Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
152 - 212
حدیث ۳۷ : صحیحین ومسند احمد وسنن نسائی وصحیح ابن حبان میں ام المومنین صدیقہ۳؂
اور
حدیث ۳۸ احمد ومسلم وابو داود وترمذی ونسائی وابن ماجہ وابن حبان میں حضرت عبداللہ بن عباس ۴؂
اور
حدیث ۳۹ احمد وابن ماجہ وابن خزیمہ وابونعیم وبیہقی میں ضباعہ ۱؂ بنت زبیر
اور
حدیث ۴۰ بیہقی وابن مندہ میں بطریق ھشام عن ابی الزبیر حضرت جابر بن عبداللہ ۲؂
اور
حدیث ۴۱  احمد وابن ماجہ وطبرانی میں جدہ ۳؂ ابی بکر بن عبداللہ بن زبیر یعنی اسماء بنت صدیق یا سعدی بنت عوف
اور
حدیث طبرانی
میں
حضرت عبداللہ ۴؂بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہم
سے ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی چچا زاد بہن ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب کے پاس تشریف لے گئے اورفرمایا : حج کا ارادہ ہے ؟عرض کی : یارسول اللہ! واللہ میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں (یعنی گمان ہے کہ مرض کے باعث ارکان ادا نہ کرسکوں پھر احرام سے کیونکر باہر آؤں گی)۔ فرمایا :
  اھلّی واشترطی ان محلی حیث جستنی ۔
احرام باندھ اورنیت میں یہ شرط لگالے کہ جہاں تومجھے روکے گا وہیں میں احرام سے باہر ہوں۔
 (۳؂صحیح البخاری   کتاب النکاح    باب الاکفاء فی الدین   قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۶۲)

(صحیح مسلم کتاب الحج باب اشتراط المحرم التحلل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۸۵)

(مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ عنہا    المکتب الاسلامی بیروت     ۶ /۲۰۲)

(سنن النسائی کتاب مناسک الحج الاشتراط فی الحج        نور محمد کارخانہ کراچی     ۲ /۱۹)

(موارد الظمآن کتاب الحج باب الاشتراط فی الاحرام حدیث ۹۷۳المطبعۃ السلفیہ    ص۲۴۲)

 (۴؂مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت   ۱ /۳۳۷)

(صحیح سملم کتاب الحج باب اشتراط المحرم التحلل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۸۵)

(سنن الترمذی کتاب الحج حدیث ۹۴۹  دارالفکر بیروت ۲ /۲۷۸)

(سنن ابی داود کتاب المناسک باب الاشتراط فی الحج آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۴۷)

(سنن النسائی کتاب مناسک الحج الاشتراط فی الحج نور محمد کارخانہ کراچی ۲ /۱۹)

(سنن ابن ماجۃ ابواب المناسک باب الشرط فی الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۱۷)

(۱؂مسند احمد بن حنبل حدیث ضباعۃ بنت الزبیر المکتب الاسلامی بیروت   ۶ /۳۶۰و۴۲۰)

(سنن ابن ماجہ ابواب المناسک باب الشرط فی الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ص۲۱۷)

(صحیح ابن خزیمہ کتاب المناسک باب اشتراط من بہ علۃ الخ المکتب الاسلامی بیروت   ۴ /۱۶۴)

(السنن الکبرٰی کتاب الحج باب استثناء فی الحج دارصادر بیروت ۵ /۲۲۱و۲۲)

(کنزالعمال بحوالہ م ، د ، ت ، ن ھ ھب حدیث ۱۲۳۲۸   مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۵ /۱۲۲)

 (۲؂ السنن الکبرٰی کتاب الحج باب الاستثناء فی الحج دارصادر بیروت   ۵ /۲۲۲)

(۳؂مسند احمد بن حنبل عن اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۳۴۹)

(سنن ابن ماجۃ ابواب المناسک باب الشرط فی الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۱۷)

(المعجم الکبیر عن اسماء بنت ابی بکر حدیث ۲۳۳   المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت   ۲۴ /۸۷)

(۴؂المعجم الکبیر عن صباعۃ بنت الزبیر المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت      ۲۴ /۳۳۲تا۳۳۷)

(مجمع الزوائد بحوالہ ابن عمر کتاب الحج باب الاشتراط فی الحج     دارالکتاب بیروت     ۳ /۲۱۸)
نسائی نے زائد کیا :
فان لک علی ربک ماستثنیت۵؂ ۔
تمہارا یہ استثناء تمہارے رب کے یہاں مقبول رہے گا۔
 (۵؂سنن النسائی کتاب مناسک الحج باب الاشتراط فی الحج نور محمد کارخانہ کراچی ۲ /۱۹)
ضباعہ نے زائد کیا کہ فرمایا  :
فان حبست او مرضت فقد حللت من ذٰلک بشرطک علی ربک عزوجل۱؂۔
اب اگر تم حج سے روکی گئیں یا بیمار پڑیں تو ا س شرط کے سبب جو تم نے اپنے رب عزوجل پر لگائی ہے احرام سے باہر ہوجاؤ گی۔
(۱؂مسند احمد بن حنبل حدیث ضباعۃ بنت الزبیر رضی اللہ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۴۲۰)
ہمارے آئمہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم فرماتے ہیں : یہ ایک اجازت تھی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں عطافرمادی ورنہ نیت میں ایسی شرط اصلاً مقبول ومعتبر نہیں۔
بل وافقنا علی اختصاصہ بھا بعض الشافعیۃ کالخطابی ثم الرویانی کما فی عمدۃ القاری ۲؂للامام العینی من باب الاحصار۔
بلکہ اس حکم کے اس صحابہ کے ساتھ مختص ہونے پر بعض شوافع بھی ہمارے ساتھ متفق ہیں ، مثلاً خطابی پھر رویانی جیسا کہ عمدۃ القاری نے باب الاحصار میں امام عینی نے ذکر فرمایا ۔ (ت)
 (۲؂عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب الاحصار فی الحج تحت الحدیث ۳۸۶ /۱۸۰   دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱۰ /۲۰۸)
حتی کہ
حدیث ۴۳ مسند امام احمد
میں بسند ثقات رجال صحیح مسلم ہے :
حدثنا محمد بن جعفر ثنا شعبۃ عن قتادۃ عن نصر بن عاصم عن رجل منھم رضی اللہ تعالٰی عنہ انہ اتی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فاسلم علی انہ لایصلی الا صلٰوتین فقبل ذٰلک منہ ۳؂۔
یعنی ایک صاحب خدمت اقدس حضو رسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر اس شرط پر اسلام لائے کہ صرف دو ہی نمازیں پڑھاکروںگا، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے قبول فرمالیا۔
 (۳؂مسند احمد بن حنبل حدیث رجال من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۲۵و۳۶۳)
ان کے سوا امام جلیل جلال سیوطی رحمہ اللہ تعالٰی نے کتاب مستطاب انموذج اللبیب فی خصائص الحبیب۴؂ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، میں ایک مجمل فہرست میں نوواقعوں کے اورپتے دئے ہیں کہ فقیر نے ان تین کی طر ح یہ بھی ترک کردئے
لوجوہ یطول ایرادھا وللہ الحمد علی تواتر اٰلآئہ ۔
 (بعض ایسی وجوہ کی بنا پرکہ انکا ذکر طوالت کا باعث ہے اوراللہ ہی کیلئے تمام تعریفیں اسکی متواتر نعمتوں پر )۴۳حدیثیں یہ اور ۸حدیثیں دربارہ تحریم مدینہ طیبہ جملہ اکاون احادیث ہیں جن میں بہت ازروئے اسنا د بھی خاص مقصود رسالہ کے مناسب تھیں اوربحیثیت تذلیل وہابیہ وتضلیل وتجہیل امام الوہابیہ تو سب ہی مقصود عالم رسالہ کے ملائم ہیں انہیں بھی گنے توشمار احادیث یہاں تک ایک سوچھیانوے ہو۔
(۴؂ انموذج للبیب فی خصائص الحبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)
مگر ہمارے نبی کریم رؤف ورحیم علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلٰوۃ والتسلیم نے ارشاد فرمایا ہے  :
  ان اللہ کتب الاحسان علی کل شیئ فاذا قتلتم فاحسنوا القتلۃ واذا ذبحتم فاحسنوا الذبحۃ۔ احمد ۱؂ والستۃ الا البخاری عن شداد بن اوس رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
بیشک اللہ تعالٰی نے ہر چیز پر احسان کر نا مقرر فرمادیا ہے تو جب تم کسی کو قتل کرو تو قتل میں بھی احسان برتو اور ذبح کرو تو ذبح میں بھی احسان برتو۔(احمد اورصحاح ستہ نے (علاوہ بخاری کے )شداد بن اوس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؂صحیح مسلم کتاب الصید باب الامر باحسان الذبح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۵۲) 

(سنن النسائی کتاب الضحایا باب حسن الذبح نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۲۰۹) 

(سنن الترمذی کتاب الدیات حدیث ۱۴۱۴   دارالفکر بیروت ۳ /۱۰۵)

 (سنن ابن ماجۃ ابواب الذبائح باب اذا ذبحتم فاحسنوا الذبح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۶) 

(سنن ابی داود کتاب الضحایا باب فی الدفق بالذبیحۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳) 

(مسند احمد بن حنبل حدیث شداد بن اوس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۱۲۳تا۱۲۵)
ولہذا میرا خامہ تیغبار نجدی شکار اپنے مقتولین مخذولین مذبوحین مقبوحین حضرات وہابیہ پر احسان کے لیے یہ پچاسا شمارسے الگ رکھتا  اوربتوفیق اللہ تعالٰی آگے صرف وہ بعض احادیث کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف جلائل احکام تشریعیہ کی صریح اسنادوں پر مشتمل اوروہ کہ ان دلائل تفویض احکام بحضور سید الانام علیہ افضل الصلٰوۃ والسلام کی مؤید ومکمل ہیں لکھتا ہے ان میں مؤید ات تفویض کی تقویم کیجئے کہ اس مبحث کا سلسلہ مسلسل رہے وباللہ التوفیق ۔
حدیث(۴۴) ۱۴۶ :
حدیث صحیح جلیل سنن ابی داود وسنن ابن ماجہ ومسند امام طحاوی ومعجم طبرانی ومعرفت بیہقی کلھم بطریق منصوربن المعمر عن ابراھیم التیمی عن عمرو بن میمون عن ابی عبداللہ الجدلی عن خزیمۃ بن ثابت الا بن ماجۃ فعن سفیان عن ابیہ عن ابراھیم التیمی عن عمروبن میموفٍ عن خزیمۃ کہ حضرت ذوالشہادتین خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
جعل رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم للمسافر ثلٰثاً ولو مضی السائل علی مسألتہٖ لجعلھا خمساً۱؂۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مسافر کے لئے مسح موزہ کی مدت تین رات مقرر فرمائی ،ا ور اگر مانگنے والا مانگتا رہتا تو ضرورحضور پانچ راتیں کردیتے ۔ یہ ابن ماجہ کی روایت ہے ۔
 (۱؂سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی التوفقیت فی المسح للمقیم والمسافر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۲)
اورروایت ابی داود اورایک روایت معانی الآثار ابی جعفر اورایک روایت بیہقی میں ہے : فرمایا :
ولو استزد ناہ لزادنا۲؂۔
اوراگرہم حضور سے زیادہ مانگتے تو حضور مدت اوربڑھا دیتے ۔
(۲؂سنن ابی داود کتاب الطہارۃ باب التوقیت فی المسح آفتاب عالم پریس لاہور ص۲۱) 

(شرح معانی الآثار کتاب الطہار باب المسح علی الخفین الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۶۱)

(السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الطہارۃ باب ماوردفی ترک التوقیت دارصادر بیروت    ۱ /۲۷۷)
دوسری روایت طحاوی میں ہے  :
عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انہ جعل المسح علی الخفین للمسافرثلٰثۃ ایام ولیا لیھن وللمقیم یوماًولیلۃً ولو اطنب لہ السائل فی مسألتہ لزادہ۳؂۔
بیشک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مسح موزہ کی مدت مسافر کے لیے تین رات دن اورمقیم کے لیے ایک رات دن کردی ، اوراگر مانگنے والا مانگے جاتا تو حضور افور زیادہ مدت عطافرماتے ۔
 (۳؂شرح معانی الآثار کتاب الطہار باب المسح علی الخفین الخ ایچ یم سعید کمپنی کراچی ۱ /۶۱)
بیہقی کی روایت اخرٰی یوں ہے :
وایم اللہ لو مضی السائل فی مسألتہٖ لجعلہا خمساً۴؂۔
اگرسائل عرض کئے جاتا تو حضور مدت کے پانچ دن کردیتے ۔
 (۴؂السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الطہارۃ باب ماوردفی ترک التوقیت دار صادر بیروت      ۱ /۲۷۷)
یہ حدیث بلاشبہہ صحیح السند ہے اس کے سب رواۃ اجلّہ ثقات ہیں۔ لاجرم امام ترمذی نے اسے روایت کر کے فرمایا:
ھذاحدیث حسن صحیح۱؂ ۔
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
 (۱؂سنن الترمذی ابواب الطہارۃ با ب ماجاء فی المسح علی الخفین حدیث ۹۵دارالفکر بیروت   ۱ /۱۵۲)
Flag Counter