Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
146 - 212
امام قسطلانی نے اس کی نظیر میں پانچ واقعے ذکر کئے اورامام سیوطی نے دس ، پانچ وہ اورپانچ اور ۔ فقیر نے ان زیادات سے تین واقعے ترک کردئے اورپندرہ اوربڑھائے ، اوران کی احادیث بتوفیق اللہ تعالی جمع کیں کہ جملہ بائیس واقعےہوئے وللہ الحمد ان کی تفصیل اور ہر واقعے پر حدیث سے دلیل سنئے :
حدیث صحیحین۱ ،
میں براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے ان کے ماموں ابو بردہ بن نیاز رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی تھی جب معلوم ہوا یہ کافی نہیں عرض کی : یارسول اللہ وہ تو میں کرچکا اب میرے پاس چھ مہینے کا بکری کا بچہ ہے مگر سال بھر والے سے اچھاہے ۔ 

فرمایا:
اجعلھا مکانھا ولن تجزی عن احد بعدک۲؂ ۔
اس کی جگہ اسے کردو اورہرگز اتنی عمر کی بکری تمھارے بعد دوسروں کی قربانی میں کافی نہ ہوگی۔
 (۲؂صحیح البخاری کتاب العیدین باب الخطبۃ بعد العید قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳۲)

(صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب وقتہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۵۴)
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں اس حدیث کے نیچے ہے :
خصوصیۃ لہ لاتکون لغیرہٖ اذکان لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان یخص من شاء بما شاء من الاحکام۳؂۔
یعنی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک خصوصیت ابو بردہ کو بخشی جس میں دوسرے کا حصہ نہیں اس لئے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اختیار تھا کہ جسے چاہیں جس حکم سے چاہیں خاص فرمادیں۔
 (۳؂ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب العیدین حدیث ۹۶۵دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۶۵۷)
نیز حدیث صحیحین میں عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو قربانی کے لئے جانور عطافرمائے ان کے حصے میں ششماہہ بکری آئی حضور سے حال عرض کیا۔ فرمایا :
ضح بھا۱؂۔
تم اسی کی قربانی کردو۔
 (۱؂صحیح البخاری کتاب الاضاحی باب قسمۃ الاضاحی بین الناس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۳۲)

(صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب سن الاضحیۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۵۵)
سنن بیہقی میں بسند صحیح اتنا اور زائد ہے:
 ولارخصۃ فیھا لاحد بعدک۔ ۲؂ ۔
تمہارے بعد اورکسی کے لیے اس میں رخصت نہیں۔
 (۲؂السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الضحایا باب لایجزی الجذع الخ دارصادر بیروت ۹/ ۲۷۰)

(کنزالعمال حدیث ۱۲۲۵۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۵ /۱۰۵)
شیخ محقق اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
احکام مفوض بود بوے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم برقول صحیح ۳؂۔
قول صحیح کے مطابق احکام حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سپرد تھے ۔(ت)
 (۳؂اشعہ اللمعات شرح المشکوٰۃ باب الاضحیۃ الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر       ۱ /۶۰۹)
حدیث صحیح مسلم میں ام عطیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے جب بیعت زنان کی آیت اتری اوراس میں ہر گناہ سے بچنے کی شرط تھی کہ لایعصینک فی معروف ، اورمردے پر بَین کر کے رونا چیخنا بھی گناہ تھا میں نے عرض کی ؛
یارسول اللہ الا اٰل فلان فانھم کانوا اسعد ونی فی الجاھلیۃ فلابدلی من ان اسعدھم۔
یارسول اللہ ! فلاں گھر والوں کو استثناء فرمادیجئے کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں میرے ساتھ ہوکر میری ایک  میت پر نوحہ کیاتھا تو مجھے ان کی میت پر نوحے میں ان کا ساتھ دینا ضروری ہے ۔
فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الا اٰل فلان۴؂۔
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اچھا وہ مستثنٰی کردئے ۔
 (۴؂صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی نہی النساء عن النیاحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۰۴)
اورسنن نسائی میں ارشاد فرمایا :
اذھبی فاسعدیھا۔ جاان کا ساتھ دے آ۔
یہ گئیں اور وہاں نوحہ کر کے پھر واپس آکر بیعت کی۱؂۔
 (۱؂سنن النسائی کتاب البیعۃ باب بیعۃ النساء نور محمد کارخانہ کراچی ۲ /۱۸۳)
ترمذی کی روایت میں ہے :
فاذن لھا۲؂۔
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں نوحہ کی اجازت دے دی۔
 (۲؂سنن الترمذی کتاب التفسیر تحت الآیۃ ۶۰ /۱۲   حدیث ۳۳۱۸   دارالفکر بیروت   ۵ /۲۰۲)
مسند احمد میں ہے ، فرمایا :
اذھبی فکافیھم ۳؂۔
جاؤ ان کا بدلہ اتارآؤ۔
 (۳؂مسند احمد بن حنبل ۶ /۴۰۷ و ۴۰۸     والدرالمنثور تحت الآیۃ  ۶۰/ ۱۲    بیروت  ۸/ ۱۳۳)
امام نووی اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں یہ حضور نے خاص رخصت ام عطیہ کو دے دی تھی خاص آل فلاں کے بارے میں
وللشارع ان یخص من العموم ماشاء ۴؂۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اختیار ہے کہ عام حکموں سے جو چاہے خاص فرما دیں ۔
 (۴؂شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی نہی النساء عن النیاحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۰۴)
یہی مضمون حدیث ۱۲ ابن مردویہ میں عبداللہ ابن عباس سے خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہما سے ہے :
انھا قالت یارسول اللہ کان ابی واخی ماتافی الجاھلیۃ وان فلانۃ اسعدتنی وقدمات اخوھا الحدیث ۵؂۔
اس نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، زمانہ جاہلیت میں میرا باپ اوربھائی فوت ہوئے تو فلاں عورت نے میرا ساتھ دیاتھا اوراب اس کا بھائی فوت ہوا ہے ۔(ت)
حدیث ۱۳:
ترمذی میں اسماء بنت یزید انصاری رضی اللہ عنہا سے ہے انہوں نے بھی ایک نوحے کا بدلہ اتارنے کی اجازت مانگی حضور نے انکار فرمایا،
قالت فراجعتہ مرارا فاذن لی ثم لم انح بعد ذٰلک ۶؂۔
میں نے کئی بار حضور سے عرض کی ، آخر حضور نے اجازت دے دی ۔ پھر میں نے کہیں نوحہ نہ کیا۔
 (۶؂سنن الترمذی کتاب التفسیر سورۃ الممتحنۃ حدیث ۳۳۱۸دارالفکر بیروت ۵ /۲۰۲)
Flag Counter