Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
144 - 212
اقول: یہ مضمون متعدد احادیث صحیحہ میں ہے :
حدیث۱ :
ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما صحیحین میں :
 فقال العباس رضی اللہ تعالٰی عنہ الا الا ذخر لساغتنا وقبورنا ،فقال الا الا ذخر ۲؂۔
یعنی عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی یارسول اللہ!مگر اذخر کہ وہ ہمارے سناروں اورقبروں کے کام آتی ہے ۔ فرمایا : مگر اذخِر۔
 (۲؂صحیح بخاری ، کتاب العمرۃ  ، باب باب لاینفر صیدالحرم  قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۷)

( صحیح مسلم کتاب الحج باب تحریم مکۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۳۸و۴۳۹)
حدیث۲:
ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ نیز صحیحین میں :
 قال رجل من قریش الا الاذخر یارسول اللہ فانا نجعلہ فی بیوتنا وقبورنا ۔ فقال النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الا الاذخر الا الا ذخر۱؂۔
ایک مرد قریش نے عرض کی : مگر اذخریارسول اللہ کہ ہم اسے اپنے گھروں اورقبروں میں صَرف کرتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : مگر اذخر مگر اذخر ۔
 (۱؂صحیح البخاری کتاب العلم باب کتابۃ العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۲)

(صحیح مسلم کتاب الحج باب تحریم مکۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۳۹)
حدیث ۳:
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سنن ابن ماجہ میں :
فقال العباس رضی اللہ تعالٰی عنہ الا الا ذخر فانہ للبیوت والقبور فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الا الا ذخر۲؂۔
عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی : مگر اذخر کہ وہ گھروں اور قبروں کے لیے ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا مگر اذخر۔
 (۲؂سنن ابن ماجہ ابواب المناسک فضل المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۱)
نیز میزان مبارک میں شریعت کی کئی قسمیں کیں، ایک وہ جس پر وحی وارد ہوئی ،
الثانی ما اباح الحق تعالٰی لنبیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان یسنہ علی رایہ ھو کتحریم لبس الحریر علی الرجال وقولہ فی حدیث تحریم مکۃ الا الا ذخر ولو لا ان اللہ تعالٰی کان یحرم جمیع نبات الحرم لم یستثن صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الاذخر ونحوحدیث لو لا ان اشق علی امتی لاخرت العشاء الی ثلث الیل ونحو حدیث لو قلت نعم لوجبت ولم تستطیعوا فی جواب من قال لہ فی فریضۃ الحج اکل عام یارسو ل اللہ قال لا ولو قلت نعم لو جبت وقد کان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یخفف علی امتہ وینھاھم عن کثرۃ السؤال ویقول اترکونی ماترکتم ۱؂ اھ باختصار۔
یعنی شریعت کی دوسری قسم وہ ہے جو مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ان کے رب عزوجل نے ماذون فرمادیا کہ خود اپنی رائے سے جو راہ چاہیں قائم فرمادیں، مردوں پر ریشم کا پہننا حضور نے اسی طور پر حرام فرمایا اوراسی حرمت مکہ سے گیاہِ اذخر کو استثناء فرمادیا ۔ اگراللہ عزوجل نے مکہ معظمہ کی ہر جڑی بوٹی کو حرام نہ کیا ہوتا تو حضور کو اذخر کے مستثنٰی فرمانے کی کیا حاجت ہوتی۔ اوراسی قبیل سے ہے حضور کا ارشاد کہ اگر امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں عشاء کو تہائی رات تک ہٹا دیتا ۔ اوراسی باب سے ہے کہ جب حضور نے فرض حج بیان فرمایا کسی نے عرض کی : یارسول اللہ !کیا حج ہر سال فرض ہے ؟ فرمایا : نہ ، اوراگر میں ہاں کہہ دوں تو ہرسال فرض ہوجائے اورپھر تم سے نہ ہوسکے اوریہی وجہ ہے کہ حضور اپنی امت پر تخفیف وآسانی فرماتے اورمسائل زیادہ پوچھنے سے منع کرتے اورفرماتے ہیں مجھے چھوڑے رہو جب تک میں تمہیں چھوڑوں۔
 (۱؂ میزان الشریعۃ الکبرٰی فصل شریف فی بیان الذم من الائمۃ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۶۷)
اقول: یہ مضمون بھی کہ ''میں نماز عشاکو مؤخر فرمادیتا''متعدد احادیث صحیحہ میں ہے ۔
حدیث ۴ :
ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما معجم کبیر طبرانی میں سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لولا ضعف الضعیف وسقم السقیم لاخرت صلوٰۃ العتمۃ۲؂ ۔
اگرضعیف کے ضعف اورمریض کے مرض کا پاس نہ ہوتا تو میں نماز عشاکو پیچھے ہٹادیتا۔
 (۲؂المعجم الکبیر عن عباس حدیث ۱۲۱۶۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۴۰۹)
حدیث ۵:
ابی سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ مسند احمد وسنن ابی داود وابن ماجہ وغیرہا میں یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: لولا ضعف الضعیف وسقم السقیم وحاجۃ ذی الحاجۃ لاخرت ھذہ الصلوٰۃ الی شطر اللیل ۳؂۔
اگر کمزور کی ناتوانی اوربیمار کے مرض اورکامی کے کام کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک موخر فرما دیتا۔
 (۳؂سنن ابی داودکتاب الصلوٰۃ باب وقت العشاء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۶۱)

(سنن ابن ماجۃ کتاب الصلوٰۃ باب وقت العشاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۰)

(مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۵)
ورواہ ابن ابی حاتم بلفظ لولا ان یثقل علی امتی لاخرت صلوٰۃ العشاء الی ثلث اللیل۴؂ ۔
ابن ابی حاتم نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا: اگر میں اپنی امت پر بوجھ محسوس نہ کرتا تو میں عشاء کو تہائی رات تک ہٹا دیتا۔(ت)
حدیث ۶:
ابی ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ احمد وابن ماجہ ومحمد بن نصر کی روایت میں یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لولا ان اشق علی امتی لاخرت العشاء الٰی ثلث اللیل او نصف اللیل ۱؂۔
اگر اپنی امت کو مشقت میں ڈالنے کا لحاظ نہ ہوتا تو میں عشاء کو تہائی یا آدھی رات تک ہٹا دیتا۔
 (۱؂سنن ابن ماجۃ ، کتاب الصلوٰۃ وقت العشاء آفتاب عالم پریس لاہور ص۵۰)

( کنزالعمال بحوالہ حم ومحمد بن نصر حدیث ۱۹۴۸۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷ /۳۹۹)
واخرجہ ابن جریر فقال الی نصف اللیل۲؂۔
 (ابن جریرنے روایت کیا ، فرمایا : آدھی رات تک ۔ت)
اوران کے سوا احادیث صحیحہ عنقریب اسی معنٰی میں آتی ہیں ان شاء اللہ تعالٰی ۔ نیز یہ مضمون کہ ''میں ہاں فرمادوں تو حج ہرسال فرض ہوجائے ''متعدد احادیث صحاح میں ہے ۔
حدیث ۷:
ابی ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ عند احمد ومسلم ۳؂
والنسائی  (امام احمد ،مسلم اور نسائی کے نزدیک ۔ت)
 (۳؂صحیح مسلم کتاب الحج باب فرض الحج مرۃ فی العمر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱  /۴۳۲)

(سنن النسائی کتاب مناسک الحج باب وجوب الحج نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۱)

(مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۵۰۸)
Flag Counter