Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
145 - 212
حدیث ۸:
امیر المومنین علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاولو قلت نعم لوجبت ۔ رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ ۴؂۔
ہر سال فرض نہیں اورمیں ہاں کہہ دوں تو فرض ہوجائے ۔ (اس کو احمد ، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔ ت)
 (۴؂سنن الترمذی کتاب الحج باب ماجاء کم فرض الحج حدیث ۸۱۴دارالفکر بیروت  ۲ /۲۲۰)

(سنن الترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المائدۃ حدیث ۳۰۶۶ دارالفکر بیروت ۵ /۴۰)

(سنن ابن ماجۃ ابواب المناسک باب فرض الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۱۳)

(مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۱۱۳)
حدیث ۹:
ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے :
لوقلت نعم لو جبت ثم اذًا لاتسمعون ولا تطیعون ۔ رواہ احمد ۱؂ والدارمی والنسائی ۔
میں ہاں فرمادوں تو فرض ہوجائے پھر تم نہ سنو نہ بجا لاؤ۔ (اس کو احمد ، دارمی اورنسائی نے روایت کیا۔ ت)
 (۱؂سنن النسائی کتاب مناسک الحج باب وجوب الحج نور محمد کارخانہ کراچی    ۱ /۶۱)

( سنن الدارمی کتاب مناسک الحج باب کیف وجوب الحج دارالمحاسن للطباعۃ القاہرۃ ۲ /۳۶۱)

(مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۵۵)
حدیث ۱۰:
انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ کو فرمایا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے :
لو قلت نعم لوجبت ولو وجبت لم تقوموا بھاولولم تقوموابھا عذبتم ۔ رواہ ابن ماجۃ۲؂ ۔
اگر میں ہاں فرمادوں توواجب ہوجائے اوراگر واجب ہوجائے تو بجا نہ لاؤ اوراگر بجا نہ لاؤ تو عذاب کئے جاؤ(اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا۔ت)
 (۲؂ سنن ابن ماجۃ ابواب المناسک باب فرض الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۱۳)
اورمضمون اخیر کہ ''مجھے چھوڑے رہو''یہ بھی صحیح مسلم وسنن نسائی میں اسی حدیث ابی ہریرہ کے ساتھ ہے کہ فرمایا :
لو قلت نعم لوجبت ولما استطعتم ۔
اگر میں فرماتا ہاں ، تو ہرسال واجب ہوجاتااوربیشک تم نہ کرسکتے۔
پھر فرمایا :
ذرونی ماترکتم فانما ھلک من کان قبلکم بکثرۃ سؤالھم واختلافھم علی انبیآئھم فاذا امرتکم بشیئ فاتوا منہ مااستطعتم واذا نھیتکم عن شیئ فدعوہ ۔ رواہ ابن ماجہ ۱؂مفردا۔
مجھے چھوڑے رہو جب تک میں تمہیں چھوڑوں کہ اگلی امتیں اسی کثرت سوال اور اپنے انبیاء کے خلاف مراد چلنے سے ہلاک ہوئیں تو جب میں تمہیں کسی بات کا حکم فرماؤ ں تو جتنی ہوسکے بجالاؤ اورجب بات سے منع فرماؤں تو اسے چھوڑدو۔ (اس کو تنہا ابن ماجہ نے ہی روایت کیا۔ ت)
 (۱؂صحیح مسلم کتاب الحج باب فرض الحج مرۃ فی العمر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۳۲)

(سنن النسائی کتاب مناسک الحج باب وجوب الحج نور محمد کارخانہ کراچی ۲ /۱)

(سنن ابن ماجۃ باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲ )
یعنی جس بات میں میں تم پر وجوب یا حرمت کا حکم نہ کروں اسے کھود کھود کر نہ پوچھو کہ پھر واجب حرام کا حکم فرمادوں تو تم پر تنگی ہوجائے ۔ 

یہاں سے بھی ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جس بات کا نہ حکم دیا نہ منع فرمایا وہ مباح وبلاحرج ہے ۔ وہابی اسی اصل اصیل سے جاہل ہوکر ہرجگہ پوچھتے ہیں خداورسول نے اس کا کہاں حکم دیا ہے ۔ان احمقوں کو اتنا ہی جواب کافی ہے کہ خدا ورسول نے کہاں منع کیا ہے ، جب حکم نہ دیا نہ منع کیا تو جواز رہا، تم جو ایسے کاموں کو منع کرتے ہو اللہ ورسول پر افتراکرتے بلکہ خود شارع بنتے ہوکہ شارع صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے منع کیانہیں اورتم منع کر رہے ہو۔ مجلس میلا دمبارک وقیام وفاتحہ وسوم وغیرہا مسائل بدعت وہابیہ سب اسی اصل سے طے ہوجاتے ہیں ۔
اعلٰی حضرت حجۃ الخلف بقیۃ السلف خاتمۃ المحققین سیدنا الوالدقدس سرہ الماجد
نے
کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد
میں اس کا بیان اعلٰی درجہ کا روشن فرمایا ہے ۔
فنوراللہ منزلہ واکرم عندہ نزلہ اٰمین۔
امام احمد قسطلانی مواہب لدنیۃ شریف میں فرماتے ہیں :
من خصائصہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یخص من شاء بما شاء من الاحکام۲؂
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے خصائص کریمہ سے ہے کہ حضور شریعت کے عام احکام سے جسے چاہتے مستثنٰی فرمادیتے ۔
 (۲؂المواہب اللدنیۃ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۶۸۹)
علامہ زرقانی نے شرح میں بڑھایا:
من الاحکام وغیرھا۔
کچھ احکام ہی کی خصوصیت نہیں حضور جس چیز سے چاہیں جسے چاہیں خاص فرمادیں۳؂
صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
 (۳؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الرابع دارالمعرفۃ بیروت      ۵ /۳۲۲)
امام جلیل جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے خصائص الکبرٰی شریف میں ایک باب وضع فرمایا :
باب اختصاصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بانہ یخص من شاء بما شاء من الاحکام۱؂۔
باب اس بیان کا کہ خاص نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو یہ منصب حاصل ہے کہ جسے چاہیں جس حکم سے چاہیں خاص فرمادیں۔
(۱؂الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بانہ یخص من شاء الخ مرکز اہلسنت گجرات الہند  ۲ /۲۶۲)
Flag Counter