Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
151 - 212
حدیث۳۳:
صحیح بخاری وترمذی ومسند احمد بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے غزوہ بدر میں حضرت رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم زوجہ امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہما بیمار تھیں سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں مدینہ طیبہ میں شاہزادی کی تیمارداری کے لیے ٹھہرنے کا حکم دیا اورفرمایا  :
ان لک اجر رجل من شھد بدراً ا وسھمہ۱؂،
بیشک تمہارے لئے حاضر ان بدر کے برابر ثواب اورحاضر ی کے مثل غنیمت کا حصہ ہے ۔
(۱؂صحیح البخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مناقب عثمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۲۳)

(سنن الترمذی کتاب المناقب    باب عثمان بن عفان حدیث ۳۷۲۶   دارالفکربیروت   ۵ /۳۹۵)

(مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۱۰۱)
یہ خصوصیت حضرت عثمان کو عطافرمادی حالانکہ جو حاضر جہاد نہ ہوغنیمت میں اس کا حصہ نہیں ۔ 

سنن ابو داود میں انہیں سے ہے :
فضرب لہ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بسھم ولم یضرب لاحدٍ غاب غیرہ۲؂۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقررفرمایا اوران کے سواکسی غیر حاضر کو حصہ نہ دیا۔
 (۲؂سنن ابی داود کتاب الجہاد باب فی من جاء بعد الغنیمۃ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۸)
حدیث آئندہ کتاب الفتوح میں ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یمن پر صوبہ دار کر کے بھیجا ان سے ارشادفرمایا : میں نے تمہارے لئے رعایا کے ہدایا طیب کر دئے اگرکوئی چیز تمہیں ہدیہ دی جائے قبول کرلو ۔ عبید بن صخر کہتے ہیں جب معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ واپس آئے تیس غلام لائے کہ انہیں ہدیہ دیے گئے ، حالانکہ عاملوں کو رعایا سے ہدیہ لینا حرام ہے ۳؂۔
 (۳؂الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ بحوالہ سیف فی الفتوح ، ترجمہ ۸۰۳۷  معاذ بن جبل دارالفکر بیروت ۵ /۱۵۴)
مسند ابویعلٰی میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ھدایا العمال حرام کلھا۴؂۔
عاملوں کے سب ہدئے حرام ہیں۔
 (۴؂کنز العمال بحوالہ عن عن حذیفہ حدیث ۱۵۰۶۸مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۱۱۲)
مسند احمد وسنن بیہقی میں اب وحمدی ساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ھدایا لعمال غلُول ۱؂ ۔
عاملوں کے ہدیے خیانت ہیں۔
 (۱؂مسند احمد بن حنبل حدیث ابی حمید الساعدی المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۴۲۴)

(السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب آداب القاضی باب لایقبل منہ ہدیۃ دارصادر بیروت ۱۰ /۱۳۸)

(کنز العمال حدیث ۱۵۰۶۷مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶ /۱۱۱)
حدیث ۳۴ :
  صحیحین میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے کہ ایک شخص (یعنی حبان بن منقذ بن عمرو انصاری یا ان کے  والد منقذ رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ) سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں فریب کھا جاتاہوں (یعنی لوگ مجھ سے زیادہ قیمت لے لیتے ہیں)فرمایا :
من بایعت فقل لاخلابۃ۲؂ ۔ زاد الحمیدی فی مسندہٖ ثم انت بالخیار ثلٰثا۳؂۔
جس سے خریداری کرو کہہ دیا کرو فریب کی نہیں سہی ۔ حمید ی نے اپنی مسند میں اتنا اضافہ کیا: پھر تمہیں تین دن تک اختیار ہے (اگر ناموافق پاؤ بیع رد کردو)
(۲؂صحیح البخاری کتاب البیوع باب مایکرہ الخداع فی البیع    قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۸۴)

(صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض باب ماینہی عن اضاعۃ المال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۴)

( صحیح البخاری فی الخصومات باب من رد امر السفیہ والضعیف العقل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۵)

(صحیح مسلم کتاب البیوع باب من یخدع فی البیع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷)

(کنز العمال عن عبداللہ بن عمر حدیث ۹۹۶۲   مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴ /۱۵۵)

(۳؂ المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الرد علی ابی حنیفہ حدیث ۳۷۳۱۷دارالکتب العلمیہ بیروت    ۷ /۳۰۵)

(مسندی حمیدی ۲ /۷۴)
یہی مضمون
حدیث۳۵
سنن اربعہ میں انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے
وذکر قصۃً ولم یذکر الزیادۃ
(قصے کا ذکر کیاگیا اورزیادتی کا ذکر نہ کیا گیا ۔ت)

امام نووی شرح مسلم شریف میں فرماتے ہیں : امام ابو حنیفہ وامام شافعی اورروایت اصح میں امام مالک وغیرہم ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے نزدیک غبن باعث خیار نہیں کتنا ہی غبن کھائے بیع کو رد نہیں کرسکتاحضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس حکم سے خاص انہیں کو نوازا تھا اوروں کے لیے نہیں ، یہی قول صحیح ہے۴؂ ۔
 (۴؂شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب البیوع باب من یخدع فی البیع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷)
حدیث ۳۶ :
مشہور میں ہے کہ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد نماز سے ممانعت فرمائی ۔
فیہ عن عمر وعن ابی ھریرۃ وعن ابی سعید ن الخدری کلہا فی الصحیحین ۱؂ وعن معاویۃ فی صحیح البخاری۲؂ وعن عمروبن عنبسۃ فی صحیح مسلم ۳؂رضی اللہ تعالٰی عنہم۔
اس بارے میں حضرت عمر ، حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری سے صحیحین میں مروی ہے اورحضرت معاویہ سے صحیح بخاری میں اورحضرت عمرو بن عنبسہ سے صحیح مسلم میں مروی ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم (ت)۔
 (۱؂صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلٰوۃ   باب الصلٰوۃ بعد الفجر   قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۸۲)

(صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلٰوۃ    باب لاتتحری الصلٰوۃ قبل غروب الشمس   قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۸۲)

(صحیح البخاری ، کتاب مواقیت الصلٰوۃ   باب من یکرہ الصلٰوۃ الا بعد العصر والفجر    قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۸۳)

(صحیح مسلم کتاب صلٰوۃ المسافرین   باب الاوقات التی نہی عن الصلٰوۃ  قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱ /۲۷۵)

(۲؂صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلٰوۃ   باب لاتتحری الصلٰوۃ بعد غروب الشمس قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۸۳)

(۳؂صحیح مسلم کتاب المسافرین    باب الاوقات التی نہی عن الصلٰوۃ   قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۷۶)
خود ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی اس ممانعت کو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں
رواہ ابو داود فی سننہٖ۴؂
 (ابوداود نے اپنی سنن میں اس کو روایت کیا۔ ت )
 (۴؂سنن ابی داود کتاب الصلٰوۃ باب الصلٰوۃ بعد العصر آفتاب عالم پریس لاہور      ۱/ ۱۸۱)
باینہمہ ام المومنین عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتیں :
رواہ الشیخان عن کریب عن ابن عباس وعبدالرحمن بن ازھر والمسوَربن مخرمۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم انھم ارسلوہ الی عائشۃ زوج النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقالو ا اقرء علیھا السلام منا جمیعا وسلھا عن الرکعتین بعد العصر وقل لھابلغنا انک تصلینھما وان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نھٰی عنہما۱؂۔
اس کو بخاری ومسلم نے بحوالہ کریب حضرت ابن عباس بن عبدالرحمن بن ازھر اورمسوربن مخرمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ، ان تینوں نے کریب کو ام المومنین زوجہ رسول سیدہ عائشہ صدیقہ کے پاس بھیجا کہ انہیں ہمارا سلام کہیں اوران سے نماز عصر کے بعد والی دورکعتوں کے بارے میں پوچھو اوران سے عرض کرو کہ ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ وہ پڑھتی ہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے ۔ (ت)
 (۱؂صحیح البخاری کتاب التہجد باب اذا کلم وھو یصلی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۴و۱۶۵)

(صحیح مسلم کتاب صلٰوۃ المسافرین باب الاوقات ان انہی عن الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷۷)

(مشکوٰۃ المسابیح بحوالہ متفق علیہ کتاب الصلٰوۃ باب اوقات النہی قدیمی کتب خانہ کراچی ص۹۴)
علماء فرماتے ہیں یہ ام المومنین کی خصوصیت تھی سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کےلئے جائز کردیا تھا۔
قالہ الامام الجلیل خاتم الحفاظ السیوطی فی انموزج البیب ثم الزرقانی فی شرح المواھب ۱؂۔
امام جلیل خاتم الحفاظ سیوطی علیہ الرحمۃ نے انموذج اللبیب میں پھر زرقانی نے شرح المواھب میں بیان کیا ۔(ت)
 (۱؂شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ)
Flag Counter