Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
155 - 212
حدیث(۵۴) ۱۵۶:
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لولاان اشق علی امتی لامر تھم ان یصلوھا ھٰکذا یعنی العشاء نصف اللیل ۔ احمد ۲؂والبخاری ومسلم والنسائی عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
امت پر مشقت نہ ہوتی تو میں ان پر فرض کردیتا کہ عشاء آدھی رات کو پڑھیں ۔ (احمد ، بخاری ، مسلم اورنسائی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
 (۲؂مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۶۶)

(صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلٰوۃ باب النوم قبل العشاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۸۱) 

(صحیح مسلم کتاب المساجد باب وقت العشاء وتاخیر ھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۲۹) 

(سنن النسائی کتاب المواقیت باب یستحب من تاخیر العشاء نور محمد کارخانہ کراچی ۱ /۹۲)
حدیث(۵۵) ۱۵۷ :
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لولا ضعف الضعیف وسقم السقیم لامرت بھٰذہ الصلٰوۃ ان توخر الی شطراللیل۔ النسائی ۳؂عن ابی سعد ن الخدری رضی اللہ تعالٰی ومرت روایۃ احمد وابی داود وابن ماجۃ وابی حاتم بلالفظ الامر۔
اگرناتواں اوربیماروں کا لحاظ نہ ہوتا تو میں فرض کردیتاکہ یہ نماز آدھی رات تک مؤخر کریں (اس کو نسائی نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ احمد ، ابو داود، ابن ماجہ اورابو حاتم کی روایت گزر چکی ہے جو لفظ امر کے بغیر ہے ۔ (ت)
(۳؂ سنن النسائی کتاب المواقیت باب یستحب من تاخیر العشاء نور محمد کارخانہ کراچی ۱ /۹۳)
حدیث(۵۶)۱۵۸:
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لولاان اشق علی امتی لامرتھم ان یؤخروا(عہ) العشاء الی ثلث اللیل اونصفہٖ ۔احمد ۱؂ والترمذی وصححہ، وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ومرت اخری لابن ماجۃ کاحمد وابی داود  ومحمد بن نصر خالیۃ عن الامر ۔
مشقت امت کا اندیشہ نہ ہوتو میں ان پر فرض کردوں کہ عشاء میں تہائی یاآدھی رات تک تاخیر کریں (اس کو امام احمد وترمذی نے اسکو صحیح قرار دیا ۔ اورابن ماجہ نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔اوردوسری روایت ابن ماجہ کی احمد وابو داود ومحمد بن نسر کی طرح گزرچکی ہے جو امر سے خالی ہے ۔(ت)
 (۱؂مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۳۳و۵۰۹) 

(سنن الترمذی ابواب الصلٰوۃ باب ماجاء فی تاخیر صلٰوۃ العشاء الخ حدیث ۱۶۷دارالفکر بیروت ۱ /۲۱۴)

 (سنن ابن ماجۃ کتاب الصلٰوۃ باب وقت صلٰوۃ العشاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵)

(کنزالعمال عن ابی ہریرۃ حدیث ۱۹۴۶۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷ /۳۹۵)
عہ : سبب ھٰذا انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اخرذات لیلۃ صلٰوۃ العشاء حتی ابھا راللیل او ذھب عامۃ اللیل ونام النساء والصبیان فجاء فصلی وذکرہ کما ورد مبینا فی احادیث ابن عباس وابی سعید وابن عمرو انس وغیرھمٍ رضی اللہ تعالی عنہم، وسبب حدیث السواک ایتان ناس عندہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قلحا فقال استاکوا استاکوا لاتاتونی قلحا لولا ان اشق علی امتی لفرضت علیھم السواک عند کل صلٰوۃ کما بینہ الدارقطنی ۱؂ من حدیث العباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فھما حدیثان ربما افرزھما ابو ھریرۃ وربما جمع وکذٰلک غیرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم وان اتفق ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ھو الذی قال مرۃ ھٰکذا اواخرٰی ھٰکذا و تارۃ جمع فالتعدداظھر واکثر ، ولالہ تعالٰی اعلم ۱۲منہ دامت فیوضہ۔
اس کا سبب یہ ہے کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مؤخر فرمادی یہاں تک کہ آدھی رات یا زیدہ گزرگئی ۔ عورتیں اوربچے سوگئے توآپ تشریف لائے اورنماز پڑھائی ، جیسا کہ ابن عباس ، ابو سعید ، ابن عمر اورانس وغیرہ کی احادیث میں واضح طور پر وارد ہوا ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم۔ حدیث سواک کاسبب یہ ہے کہ لوگ میلے کچیلے دانتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس آئے توآپ نے فرمایا مسواک کیا کرو اورمیرے پاس میلے کچیلے دانتوں کے ساتھ مت آیاکرو ، اگر مجھے امت کی مشقت کا لحاظ نہ ہوتا تو میں ان پر ہر ناز کے وقت فرض کردیتا ۔ جیساکہ اس کو دارقطنی نے بحوالہ حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کیا ہے ۔ ان دونوں حدیثوں کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کبھی الگ الگ بیان فرمایا ہے اورکبھی دونوں کوجمع کیا ہے ، یونہی ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے غیر نے کیا ہے ، اگرچہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی اس طرح بیان فرمایا ہے اورکبھی اس طرح اورکبھی دونوں کو جمع فرمایا۔ چنانچہ تعدد اظہر واکثر ہے ۔ اوراللہ تعالٰی خوب جانتا ہے ۔۱۲منہ (ت)
(۱؂کنز العمال بحوالہ قط عن ابن عباس حدیث ۲۶۱۷۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۳۱۲)
حدیث(۵۷) ۱۵۹:
صحیح بخاری میں زید بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک آیت سورہ احزاب کی نسبت ہے :
وجدتھا مع خزیمۃ الذی جعل رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم شہادتہ بشہادتین ۲؂۔
وہ میں نے لکھی ہوئی خزیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس پائی جن کی گواہی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دوگواہوں کے برابر فرمائی ۔
 (۲؂صحیح البخاری کتاب الجہاد باب قول اللہ تعالٰی من المومنین رجال الخ قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۳۹۴) 

(صحیح کتاب التفسیر سورۃ احزاب قدیمی کتب خانہ کراچی      ۲ /۷۰۵)
حدیث(۵۸) ۱۶۰:
کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یمن پر صوبیدا ربنا کر بھیجتے وقت ان سے ارشاد فرمایا  :
قد عرفت بلاء ک فی الدین والذی قدر کبک من الدین وقد طیبت لک الھدیۃ فان اھدی لک شئی فاقبل۔ سیف فی کتاب الفتوح ۱؂ عن عبید بن صخر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
مجھے معلوم ہے جو تمہاری آزمائشیں دین متین میں ہوچکیں اورجو کچھ دیون تم پر ہوگئے ہیں رعیت کے تحفے میں نے تمہارے لئے حلال طیب کردئے جو تمہیں کچھ تحفہ دے لے لو ۔ (سیف نے کتاب الفتوح نے عبید بن صخر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؂کنزالعمال بحوالہ طب عن عبید بن صخر المکتب الاسلامی بیروت     ۶ /۱۱۵)
Flag Counter