صحیح مسلم وسنن نسائی وابن ماجہ ومسند امام احمد میں زینت بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا ابوحذیفہ کی بی بی رضی اللہ تعالٰی عنہما نے عرض کی : یارسول اللہ! سالم (غلام آزاد کردہ ابوحذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہما ) میرے سامنے آتا جاتاہے اووہ جوان ہے ابوحذیفہ کو یہ ناگوار ہے ، سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
ارضعیہ حتی یدخل علیک
تم اسے دودھ پلادو کہ بے پردہ تمہارے پاس آنا جائز ہوجائے ۔ ام المومنین ام سلمہ وغیرہا باقی ازواج مہطرات رضی اللہ تعالٰی عنہن نے فرمایا
: مانرٰی ھٰذہٖ الا رخصۃ ارخصھا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لسالم خاصۃ۱۔
ہمارا یہی اعتقاد ہے کہ یہ رخصت حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خاص سالم کے لیے فرمادی تھی۔
(۱صحیح مسلم کتاب الرضاع فصل رضاعۃ الکبیر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۶۹)
(سنن النسائی کتاب النکاح باب رضاع الکبیر نور محمد کارخانہ کراچی ۲ /۸۳)
(سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب رضاع الکبیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴۱)
(مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۳۹و۱۷۴و۲۴۹)
(مسند احمد بن حنبل حدیث سہلۃ امرأۃ حذیفہ رضی اللہ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۳۵۶)
حدیث ۲۵ :
ابن سعد وحاکم میں بطریق عمرہ بنت عبدالرحمن خودسہلہ زوجہ ابی حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مضمون مذکور ، مروی کہ انہوں نے جب حال سالم عرض کیا فامر ھا ان ترضعیہ۲ حضور نے دودھ پلادینے کا حکم فرمایا ، انہوں نے دودھ پلادیا اورسالم اس وقت مردجوان تھے جنگ بدر میں شریک ہوچکے تھے ۔ جو ان آدمی کو اول تو عورت کا دودھ پینا ہی کب حلا ل ہے پئے توا س سے پسر رضاعی نہیں ہوسکتا مگر حضور نے ان حکموں سے سالم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو مستثنی فرمادیا۔
(۲الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر سالم مولٰی ابی حذیفہ دارصادر بیروت ۳/ ۸۶و۸۷)
(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ الرضاع فی الکبیر الخ دارالفکر بیروت ۴ /۶۱)
حدیث ۲۶:
صحاح ستہ انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے :
ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رخس لعبد الرحمن بن عوفٍ والزبیر فی لبس الحریر لحکمۃ کانت بھما۱۔
یعنی عبدالرحمن بن عوف اورزبیر بن العوام رضی اللہ تعالٰی عنہما کے بدن میں خشک خارش تھی حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت دے دی۔
(۱صحیح البخاری کتاب اللباس باب مایرخص للرجال الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۸)
(صحیح مسلم کتاب اللباس باب اباحۃ لبس الحریر للرجال الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۳)
( سنن ابی داود کتاب اللباس باب لبس الحریر لعدذر آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۵)
(سنن ابن ماجۃ کتاب اللباس باب من رخس لہ فی لبس الحریرایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۵)
(سنن النسائی کتاب الزینۃ باب الرخصۃ فی لبس الحریر نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۲۹۷)
(مسند احمد بن حنبل عن انس المکتب الاسلامی بیروت ۱۲۲ ،۱۲۷، ۱۹۲ ،۲۱۵ ،۲۵۲، ۲۵۵)
حدیث ۲۷ :
ترمذی وابو یعلٰی وبیہقی میں ابو سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے کہ حضورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے امیر المومنین علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے فرمایا :
یا علی لایحل لاحد ان یجنب فی ھٰذا المسجد غیری وغیرک ۲۔
اے علی !میرے اورتمہارے سواکسی کو حلال نہیں کہ اس مسجد میں بحال جنابت داخل ہو۔
(۲سنن الترمذی کتاب المناقب باب مناقب علی ابن ابی طالب دارالفکر بیروت ۵ /۴۰۸)
(مسند ابن یعلٰی عن ابی سعید الخدری حدیث ۱۰۳۸ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۲ /۱۳)
(السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب النکاح باب دخولہ المسجد جنبا دارصادر بیروت ۷ /۶۶)
امام ترمذی فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۳ ۔
(۳سنن الترمذی کتاب المناقب حدیث ۳۷۴۸ دارالفکر بیروت ۵ /۴۰۹)
حدیث۲۸ :
مستدرک حاکم میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : علی کو تین باتیں وہ دی گئیں کہ ان میں سے میرے لئے ایک ہوتی تو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پیاری تھی۔ (سرخ اونٹ عزیز ترین اموال عرب ہیں )کسی نے کہا : امیر الومنین !وہ کیا ہیں؟فرمایا : دختر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے شادی
وسکناہ المسجد مع رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یحل لہ ما یحل لہ
اوران کا مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ رہنا کہ انہیں مسجد میں روا تھا جو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو روا تھا(یعنی بحالت جنابت رہنا) اور روز خیبر کا نشان ۱۔
(۱المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ سدوا ھذہ الابواب الاباب علی دارالفکر بیروت ۳ /۱۲۵)
حدیث ۲۹ :
معجم کبیر طبرانی وسنن بیہقی وتاریخ ابن عساکر میں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الا ان ھذا المسجد لایحل لجنب ولالحائض الا للنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وازواجہ وفاطمۃ بنت محمد وعلی الا بینت لکم ان تضلوا ۔ ھذا روایۃ الطبرانی ۲۔
سن لو یہ مسجد کسی جنب کو حلال نہیں ہے نہ کسی حائض کو ، مگر سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اورحضور کی ازواج مطہرات وحضرت بتول زہرا اورمولا علی کو، صلی اللہ تعالٰی علی الحبیب وعلیہم وسلم ۔ سن لو میں نے تم سے صاف بیان فرماد دیاکہ کہیں بہک نہ جاؤ (یہ طبرانی کی روایت ہے ۔ ت)
(۲المعجم الکبیر عن ام سلمۃ رضی اللہ عنہا حدیث ۸۸۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۳ /۳۷۴)
(السنن الکبیر کتاب النکاح باب دخولہ المسجد جنبا دارصادر بیروت ۷ /۶۵)
(تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۵۰۲۹علی ابن ابی طالب داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۵ /۱۰۸)
حدیث۳۰ :
صحیحین میں براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :
نھانا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عن خاتم الذھب ۳۔
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔
(۳صحیح مسلم کتاب اللباس با ب تحریم استعمال انا ء الذھب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۸۸)
(صحیح البخاری کتاب اللباس باب خواتیم الذھب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۷۱)
بایں ہمہ خود براء رضی اللہ تعالٰی عنہ انگشتری طلائی پہنتے ۔ ابن ابی شیبہ نے بسند صحیح ابواسحٰق اسفرائنی سے روایت کی :
قال رأیت علی البراء خاتما من ذھب ۱ ۔وروٰی نحوہ البغوی فی الجعد یات عن شعبۃ عن ابی اسحٰق ۔
فرما یا : میں نے براء رضی اللہ تعالٰی عنہ کو سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھا۔ (ایسے ہی بغوی نے جعدیات میں شعبہ سے انہوں نے ابی اسحٰق سے روایت کیا ۔ ت)
(۱ المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب اللباس الخ نبمر ۶۲حدیث ۲۵۱۴۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۱۹۵)
امام احمد مسند میں فرماتے ہیں :
حدثنا ابو عبدالرحمٰن ثنا ابورجاء ثنا محمد بن مالک قال رأیت علی البراء خاتماً من ذھبٍ وکان الناس یقولون لہ لم تختم بالذھب وقد نھٰی عنہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وبین یدیہ غنیمۃ یقسمھا سبی وخرثی قال فقسمھا حتی بقی ھذا الخاتم فرفع طرفہ فنظر الی اصحابہٖ ثم خفض ثم رفع طرفہ، ثم خفض ثم طرفہ ، فنظر الیھم قال ای براء فجئتہ حتی قعدت بین یدیہ فاخذ الخاتم فقبض علی کرسوعی ثم قال خذ البس ماکساک اللہ ورسولہ۲۔
یعنی محمد بن مالک نے کہا میں نے براء رضی اللہ تعالٰی عنہ کو سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھا لوگ ان سے کہتے تھے آپ سونے کی انگوٹھی کیوں پہنتے ہیں حالانکہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس سے ممانعت فرمائی ہے ۔ براء رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا ہم حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے حضور کے سامنے اموال غنیمت غلام ومتاع حاضر تھے حضور تقسیم فرما رہے تھے سب اونٹ بانٹ چکے یہ انگوٹھی باقی رہ گئی حضور نے نظر مبارک اٹھا کر اپنے اصحاب کرام کو دیکھا پھر نگاہ نیچی کرلی پھرانظر اٹھا کر ملاحظہ فرمایا پھر نگاہ نیچی کرلی پھر نظر اٹھا کر دیکھا اور مجھے بلایا اے براء !میں حاضر ہوکر حضور کے سامنے بیٹھ گیا سید اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انگوٹھی لے کر میری کلائی تھامی ، پھر فرمایا پہن لے جو کچھ تجھے اللہ ورسول پہناتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
(۲مسندا حمد بن حنبل حدیث البراء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۲۹۴)
براء رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے : تم لوگ کیونکر مجھے کہتے ہو کہ میں وہ چیز اتارڈالوں جسے مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے پہن لے جو کچھ اللہ ورسول نے پہنایا،