Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
156 - 212
حدیث۱۶۱ (عہ) :
عہ : یہاں تک اٹھاون حدیثیں تفویض امر کی مفیدات ومؤیدات مذکور ہوئیں آگے صرف اسناد ات جلیلہ ہیں ۱۲۔
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
قد عفوت عن الخیل والرقیق فھا توا صدقت الرقۃ من کل اربعین درھما درھم۔ احمد۲؂ وابوداود والترمذی عن امیر المؤمنین المرتضٰی رضی ا للہ تعالٰی عنہ بسند صحیح ۔
گھوڑوں اورغلاموں کی زکوٰۃ تو میں نے معاف کردی روپوں کی زکوٰۃ دو ہرچالیس درہم میں سے ایک درہم ۔(احمد اورابوداود اورترمذی نے امیر المومنین علی المرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسند صحیح روایت کیا۔ ت )
(۲؂سنن ابی داود کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ السائمۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۲۱)

 (سنن الترمذی کتاب الزکوٰۃ باب ماجاء فی زکوٰۃ الذہب الخ حدیث ۶۲۰دارالفکر بیروت ۲ /۱۲۳) 

(مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۹۲)
سواری کے گھوڑوں ، خدمت کے غلاموں میں زکوٰۃ جو واجب نہ ہوئی سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :  ''یہ میں نے معاف فرمادی ہے ۔''ہاں کیوں نہ ہوکہ حکم ایک روف ورحیم کے ہاتھ میں ہے
بحکم رب العالمین جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
حدیث۱۶۲:
حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے فرمایا:
ماتقولون فی الزنا، قالو احرام حرَّمہ اللہ ورسولہ فھو حرام الی یوم القیٰمۃ ۔ احمد۱؂بسند صحیح والطبرانی فی الاوسط والکبیر عن المقداد بن الاسود رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
زنا کو کیسا سمجھتے ہو؟عرض کی : حرام ہے اسے اللہ ورسول نے حرام کردیا تو وہ قیامت تک حرام ہے ۔(احمد نے بسند صحیح اورطبرانی نے اوسط اورکبیر میں مقداد بن اسود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۱؂مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث مقداد بن اسود المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۸) 

(المعجم الکبیر عن مقداد بن اسود حدیث ۶۰۵المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۰ /۲۵۶)
حدیث ۱۶۳ :
 فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
انی احرم علیکم حق الضعیفین الیتیم والمرأۃ ۔ الحاکم۲؂علی شر ط مسلم والبیہقی فی الشعب واللفظ لہ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
میں تم پر حرام کرتاہوں دو کمزوروں کی حق تلفی ، یتیم اورعورت ۔ (حاکم شرط مسلم پر اوربیہقی نے بحوالہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ شعب الایمان میں اس کو روایت کیا ہے ، اورلفظ بیہقی کے ہیں۔(ت)
(۲؂المستدرک للحاکم کتاب الایمان انی احرج علیکم حق الضعیفین دارالفکر بیروت ۱ /۶۳)

(کنزالعمال بحوالہ کہ ، ھب عن ابی ہریرۃ حدیث ۶۰۰۱مؤسسۃ الرسالہ بیروت  ۳ /۱۷۱)
حدیث۱۶۴ :
صحیحین میں جابر بن عبداللہ تعالٰی عنہما سے ہے انہوں نے سال فتح میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا :
 ان اللہ ورسولہ، حرم بیع الخمر والمیتتۃ والخنزیر والاصنام ۳؂۔
بیشک اللہ اوراس کے رسول نے حرام کردیا شراب اورمردار اورسوئر اوربتوں کا بیچنا ۔
(۳؂صحیح البخاری کتاب البیوع باب بیع المیتۃوالاصنام قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱ /۲۹۸) 

( صحیح مسلم کتاب البیوع باب تحریم الخمر والمیۃالخ قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲ /۲۳)
حدیث ۱۶۵ :
 فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لاتشرب مسکراً فانی حرمت کل مسکرٍ۔ النسائی ۴؂بسند حسن عن ابی موسٰی الاشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
نشہ کی کوئی چیز نہ پی کہ بیشک نشہ کی ہر شیئ میں حرام(عہ)کردی ہے . نسائی نے بسند حسن ابی موسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
(۴؂سنن النسائی کتاب الاشربۃ تفسیر نور محمد کارخانہ کراچی ۲ /۳۲۵)
عہ : فائدہ: ابوالشیخ ابن حبان نے کتاب الثواب میں روایت کی حدثنا ابن ابی عاصم ثنا عمر بن حفص ن الوصائی ثنا سعید بن موسٰی ثنارباح بن زید عن معمر عن ازھری عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انی فرضت علی امتی قرأۃ ٰیٰس کل لیلۃ فمن داوم علی قرأتھا کل لیلۃ ثم مات شہیدا۱؂
یعنی اس سند سے آیا کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنی امت پر یٰس  شریف کی ہر رات تلاوت فرض کی جو ہمیشہ ہر شب اسے پڑھے پھر مرے شہید مرے ۔
(۱؂تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ بحوالہ ابی الشیخ فی الثواب حدیث ۳۲دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۲۹۷)
اقول : وسعید وان اتھم فالمحقق عند المحققین ان الوضع لایثبت بمجرد تفردکذاب فضلاً عن متھم مالم ینضم الیہ شئی من القرائن الحاکمۃ بہ کمخالفۃ نصٍ اواجماع قطعیین اوالحس اواقرار المواضع بوضعہٖ الی غیر ذٰلک کما نص علیہ السخاوی فی فتح المغیث واٹبتنا علیہ عرش التحقیق فی ''منیرالعین فی حکم تقبیل الابھا مین(ف۱) "واجمع العلماء ان اضعیف غیر الموضوع یعمل بہ فی الفضائل وقد بیناہ فی''الہاد" (ف ۲)
میں کہتاہوں سعید اگرچہ متہم ہے مگر محققین کے نزدیک یہ بات ثابت ہے کہ بیشک وضع حدیث محض ایک کذاب کے تفرد سے ثابت نہیں ہوتا چہ جائیکہ متہم سے ثابت ہوجب تک اس کے ساتھ قرائن وضع منضم نہ ہوں ، جیسے نص قطعی کی مخالفت اوراجماع قطعی کی مخالفت اورحس کی مخالفت اورخود واضع کا اقرار وغیرہ ، جیسا کہ امام سخاوی نے فتح المغیث میں اس پر نص فرمائی ہے ، اورہم نے ''منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین'' میں اس کی تحقیق کو حد کمال تک پہنچایا ہے ۔ اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ جو حدیث ضعیف موضوع نہ ہو وہ فضائل میں قابل عمل ہے اورہم اس کو ''الہاد الکاف فی حکم الضعاف ''میں بیان کیا ہے ۔(ت)
اس حدیث اوراس کی فرضیت کے متعلق فقیر کے پاس سوال آیاتھا جس کا جواب فتاوی  فقیر العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ کے مجلد پنجم کتاب مسائل شتٰی میں مذکور واللہ الھادی الی معالی الامور ۱۲منہ۔
ف ۱ :    رسالہ ''منیز العین فی حکم تقبیل الابھا مین ''فتاوٰی رضویہ جلد پنجم مطبوعہ رضا فاؤنڈیش لاہور کے صفحہ ۴۲۹ پر مرقوم ہے۔

ف ۲ : اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ ''منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین ''میں افادہ شانزدہم ۱۶سے افادہ بست وسوم ۲۳تک آٹھ افادات کا نام ''الہاد الکاف فی حکم الضعاف ۱۳۱۳ھ''رکھا ہے ۔ملاحظہ ہوفتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیش لاہور جلد پنجم صفحہ ۴۷۷ تا۵۳۷"الکاف فی حکم الضعاف''۔
Flag Counter