نیز امام الشان یحٰیی بن معین سے نقل کیاکہ حدیث صحیح ہے ۔
وھو ان لم یذکر الزیادۃ فانما المخرج المخرج والطریق الطریق حیث قال حدثنا قتیبۃ نابوعوانۃ عن سعید بن مسروق عن ابراھیم التیمی عن عمرو بن میمون عن ابی عبداللہ الجدلی عن خزیمۃ بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۲۔
امام ترمذی نے اگرچہ زیادت کو ذکر نہیں کیا مگر مخرج بھی وہی ہے اورطریق بھی وہی ہے ، اس لئے کہ فرمایا ہمیں حدیث بیان کی قتیبہ نے انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی ابو عوانہ سے انہوں نے سعید بن مسروق سے انہوں نے ابراہیم تیمی سے انہوں نے عمرو بن میمون سے انہوں نے ابو عبداللہ جدلی سے انہوں نے خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ۔
(۲سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی المسح علی الخفین حدیث ۹۵دارالفکر بیروت ۱ /۱۵۲)
وقد اطال الامام ابن دقیق العید الکالم فی تقویۃ ھذا الحدیث والذات (عہ) عنہ فی کتابہ الامام واثرہ الامام الزیلعی فی نصب الرایۃ ۱ فراجعہ ان شئت۔
امام ابن دقیق العید نے اس حدیث کی تقویت میں اپنی کتاب الامام میں خوب لمبی گفتگو فرمائی ہے ، اورامام زیلعی نے نصب الرایہ میں ان کی پیروی کی ہے ۔ (ت)
(۱نصب الرأیۃ کتاب الطہارۃ باب المسح علی الخفین المکتبۃ النوریۃ رضویہ پبلشنگ لاہور ۱ /۲۳۲تا۲۳۵)
عہ : اعظم مایرتاب فہ فیہ روایۃ البیھقی عن الترمذی عن البخاری لایصح عندی لانہ لایعرف لابی عبداللہ الجدلی سماع من خزیمۃ۳ع
وتلک شکاۃ ظاھرعنک عارھا
فان مبناہ علی ماذھب الیہ ھو رحمۃ اللہ من اشتراط ثبوت السماع ولو مرۃ للاتصال والصحیح الاجتزاء بالمعاصرۃ ھو المنصور علیہ الجمہور کما افادہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر وقد اطال مسلم فی مقدمۃ صحیحہ فی الرد علی ھذا المذھب لاجرم ان لم یکثر بہ تلمیذہ الترمذی وحکم بانہ حسن صحیح وکذا حکم بصحتہ شیخ البخاری بامام الناقدین یحیٰی بن معین ۔
اس میں سب سے بڑا شبہ اس رواتی سے کیا جاتاہے جو بیہقی نے امام ترمذی سے اورانہوں نے امام بخاری سے کی ہے کہ میرے نزدیک یہ حدیث نہیں کیونکر ابوعبداللہ جدلی کا خزیمہ سے سماع ثابت نہیں ۔ یہ وہ شکوٰی ہے جس کا عارتجھ سے دور ہے ، کیونکہ امام بخاری علیہ الرحمہ کے مؤقف کے مطابق اس بات پر ہے کہ راوی کا مروی عنہ سے سماع شرط ہے اگرچہ ایک مرتبہ وہا تصال کے لیے ۔ صحیح یہ ہے کہ معاصرت ہی کافی ہے ۔ جمہور کا موقف یہی ہے جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس کا افادہ فرمایا ہے ۔ امام مسلم نے صحیح مسلم کے مقدمہ میں اس مذہب کے رد پر طویل بحث کی ہے ۔ امام بخاری کے شاگرد امام ترمذی نے بھی امام بخاری کی تائید نہیں کی اوراس حدیث کے صحیح ہونے کا حکم لگایا ہے ۔ یونہی امام بخاری کے استاذامام الناقدین یحیٰی بن معین نے اس کی صحت کا حکم لگایا ہے۔
(۳الجوہر النقی حوشی علی السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الطہار باب ماوردفی ترک التوقیت دارصادر بیروت ۱ /۲۷۸و۲۷۹)
اقول: علاانہ لو سلم فقصواہ الا نقطاع ولیس بقادح عند نا وعند سائر قابلی المراسیل وھم الجہور ثم علک من دندنۃ ابن حزم ان الجدلی لایعتمد علی روایتہ فان الرجل فی الجرح والوقعیۃ کالا عمیین السیل الھوجم والبیعر الصؤل حتی عند الترمذی من المجاھیل والجد لی فقد وثقہ الا مامان المرجوع الھما احمد بن حنبل وابن معین فما ھو ابن حزم وائش ابن ھزم بعد ھٰذین وھو متفردفیہ لم یسبقہ احد بھٰذا القول الا تری ان البخاری انما اعلہ اذا عللہ بانہ لم یعرف سماع الجدلی لابانھا روایہ الجدلی وقدصحح لہ الترمذی وقال فی التقریب ۱ ثقہ۔واللہ تعالٰی اعلم ۱۲منہ ۔
میں کہتاہوں اگرامام بخاری کی بات تسلیم بھی کرلی جائے تو اس سے زیادہ سے زیادہ انقطاع لازم آتاہے اوروہ ہمارے نزدیک اورمساسیل کو قبول کرنیوالے دیگر حضرات جو کہ جمہور ہیں کے نزدیک قادح نہیں ہے پھر تم پر ابن حزم کی گنگناہٹ کا سننالازم ہے کہ جدلی کی روایت پر اعتماد نہیں کیا جاتا، کیونکہ آدمی جرح وتصادم میں دو اندھوں کی مثل ہوتاہے یعنی بڑھتا ہوا سیلا ب اورحملہ کرنیوالا مست اونٹ ۔ یہاں تک کہ ترمذی کے ہاں مجاہیل میں سے ہے ، اورجدلی کی توثیق ان دواماموں نے کی ہے جن کی طرف رجوع کیا جاتاہے ، اوروہ امام احمد بن حنبل اوریحیٰی بن معین ہیں ۔ ان دو اماموں کے مقابلہ میں ابن حزن وابن ھزم کیا شے ہے درانحالیکہ وہ اس میں تنہا ہے ۔ اس سے پہلے کسی نے یہ قول نہیں کیا ۔ کیا تو دیکھتا نہیں کہ امام بخاری نے اس کو اس وجہ سے معلل قرار دیا کہ جدلی کا سماع معروف نہیں، نہ اس وجہ سے کہ یہ جدلی کی روایت ہے ۔ امام ترمذی نے اس کو صحیح قراردیا اورتقریب میں کہا کہ وہ ثقہ ہے ۔ اوراللہ تعالٰی خوب جانتاہے ۔(ت)
اقول : یہ حدیث صحیح حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تفویض واختیار میں نص صریح ہے ورنہ یہ کہنا اورکہنا بھی کیسا مؤکد بقسم کہ واللہ سائل مانگے جاتاتو حضور پانچ دن کردیتے اصلاً گنجائش نہ رکھتا تھا کما لایخفٰی (جیسا کہ پوشید ہ نہیں ۔ت)اوریہاں جزم خصوص بے جزم عموم نہ ہوگا کہ اس خاص کی نسبت کوئی خبر خاص تخییر ارشاد نہ ہوئی تھی تو جزم کا منشاء وہی کہ حضرت خزیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو معلوم تھا کہ احکام سپرد اختیار حضورسید الانام ہیں علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلٰوۃ والسلام۔
حدیث ۱۴۷ :
مالک واحمد وبخاری ومسلم ونسائی وابن ماجہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لولا ان اشق علی امتی لامر تھم بالسواک عند کل صلٰوۃ۱۔
(۱صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ باب السواک یوم الجمعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۲و۲۵۹)
( صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب السواک قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۸)
(سنن النسائی کتاب الطہارۃ الرخصۃ فی السواک نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۶)
(سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب السواک ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۵)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۴۵،۲۵۰،۲۵۹،۲۸۷،۳۹۹،۴۰۰)
(مؤطاامام مالک کتاب الطہارۃ ماجاء فی السواک میر محمد کتب خانہ کراچی ص۵۰)
اگرمشقت امت کا خیال نہ ہوتا تو میں ان پر فرض فرمادیتاکہ ہرنماز کے وقت مسواک کریں۔
علماء فرماتے ہیں یہ حدیث متواتر ہے
قالہ، فی التیسیر وغیرہٖ
(تیسیر۲ وغیرہ میں اےس بیان کیا گیا۔ ت)
(۲التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت الحدیث لولا ان اشق علی امتی الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/ ۳۱۴)
احمد ونسائی نے انہیں سے بسند صحیح یوں روایت کی سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لولاان اشق علی امتی لامرتھم عند کل صلٰوۃ بوضو ء او مع کل وضوء بسواک۳ ۔
امت پر دشواری کا لحاظ نہ ہو تو میں ان پر فرض کردوں کہ ہر نماز کے وقت وضو کریں اور ہر وضو کے ساتھ مسواک کریں۔
(۳سنن النسائی کتاب الطہارۃ الرخصۃ فی السواک نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی۱ /۶)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۵۹ )
اقول :
امردوم دوقسم ہے حتمی جس کا حاصل ایجاب اوراس کی مخالفت معصیت ،
وذٰلک قولہ، تعالٰی فلیحذرالذین یخالفون عن امرہٖ۴۔
اوروہ اللہ تعالٰی کا ارشاد کہ اللہ تعالٰی کے امر کی مخالفت کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے ۔ (ت)
(۴القرآن الکریم ۲۴ /۶۳)
دوسرا ندبی جس کا حاصل ترغیب اوراس کے ترک میں وسعت،
وذٰلک قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم امرت بالسواک حتی خشیت ان یکتب علی احمد۵بن واثلۃ بن الا سقع رضی اللہ تعالٰی عنہ بسند حسنٍ۔
اوروہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ مجھے مسواک کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ مجھے ڈر ہواکہ کہیں مجھ پر فرض نہ ہوجائے ۔اس کو امام احمد نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ (ت)
(۵مسند احمد بن حنبل حدیث واثلہ بن الاسقع المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۹۰)
امرندبی تو یہاں قطعاًحاصل ہے توضروری نفی حتمی کی ہے ، امر حتمی بھی دوقسم ہے ظنی جس کا مفاد وجوب اورقطعی جس کا مقتضٰی فرضیت ، ظنیت خواہ من جہۃ الرؤیۃ یا من جہۃ الدلالۃ ہمارے حق میں ہوتی ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علوم سب قطعی یقینی ہیں جن کے سراپردہ عزت کے گرد ظنوں کو اصلاً بار نہیں تو قسم واجب اصطلاحی حضور کے حق میں متحقق نہیں وہاں یا فرض ہے یا مندوب،
نص علیہ الامام المھقق حیث اطلق فی الفتح
(اس پر محقق امام علیہ الرحمہ نے فتح میں نص فرمائی ہے ۔ ت)
اب واضح ہوگیا کہ ان ارشاد ات کریمہ کے قطعاً یہی معنی ہے کہ میں چاہتا تو اپنی امت پر ہرنمازکے لیے تازہ وضو اور ہر وضو کے وقت مسواک کرنا فرض فرمادیتامگر ان کی مشقت کے لحاظ سے میں نے فرض نہ کئے اوراختیاراحکام کے کیا معنی ہیں۔