مالک وشافعی وبیہقی ان سے اورطبرانی اوسط میں امیرالمومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے بسند حسن راوی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لولا ان اشق علی امتی لامرتھم بالسواک مع کل وضوءٍ۱۔
مشقت امت کا پاس ہے ونہ میں ہر وضو کے ساتھ مسواک ان پر فرض کردوں ۔
(۱ مؤطا لامام مالک کتاب الطہارۃ ماجاء فی السواک میر محمد کتب خانہ کراچی ص۵۰)
(السنن الکبرٰی کتاب الطہارۃ باب الدلیل علی ان السواک سنۃ دارصادر بیروت ۱ /۳۵)
( کنزالعمال بحوالہ والشافعی حدیث ۲۶۱۹۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۳۱۵)
(المعجم الاوسط ، حدیث ۱۲۶۰ مکتبۃ المعارف ریاض ۲ /۱۳۸)
حدیث(۴۷) ۱۴۹ :
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہ مسواک کرو مسواک منہ کو پاکیزہ اوررب عزوجل کو راضی کرتی ہے ، جبریل جب میرے پاس حاضر ہوئے مجھے مسواک کی وصیت کی ۔
حتی لقد خشیت ان یفرضہ، علی وعلٰی امتی ولولا انی اخاف ان اشق علی امتی لفرضتہ علیہم ابن ماجہ۱ عن ابی امامۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ جبریل مجھ پر اور میری امت پر فرض کردیں گے اوراگر مشقت امت کا خوف نہ ہوتا تو ان پر فرض کردیں گے ۔(ابن ماجہ نے ابی امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱سنن ابن ماجۃ ابواب الطہارۃ باب السواک ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۵)
یہاں جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کی طرف بھی فرض کردینے کی اسناد ہے ۔
حدیث(۴۸) ۱۵۰ :
طبرانی وبزارودارقطنی وحاکم حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لولا ان اشق علی امتی لفرضت علیہم السواک عند کل صلٰوۃ ۲ (زاد غیر الدار قطنی )کما فرضت علیہم الوضوء۳۔
مشقتِ امت کا لحاظ نہ ہوتو میں ہر نماز کے وقت مسواک ان پر فرض کردوں جس طرح میں نے وضو ان پر فرض کردیا ہے ۔
(۲کنزالعمال بحوالہ قط عن ابن عباس حدیث ۲۶۱۷۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹/۳۱۲)
(۳المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ لولاان اشق علی امتی دارالفکر بیروت ۱ /۱۴۶)
(البحر الزخار عن ابن عباس حدیث ۱۳۰۲مکتبۃ العلوم والحکم مدینۃ المنورۃ ۴ /۱۳۰)
(مجمع الزوائد بحوالہ العباس کتاب الطہارۃ باب فی السواک دارالکتاب بیروت ۱ /۲۲۱)
(مجمع الزوائد کتاب الصلٰوۃ باب ماجاء فی السواک دارالکتاب بیروت ۲ /۹۷)
یہاں وضو کو بھی فرمایا گیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی امت پرفرض کردیا ۔
حدیث(۴۹، ۵۰ )،۱۵۱، ۱۵۲ :
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لولاان اشق علی امتی لامرتھم بالسواک واطیب عند کل صلٰوۃ ۔ ابو نعیم فی کتاب السواک ۴ عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بسند حسنٍ وسعید بن منصور فی سننہٖ عن مکحول مرسلاً۔
مشقت امت کا خیال نہ ہوتا تو اپنی امت پر ہر نماز کے وقت مسواک کرنا اور خوشبولگانا فرض کردوں ۔ (ابو نعیم نے کتاب السواک میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما سے بسند حسن اورسعید بن منصور نے اپنی سنن میں مکحول سے مرسلاٍ روایت کیا۔ت)
لولاان اشق علی امتی لامرتھم ان یستاکوا بالاسحار۔ ابو نعیم فی السواک ۱ عن عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما ۔
مشقتِ امت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان پر فرض فرمادیتا کہ ہر سحر پہلے پہر اٹھ کر مسواک کریں (ابو نعیم نے کتاب السواک میں عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۱ کنزالعمال بحوالہ ابی نعیم فی کتاب السواک حدیث ۲۶۱۹۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۳۱۶)
(الدرالمنثور بحوالہ ابی نعیم تحت الآیۃ ۲ /۱۲۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۵۲)
حدیث(۵۲ ،۵۳) ۱۵۴ و ۱۵۵ :
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لولا ان اشق علی امتی لامر تھم بالسواک عن دکل صلٰوۃ ولاخرت العشاء الی ثلث اللیل ۔
مشقت امت کا خیال نہ ہوتو میں ہر نماز کے وقت ان پر مسواک فرض کردوں اورنماز عشاء کو تہائی رات تک ہٹادوں ۔
احمد ۲ والترمذی والضیاء عن زید بن خالد نالجھنی رضی اللہ تعالٰی عنہ بسندٍ صحیح والبزار عن امیر المومنین علی کرم اللہ تعالٰی وجھہ، وروٰی عن زید احمد وابو داود والنسائی کحدیث ابی ھریرۃ الاول بالاقتصار علی السطر الاول والحاکم والبیھقی بسندٍ صحیح عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ کحدیث زیدٍ ھذا وفیہ لفرضت علیھم السواک مع الوضوء ولاخرت صلٰوۃ العشاء الاٰخرۃ الی نصف اللیل۳۔
یعنی میں وضو میں مسواک کرنا فرض کردیتا اورنماز عشاء آدھی رات تک ہٹا دیتا۔
(۲مسند احمد بن حنبل عن زید بن خالد رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۱۱۴)
(سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی السواک حدیث ۲۳دارالفکر بیروت ۱ /۱۰۰)
(کنزالعمال بحوالہ حم ، ت والضیاء حدیث ۲۶۱۹۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۳۱۵)
(البحرالزخار عن علی رضی اللہ عنہ حدیث ۴۷۸مکتبۃ العلوم والحکم مدینۃ المنورۃ ۲ /۱۲۱)
(مسند احمد بن حنبل عن زید بن خالد المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۱۱۶)
(سنن ابی داود کتاب الطہارۃ باب السواک آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۷)
(۳المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ فضیلۃ السواک دارالفکر بیروت ۱ /۱۴۶)
(السنن الکبری کتاب الطہارۃ باب الدلیل علی ان السواک السنۃ الخ دارصادر بیروت ۱/ ۳۶)
(کنزالعمال بحوالہ ک وھق عن ابی ہریرۃ حدیث ۲۶۱۹۴مؤسسۃ الرسالہ بیروت۹ /۳۱۶)
وللنسائی عن ابی ھریرۃ بلفط الامر تھم تاخیر العشاء بالسواک عند کل صلٰوۃ ۱۔
نسائی نے ابو ہریر ہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا: میں ان پر فرض کردیتا کہ عشاء دیر کر کے پڑھیں اورنماز کے وقت مسواک کریں۔
(۱سنن النسائی کتاب المواقیت باب مایستحب من تاخیر العشاء نو ر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۹۲و۹۳)