| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
صحاح ستہ میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ ایک شخص نے بارگاہ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی : یارسول اللہ! میں ہلاک ہوگیا۔فرمایا: کیا ہے ؟عر ض کی: میں نے رمضان میں اپنی عورت سے نزدیکی کی ۔ فرمایا : غلام آزاد کرسکتاہے ؟ عرض کی : نہ فرمایا : لگاتار دومہینے کے روزے رکھ سکتا ہے ؟عرض کی : نہ ۔ فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاسکتا ہے ؟عرض کی : نہ ۔ اتنے میں خرمے خدمت اقدس میں لائے گئے حضور نے فرمایا: انہیں خیرات کردے ۔ عرض کی : اپنے سے زیادہ کسی محتاج پر؟ مدینے بھر میں کوئی گھر ہمارے برابر محتاج نہیں ۔
فضحک النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حتی بدت نواجذہ وقال اذھب فاطعمہ اھلک۱ ۔
رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یہ سن کر ہنسے یہاں تک کہ دندان مبارک ظاہر ہوئے ، اورفرمایا : جا اپنے گھروالوں کو کھلادے۔
(۱صحیح البخاری کتاب الصوم باب اذا جامع فی رمضان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۹) (صحیح البخاری کتاب الہبۃ باب اذا وھب ھبۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۵۴) (صحیح مسلم کتاب الصیام باب تغلیظ تحریم الجماع فی نہار الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۵۴) (سنن الترمذی کتاب الصوم باب ماجاء فی کفارۃ الفطر الخ حدیث ۷۲۴قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۷۵) (سنن ابی داود کتاب الصیام باب کفارۃ من اتی اھلہ فی رمضان آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۲۵) (سنن ابن ماجۃ ابواب ماجاء فی الصیام باب ماجاء فی کفارۃ من افطر الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۲۱) (مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۴۱ و ۲۸۱) (مسند الدارمی کتاب الصیام باب الذی یقع علی امرأتہ فی شہر رمضان دارالمحاسن للطباعۃ قاہرۃ ۱ /۳۴۳و۳۴۴) (سنن الدارقطنی کتاب الصیام باب القبلۃ للصائم حدیث ۲۲۷۱ / ۴۹ دارالمعرفۃ بیروت ۲/۴۱۰ و ۴۰۹) (سنن الدارقطنی کتاب الصیام باب القبلۃ للصائم حدیث ۲۳۶۳ /۲۲ تا ۲۳۶۸ / ۲۷ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۴۳۶تا ۴۴۱) (السنن الکبری کتاب الصیام باب کفارۃ من اتٰی اھلہ فی نہار رمضان دارصادر بیروت ۴ /۲۲۱و۲۲۲)
مسلمانو ! گناہ کا ایسا کفارہ کسی نے بھی نہ سنا ہوگا سوا دو من خرمے سرکار سے عطا ہوتے ہیں کہ آپ کھالو ، کفارہ ہوگیا ۔ واللہ !یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ رحمت ہے کہ سزا کو انعام سے بدل دے ، ہاں ہاں یہ بارگاہ بیکس پناہ
فاولٰئک یبدل اللہ سیاٰتھم حسنٰت ۲
(توایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ ت)کی خلافت کبرٰی ہے ،
(۲القرآن الکریم ۲۵ /۷۰)
ان کی ایک نگاہ کرم کبائر کو حسنات کردیتی ہے جب توارحم الراحمین جل جلالہ نے گناہگاروں ، خطاواروں ، تباہ کاروں کو ان کا دروازہ بتایا کہ :
ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاءوک۱ الاٰیۃ ۔
گناہگار تیرے دربار میں حاضر ہوکرمعافی چاہیں اورتوشفاعت فرمائے تو خداکو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔
والحمدللہ رب العٰلمین ۔
(۱ القرآن الکریم ۴ /۶۴)
یہی مضمون
حدیث ۲۱:
مسلم میں ام المومنین صدیقہ ۲ رضی اللہ تعالٰی عنہااور
حدیث ۲۲:
مسند بزار ومعجم اوسط طبرانی میں عبداللہ بن عمر۳ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے ۔
(۱ صحیح مسلم کتاب الصیام باب تغلیظ تحریم الجماع فی نہار رمضان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۵۵) (۳مجمع الزوائد بحوالہ ابو یعلٰی کتاب الصیام باب فی من افطر الخ دارالکتاب بیروت ۳ /۱۶۷و۱۶۸)
حدیث ۲۳ :
دارقطنی میں مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے ہے ، ارشادفرمایا :
کل انت وعیالک فقد کفر اللہ عنک۴۔
تواور تیرے اہل وعیال یہ خُرمے کھالیں کہ اللہ تعالٰی نے تیری طرف سے کفارہ اداکردیا۔
(۴سنن الدار قطنی کتاب الصیام باب السواک للصائم حدیث ۲۳۶۱ / ۲۱ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۴۳۸)
ہدایہ میں ہے ، فرمایا:
کل انت ویالک تجزئک ولا تجزئی احد ابعدک ۵۔
تو اورتیرے بچے کھالیں تجھے کفارے سے کفایت کرے گا اورتیرے بعد اورکسی کو کافی نہ ہوگا۔
(۵الہدایۃ کتاب الصوم باب مایوجب القضاء والکفارۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۲۰۰)
سنن ابی داود میں امام شہاب زہری تابعی سے ہے :
انما کان ھٰذہ رخصۃ لہ خاصۃ ولو ان رجلا فعل ذٰلک الیوم لم یکن لہ بدمن التکفیر۶ ۔
یہ خاص اسی شخص کےلئے رحمت تھی آج کوئی ایسا کرے تو کفارہ سے چارہ نہیں ۔
(۶سنن ابی داود کتاب الصیام باب من اتی اہلہ فی رمضان آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۲۵ )
امام جلال الدین سیوطی وغیرہ علماء نے بھی اسے خصائص مذکورہ سے گنا
وفی الحدیث وجوہ اخر۔