مرقوم ہے ۔
واللہ المستعان علی کل غویٍ فاجرٍ
(ہرگمراہ فاجر کے خلاف اللہ تعالٰی ہی سے مدد مانگی جاتی ہے )اس سب سے گزر کر ہوشیار عیّار سے اتنا پوچھئے کہ بالفرض اگر حدیث سے ثابت ہے بھی تو صرف ممانعت کہ انبیاء کی جناب میں ایسا عقیدہ نہ رکھے وہ شرک کاجبروتی حکم جس کے لیے اس فصل اورساری کتاب کی وضع ہے کہاں سے نکلا کیا اسی کو اتمام تقریب کہتے ہیں اوریہ اس کا قدیم داب ہے کہ دعوٰی کرتے وقت آسمان سے بھی اونچا اڑے گا اوردلیل لاتے وقت تحت الثّرٰی میں جاچھپے گا اورپیچھا کیجئے تو وہاں سے بھی بھاگ جائے گا، ایسے ہی ناتمام اٹکل بازیوں سے عوام کو چھلا اور کاغذ کا چہر ہ اپنے دل کی طرح سیاہ کیا۔
Flag Counter