Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
147 - 212
حدیث۱۴:
احمد طبرانی میں مصعب بن نوح سے ہے ایک بڑی بی(عہ)نے وقت بیعت نوحے کا بدلہ اتارے کا اذن چاہا، فرمایا :
 اذھبی فکافیھم۱؂ ۔
جاؤ عوض کرآؤ۔
عہ: محتمل ہے کہ یہ بی بی ام عطیہ ہوں لہذا واقعہ جدا گانہ نہ شمار ہوا ۱۲منہ
 (۱؂ الدرالمنثور بحوالہ احمد وغیرہ الآیۃ ۶۰/۱۲داراحیاء التراث العربی بیروت ۸ /۱۳۳)
اقول: فظاھر ان کلا رخصۃ تختص بصاحبتھا لاشرکۃ فیھا لغیرھا فلاینکر بما ذکرنا علی قول النووی ان ھذا محمول علی الترخیص لام عطیۃ فی اٰل فلان خاصۃ وبمثلہ یندفع ما استشکلوا من التعارض فی حدیثی التضحیۃ لابی بردۃ وعقبۃ لاسیما مع زیادۃ البیھقی المذکورۃ فانہ حکم لاخبر ولاشک ان الشارع اذا خص ابابردۃ کان کل من سواہ داخلاً فی عموم عدم الاجزاء وکذا حین خص عقبۃ فصدق فی کل مرۃ لن تجزی احدً ا بعد فافھم فقد خفی علی کثیر من الاعلام۔
میں کہتاہوں ظاہر ہے کہ ہر رخصت صاحت رخصت کے ساتھ مختص ہوتی ہے ۔ اس میں کسی غیر کی شرکت نہیں ہوتی ۔ چنانچہ جو ہم نے ذکر کیا اس کی وجہ سے امام نووی کے قول کا انکار نہیں ہوتاکہ بیشک یہ بطور خاص آل فلاں کے بارے میں ام عطیہ کو رخصت دینے پر محمول ہے ۔ اوراسکی مثل سے قربانی کے بارے میں ابو بردہ اورعقبہ کی حدیثوں میں واقع تعارض کا اشکال بھی مندفع ہوجاتاہے خصوصاً اس زیادتی کے ساتھ جو بیہقی میں مذکور ہے کہ بیشک یہ حکم ہے خبر نہیں ہے اور اس میں شک نہیں کہ شارع علیہ السلام نے جب ابو بردہ کو مختص فرمایا تو ان کے ماسوا ہر ایک عدم اجزا ء کے عموم میں داخل ہوگیا ۔ اسی طرح جب عقبہ کو خاص فرمادیا تو ہر مرتبہ یہ بات صادق آئی کہ تیرے بعد ہرگز یہ کسی کے لیے کفایت نہیں کرے گا ، تو سمجھ لے ، تحقیق بہت سے علماء پر یہ بات مخفی رہی ۔ (ت)
حدیث ۱۵:
طبقات ابن سعد میں اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے جب ان کے شوہر اول جعفر طیار رضی اللہ تعالٰی عنہ شہید ہوئے سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا :
تسلبنی ثلٰثاً ثم اصنعی ماشئت ۱؂۔
تین دن سنگار سے الگ رہو پھر جو چاہو کرو۔
 (۱؂الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر جعفر بن ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۴۱)

(کنزالعمال حدیث ۲۷۸۲۰مؤوسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۶۵۰)
یہاں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کو اس حکم عام سے استثناء فرمادیا کہ عورت کو شوہر پر چار مہینے دس دن سوگ واجب ہے ۔
حدیث ۱۶ :
ابن السکن میں ابو نعمان ازدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے ، ایک شخص نے ایک عورت کو پیام نکاح دیا سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : مہردو ۔ عرض کی : میرے پاس کچھ نہیں ۔ فرمایا :
اما تحسن سورۃ من القراٰن فاصدقہا السورۃ ولایکون لاحدٍ بعد ک مھرًا ۲؂۔ رواہ سعید بن منصور مختصراً۔
کیا تجھے قرآن عظیم کی کوئی سورت نہیں آتی ، وہ سورۃ سکھانا ہی اس کا مہر کر، اورتیرے بعد یہ مہر کسی اورکو کافی نہیں ۔ (اس کو سعید بن منصور نے مختصراً روایت کیا ۔ ت)
(۲؂الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ترجمہ ۱۰۶۳۹ ابو النعمان الازدی دارالفکر بیروت ۶ /۲۶۷)
حدیث ۱۷ :
ابی داود ونسائی وطحاوی وابن ماجہ وخزیمہ میں عم عمارہ بن خزیمہ بن ثابت انصاری اور
حدیث ۱۸۔
مصنف ابن ابی شیبہ وتاریخ بخاری ومسند ابی یعلٰی وصحیح ابن خزیمہ ومعجم کبیر طبرانی میں حضر ت خزیمہ اور
حدیث ۱۹
حارث بن اسامہ بن نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے گھوڑا خریداوہ بیچ کر مُکر گیا اور گواہ مانگا، جو مسلمان آتا اعرابی کو جھڑکتا کہ خرابی ہو تیرے لئے ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حق کے سوا کیا فرمائیں گے (مگر گواہی نہیں دیتا کہ کسی کے سامنے کا واقعہ نہ تھا) اتنے میں خزیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ حاضر بارگاہ ہوئے گفتگو سن کر بولے : انا اشھد انک قد بایعتہ میں گواہی دیتاہوں کہ تُو نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ہاتھ بیچا ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : تم موجود تو تھے ہی نہیں تم نے گواہی کیسے دی؟عرض کی :
بتصد یقک یارسول اللہ۱؂
(وفی الثانی) صدقتک بما جئت بہ وعلمت انک لاتقو ل الا حقا۲؂(وفی الثالث) انا اصدقک علی خبر السماء والارض الا اصدقک علی الاعرابی ۳؂۔
یارسول اللہ! میں حضور کی تصدیق سے گواہی دے رہاہوں میں حضور کے لائے ہوئے دین پر ایمان لایا ہوں اور یقین جانا کہ حضور حق ہی فرمائیں گے میں آسمان وزمین کی خبروں پر حضور کی تصدیق کرتاہوں کیا اس اعرابی کے مقابلے میں تصدیق نہ کروں ۔
(۱؂سنن ابی داود کتاب القضاء باب اذا علم الحاکم صدق الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۵۲) 

(شرح معانی الآثار کتاب القضاء والشہادات حدیث کفایۃ شہادۃ خزیمہ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۲ /۳۱۰)

(۲؂کنزالعمال بحوالہ ع حدیث ۳۷۰۳۸مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۳ /۳۷۹)

(المعجم الکبیر حدیث ۳۷۳۰المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۴ /۸۷)

(اسدالغابۃ ترجمہ ۱۴۴۶خزیمۃ بن ثابت دارالفکر بیروت            ۱ /۶۹۷)

(۳؂کنزالعمال حدیث ۳۷۰۳۹مؤسسۃ الرسالۃ بیروت           ۱۳ /۳۸۰)
اس کے انعام میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیشہ ان کی گواہی دو مردکی شہادت کے برابر فرمادی اورارشاد فرمایا :
 من شھد لہ خزیمۃ او شھد علیہ فحسبہ۴؂۔
خزیمہ جس کسی کے نفع خواہ ضرر کی گواہی دیں ایک انہیں کی شہادت بس ہے ۔
 (۴؂المعجم الکبیر عن خزیمہ حدیث ۳۷۳۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت      ۴ /۸۷)

(کنزالعمال بحوالہ مسند ابی یعلٰی وغیرہ حدیث ۳۷۰۳۸موسسۃ الرسالہ بیروت        ۱۳ /۳۸۰)

(التاریخ الکبیر حدیث ۲۳۸دارالباز للنشر والتوزیع مکۃ المکرمۃ     ۱ /۸۷)
ان احادیث سے ثابت کہ حضور نے قرآن عظیم کے حکم عام
واشھد وا ذوی عدل منکم ۵؂۔
    (اوراپنے میں دو ثقہ کو گواہ کرلو ۔ ت) سے خزیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ عنہ کو مستثنٰی فرمادیا۔
(۵؂القرآن الکریم   ۶۵/۲)
Flag Counter