Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
150 - 212
حدیث ۳۱:
دلائل النبوۃ بیہقی میں بطریق الحسن مروی ، سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا:
کیف بک اذا لبست سواری کسرٰی۔
وہ وقت تیرا کیسا وقت ہوگا جب تجھے کسرٰی بادشاہ ایران کے کنگن پہنائے جائیں گے ۔
جب ایران زمانہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ میں فتح ہوا اورکسرٰی کے کنگن، کمربند، تاج خدمت وفاروقی میں حاضر کئے گئے امیر المومنین نے انہیںپہنائے اوراپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا :
اللہ اکبر الحمدللہ الذی سلبھما کسرٰی بن ھرمز والبسھما سراقۃ الاعرابی۱؂۔
اللہ بہت بڑا ہے سب خوبیاں اللہ کو جس نے یہ کنگن کسرٰی بن ہرمز سے چھینے اورسراقہ دہقانی کو پہنائے ۔
(۱؂دلائل النبوۃ للبیہقی باب قول اللہ عزوجل وعداللہ الذین اٰمنو ا الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۶ /۳۲۵و۳۲۶)
قال العلامۃ الزرقانی لیس فی ھذا استعمال الذھب وھو حرام لانہ، انما فعلہ تحقیقا لمعجزۃ الرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من غیر ان یقرھما فانہ روٰی انہ امرہ فنزعھما وجعلھما فی الغنیمۃ ومثل ھذا لایعد استعمالاً ۲؂۔
علامہ زرقانی نے فرمایا اس سے سونے کو استعمال کرنا لازم نہیں آیا حالانکہ وہ حرام ہے ، کیونکہ امیر المومنین کا یہ فعل رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے معجزہ کی تحقیق کے لئے تھا، اس فعل کو برقرار نہیں رکھا ۔ مروی ہے کہ آپ نے سراقہ کو حکم دیا انہوں نے وہ کنگن اتار دیئے اور آپ نے انہیں مال غنیمت میں شامل فرمادیا اوراس کو استعمال شمار نہیں کیا جاتا۔
(۲؂شرح الزرقانی علی المواھب المقصد الثامن الفصل الثالث دارالمعرفۃ بیروت ۷ /۲۰۸)
اقول : رحمک اللہ من فاضل کبیر الشان انما المعجزۃ اخبارہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بانہ سواری کسرٰی فانما تحقیقا بلبسہ وانما حرام اللبس ومن شرط الحرمۃ اللبث فالو اضح ماجنحت الیہ من ان ھذا ترخیص وتخصیص من النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لسراقۃ ولم یکن فی الحدیث مایدل علی التملیک ففعل امیر المومنین ما ارشد الیہ الحدیث ثم ردھما مردّھما ۔
میں کہتاہوں اے فاضل کبیر الشان ، اللہ تعالٰی آپ پر رحم فرمائے ، معجزہ تورسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اس بات کی خبر دینا ہے کہ سراقہ کسرٰی کے کنگن پہنے گا ۔ چنانچہ اس کا تحقق تو ان کے کنگن پہننے سے ہوگیا ، اوربے شک حرام پہننا ہے اورحرمت کی شرط لبث ہے ۔ پس واضح ہے کہ یہ سراقہ کے لئے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف رخصت وتخصیص ہے ۔ اورحدیث میں تملیک پر دلالت نہیں چنانچہ امیرالمومنین نے وہ کام کای جس کی طرف حدیث نے راہنمائی فرمائی ، پھر ان کنگنوں کو ان کی جگہ کی طرف لوٹا دیا۔ (ت)
حدیث ۳۲ :
طبقات ابن سعد میں منذر ثوری سے ہے امیر المومنین علی وحضرت طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہما میں کچھ گفتگو ہوئی طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا آپ نے (اپنے بیٹے محمد بن حنفیہ ابوالقاسم )کا نام بھی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پر رکھا اورکنیت (عہ) بھی حضور کی ، حالانکہ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کے جمع کرنے سے منع فرمایا ہے امیر المومنین کرم اللہ تعالٰی وجہہ نے ایک جماعت قریش کو بلا کر گواہی دلوائی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے امیر المومنین سے ارشاد فرمایا تھا:
سیولدلک بعدی غلام فقد نحلتہ اسمی وکنیتی ولا نحل لاحدٍ من امتی بعدہ ۔
عنقریب میرے بعد تمہاے ہاں ایک لڑکا ہوگا میں نے اسے اپنے نام وکنیت دونوں عطافرمادئے اوراس کے بعد میرے کسی اور امتی کوحلال نہیں ۔
عہ :  شیخ محقق اشعۃ للمعات میں فرماتے ہیں :
علماء رادریں مسئلہ اقوال ست وقول صواب ازیں مقالات آنست کہ تسمیہ بنام شریف وے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جائز بلکہ مستحب ست وتکنی بکنیت وے اگرچہ بعد از زمان قوی تروسخت تربودوہمچنیں جمع کردن میان نام وکنیت آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ممنوع بطریق اولٰی وآنکہ علی مرتضٰی کردمخصوص بودبوے رضی اللہ تعالٰی عنہ وغیر او را جائز نبود ۱؂ اھ لکن فی التنویر من کان اسمہ محمد لاباس بان یکنی اباالقاسم اھ۱؂۔ وعللہ فی الدر۲؂۔بنسخ النھی محتجا بفعل علی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
اس مسئلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں ، درست قول اس سلسلہ میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نام پر نام رکھنا جائز بلکہ مستحب ہے ۔ اورآپ کی کنیت کے ساتھ کنیت رکھنا اگرچہ آپ کے وصال کے بعد ہوسخت منع ہے اوراسی طرح آپ کے نام اورکنیت کو جمع کرنا بطریق اولٰی ممنوع ہے ۔ اوروہ جو حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کیا ہے وہ انکی خصوصیت ہے ، انکے غیر کو ایسا کرنا جائز نہیں اھ ۔لیکن تنویر میں ہے کہ جس کا نام محمد ہو اس کے لیے ابوالقاسم کنیت رکھنے میں کوئی حرج نہیں اھ اوردرمیں نسخ نہی کے ساتھ اسکی علت بیان کی گئی حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے فعل سے استدلال کرتے ہوئے ۔
 (۱؂اشعۃ اللمعات کتاب الادب باب الاسامی الفصل الاو ل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۴۴،۴۵)

(۱؂الدرالمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظر والاباحۃ   فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۲) 

(۲؂الدرالمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۲)
اقول وکیف یفید النسخ مع نص الحدیث نفسہ ان ذٰلک کان رخصۃ من النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لعلی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کما سیأتی والمرام یحتاج الی زیادۃ تحری لایرخص فیہ غرابۃ المقام  واللہ تعالٰی اعلم ۱۲منہ۔
میں کہتاہوں کہ کیسے مفید ہے نسخ خود نص حدیث کے ہوتے ہوئے کہ بیشک یہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے رخصت ہے جیسا کہ عنقریب آئیگا ۔ اگرچہ مقصود زیادہ تفصیل کا مقتضی ہے مگر غرابت اس مقام کی اجازت نہیں دیتی۔ اوراللہ تعالٰی خوب جانتا ہے ۔ (ت)
مولاعلی کرم اللہ تعالٰی وجہہ فرماتے ہیں :
  قلت یارسول اللہ ان ولد لی ولد بعد اُسَمِّیہ باسم واکنیہ بکنتک فقل نعم ۔ فکانت رخصۃ من رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لعلی ۱؂۔احمد وابوداود۲؂  والترمذی وصحح وابو یعلی والحاکم فی الکنٰی والطحاوی والحاکم فی المستدرک والبیھقی فی السنن والضیاء فی المختارۃ عنہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
میں نے عرض کی : یارسول اللہ!حضور کے بعد اگر میرے کوئی لڑکا پیدا ہوا تو میں حضور کا نام پاک اس کا نام رکھوں اور حضور کی کنیت اس کی کنیت ۔ فرمایا : ہاں ۔ یہ مولٰی علی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی رخصت تھی۔ (امام احمد وابوداود وترمذی نے اسے روایت کیا اوراس کی تصحیح کی ۔ اور ابو یعلٰی وحاکم نے کنٰی میں اورطحاوی اورحاکم نے مستدرک میں اوربیہقی نے سنن میں اور ضیاء نے مختارہ میں مولا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ ت)
 (۱؂الطبقات الکبری لابن سعد ومن ھذہ الطبقۃ ممن روی عن عثمان وعلی الخ دارصادر بیروت ۵ /۹۱و۹۲)

 (۲؂مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۹۵)

( سنن ابی داود کتاب الادب باب فی الرخصۃ فی الجمع بینہما آفتاب عالم پریس ۲ /۳۲۳)

(سنن الترمذی کتاب الادب باب ماجاء   فی کراھیۃ الجمع بین الاسم النبی وکنیہ حدیث ۲۸۵۲   دارالفکربیروت ۴ /۳۸۴)

( المستدرک للحاکم کتاب الادب   قول النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تسموا باسمی ولاتکنوا بکنیتی دارالفکر بیروت ۴ /۲۷۸)

(السنن الکبرٰی کتاب الضحایاباب ماجاء من الرخصۃ الخ داراصادر بیروت ۹ /۳۰۹)

(شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب التکنی بابی القاسم الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۴۳۲)

(مسند ابو یعلٰی عن علی رضی اللہ عنہ حدیث ۲۹۸  مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۱ /۱۸۴) 

(الضیاء المختارۃ ۲ /۳۴۳)
Flag Counter