Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
157 - 212
حدیث ۱۶۶ :
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  :
سن لو مجھے قرآن کے ساتھ اس کا مثل ملایعنی حدیث دیکھو کوئی پیٹ بھرا اپنے تخت پر بیٹھا یہ نہ کہے کہ یہی قرآن لئے رہو جو اس میں حلا ل ہے اسے حلال جا نو جو اس میں حرام ہے اسے حرام مانو،
وان ماحرم رسول اللہ مثل ما حرم اللہ ۔ احمد۱؂ والدارمی وابو داود والترمذی وابن ماجۃ عن المقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالٰی عنہ بسندٍ حسن۔
جو کچھ اللہ کے رسول نے حرام کیا وہ بھی اسی کی مثل ہے جسے اللہ عزوجل نے حرام کیا، جل جلالہ، و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔(احمد اوردارمی اورابو داود اورترمذی اورابن ماجہ نے مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بسند حسن روایت کیا۔ ت)
(۱؂سنن ابی داود کتاب السنۃ باب فی لزوم السنۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۷۶)
یہاں صراحۃً حرام کی دو قسمیں فرمائیں ا: ایک وہ جسے اللہ عزوجل نے حرام فرمایا اور دوسرا وہ جسے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حرام کیا۔ اورفرمادیا کہ وہ دونوں برابر ویکساں ہیں۔ 

اقول : مراد واللہ اعلم نفس رحمت میں برابری ہے تو اس ارشاد کے منافی نہیں کہ خدا کا فرض رسول کے فرض سے اشد واقوٰی ہے۔
حدیث ۱۶۷:
جہیش بن اویس نخعی رضی اللہ تعالٰی عنہ مع اپنے چند اہل قبیلہ کے باریاب خدمت اقدس حضورسیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہوئے قصیدہ عرض کیا ازاں جمہ یہ اشعار ہیں ؎
الا یارسول اللہ انت مصدق 

فبورکت مھدیا وبورکت ھادیاً

شرعت لنا دین الحنیفۃ بعد ما

عبدنا کامثال الحمیر طواغیاً
یارسول اللہ!حضور تصدیق لئے گئے ہیں حضور اللہ عزوجل سے ہدایت پانے میں بھی مبارک اورخلق کو ہدایت عطافرمانے میں بھی مبارک حضور ہمارے لئے دین اسلام کے شارع ہوئے بعد اس کے کہ ہم گدھوں کی طرح بتوں کو پوج رہے تھے۔
مندۃ ۱؂ من طریق عما ربن عبدالجبار عن عبداللہ بن المبارک عن الازواعی عن یحیٰی بن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ حدیث طویل ۔
مندہ نے عماربن عبدالجبار کے طریقے سے عبداللہ بن مبارک سے انہوں نے اوزاعی سے انہوںنے یحیٰی بن ابی سلمہ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ، حدیث لمبی ہے ۔(ت)
(۱؂الاصابہ فی تمییز الصحابۃ بحوالہ ابن مندۃ    ترجمہ ۱۲۵۱        جہیش بن اویس دارالفکر بیروت     ۱/ ۳۵۸)
یہاں صراحۃً تشریع کی نسبت حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف ہے کہ شریعت اسلامی حضور کی مقرر کی ہوئی ہے ولہذا قدیم سے عرف علمائے کرام میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو شارع کہتے ہیں۔  

علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں :
 قداشتھر اطلاقہ علیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لانہ شرع الدین والاحکام۲؂۔
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو شارع کہنا مشہور ومعروف ہے اس لئے کہ حضور نے دین متین واحکام دین کی شریعت نکالی۔
(۲؂شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ  المقصد الثانی الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۱۳۴)
اسی قدر پربس کیجئے کہ اس میں سب کچھ آگیا ایک لفظ شارع تمام احکام تشریعیہ کو جامع ہوا ، میں نے یہاں وہ احادیث نقل نہ کیں جن میں حضور کی طرف امر ونہی وقضا وامثالہا کی اسناد ہے کہ :
امر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قضٰی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے امر فرمایا ۔رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا۔ (ت)

اتنی حدیثوں میں وارد جن کے جمع کو ایک مجلد کبیر بھی کافی نہو، اورخود قرآن عظیم ہی نے جو ارشاد فرمایا :
وما اٰتٰکم الرسول فخذوہ وما نھٰکم عنہ فانتھوا ۱؂۔
جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لو اورجس سے منع فرمائے اس سے باز رہو،
(۱؂القرآن الکریم     ۵۹ /۷)
کہ امر ونہی وقضا اوروں کی طرف بھی اسناد کرتے ہیں ۔
قال اللہ تعالٰی :
اطیعوااللہ واطیعواالرسول واولی الامر منکم۲؂۔
حکم مانو اللہ کا اورحکم مانو رسول کا اوران کا جو تم میں حکومت والے ہیں۔(ت)
(۲؂ القرآن الکریم ۴/ ۵۹)
مجھے تو یہ ثابت کرنا تھا کہ حضور اقدس کو احکام شرعیہ سے فقط آگاہی وواقفیت کی نسبت نہیں جس طرح وہ سرکشی طاغی آخر تقویۃ الایمان میں سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر صریح افتراء کرکے کہتا : "انہوں نے فرمایا کہ سب لوگوں سے امتیاز مجھ کو یہی ہے کہ اللہ کے احکام سے میں واقف ہوں اور لوگ غافل "۳؂۔
(۳؂تقویۃ الایمان الفصل الخامس  مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴۶)
مسلمانو! للہ انصاف ، یہ اس کس وناکس نے محمد رسول اللہ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے فضائل جلیلہ وخصائص جمیلہ وکمالات رفیعہ ودرجات منیعہ جن میں زید وعمر کی کیا گنتی انبیاء ومرسلین وملائکہ مقربین علیہم الصلٰوۃ والتسلیم کا بھی حصہ نہیں سب یک لخت اڑادئے سب لوگوں سے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا امتیاز صرف دربارہ احکام رکھا اوروہ بھی اتنا کہ حضور واقف ہیں اورلوگ غافل ، تو انبیاء سے تو کچھ امتیاز رہاہی نہیں کہ وہ بھی واقف ہیں غافل نہیں اورامتیوں سے بھی امتیاز اتنی ہی دیر تک ہے کہ وہ غافل رہیں واقف ہوجائیں تو کچھ امتیاز نہیں کہ اب وقوف وغفلت کا تفاوت نہ رہا اور امتیاز اس میں منحصر تھا
انا اللہ وانا الیہ راجعون۔
مسلمانو!دیکھا یہ حاصل ہے اس شخص کے دین کا ، یہ پچھلا کلمہ ہے محمد رسول اللہ پر اس کے ایمان کا جس پر اس نے خاتمہ کیا ، حالانکہ واللہ دربارہ احکام بی صرف اتنا ہی امتیاز نہیں بلکہ حضور حاکم ہیں، صاحب فرمان ہیں، مالک افتراض ہیں، والی تحریم ہیں۔ سن اوسرکش ! احکام سے اپنے نزدیک واقف تو تُو بھی ہے پھر تجھے کوئی مسلمان کہے گا کہ شریعت کے فرائض تیرے فرض کئے ہوئے ہیں شرع کے محرمات تُو نے حرام کردئے ہیں جن پر زکوٰۃ نہیں انہیں تُو نے معاف کردیا ہے شریعت کا راستہ تیرا مقرر کیا ہے شرائع میں تیرے احکام بھی ہیں اور وہ احکام احکام خد ا کے مثل ماوی ہیں مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں یہ سب باتیں کہی جاتی ہیں خود محمد رسول اللہ نے ارشاد فرمائی ہیں لہذا فقیر نے صرف اسی قسم احادیث پر اقتصار کیا اوربفضلہٖ تعالٰی اپنا نیزہ خار اگزار وآہن گزار ان گستاخان چشم بند و دہن باز کے دل وجگر کے پار کردیا وللہ الحمد۔ اللہ تعالی کی بے شمار رحمتیں علامہ شہاب خفاجی پر کہ نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں قصیدہ بردہ شریف کے اس شعر: ؎
نبینا الاٰمر الناھی فلااحد

ابرفی قول لامنہ ولا نعمٖ۱؂
ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم صاحب امرونہی ، تو ان سے زیادہ ہاں اور نہ کے فرمانے میں کوئی سچا نہیں ۔

کی شرح میں فرماتے ہیں  :
 معنی نبینا الاٰمر الخ انہ لاحاکم سواہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فھو حاکم غیر محکوم۲؂الخ
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صاحب امر ونہی ہونے کے یہ معنٰی ہیں کہ حضور حاکم ہیں حضور کے سوا عالم میں کوئی حاکم نہیں ، نہ وہ کسی کے محکوم ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
ذکرہ، فی فصل جودہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
 (اس کو صاحب نسیم نے  فصل فی وجودہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں ذکر فرمایا ہے ۔ت)
(۱؂الکواکب الدریۃ فی مدح خیر البریۃ الفصل الثالث مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ص۲۱)

(۲؂نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض فصل واما الجود والکرم مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند۲ /۳۵)
الحمدللہ یہ تذییل جلیل اپنے باب میں فرد کامل ہوئی احادیث تحریم مدینہ طیبہ بھی اسی باب سے تھیں کہ امام الوہابیہ کے اس خاص حکم شرک کے سبب جد اشمار میں رہیں اگر کوئی چاہے انہیں اور اس بیان تذلیل کو ملاکر احکام تشریعیہ کے بارے میں سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اقتدار واختیار کا ظاہر کرنے والا یک مستقل رسالہ بنائے اوربنام
 ''منیۃ اللبیب ان التشریع بید الحیبب ۱۳۱۱ھ''
موسوم ٹھہرائے ۔
واٰخر دعوٰنا ان الحمدللہ رب العٰلمین والصلٰوۃ والسلام علی سید المرسلین محمدٍ واٰلہٖ وصحبہٖ اجمعین ، اٰمین۔
مسک الختام  :
اب فقیر غفرلہ المولی القدیر سات حدیثیں اس وصل مبارک میں اورذکر کرے جن سے امام الوہابیہ کا سخت کور وکرہونا شمس وامس کی طرح ظاہر ہوکہ جن احادیث سے جن باتوں کو شرک بتانا چاہا تھا خود وہی اوران کے نظائر صاف گواہی ہیں کہ وہ ہرگز شرک نہیں مگر بیچاے معذور کی داد نہ فریاد ،
ومن یضلل اللہ فمالہ من ھاد ۱؂۔
 (اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔ت)
(۱؂القرآن الکریم ۴۰ /۳۳)
Flag Counter