Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
143 - 212
یہاں سے ائمہ مفسرین فرماتے ہیں حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے قبل طلوعِ آفتابِ اسلام زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو مول لے کر آزاد فرمایا اور متبنّٰی بنایا تھا ، حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پھوپھی امیہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی تھیں سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں حضرت زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نکاح کا پیغام دیا، اول تو راضی ہوئیں اس گمان سے کہ حضور اپنے لئے خواستگاری فرماتے ہیں، جب معلوم ہا کہ زید رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے طلب ہے انکار کیا اور عرض کر بھیجا کہ یا رسول اللہ!میں حضور کی پھوپھی کی بیٹی ہوں ایسے شخص کے ساتھ اپنا نکاح پسند نہیں کرتی ، اوران کے بھائی عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بھی اسی بنا پر انکار کیا، اس پر یہ آیہ کریمہ اتری، اسے سن کر دونوں بہن بھائی رضی اللہ تعالٰی عنہما تائب ہوئے اورنکاح ہوگیا۳؂" ۔
(۳؂الجامع لاحکام القرآن (امام قرطبی )تحت الآیۃ ۳۳ / ۳۶  دارالکتاب العربی بیروت ۱۴ /۱۶۵) 

( الدرالمنثور تحت الآیۃ ۳۳ /۳۶   داراحیاء التراث العربی بیروت ۶ /۵۳۷ و ۵۳۸)
ظاہر ہے کہ کسی عورت پر اللہ عزوجل کی طرف سے فرض نہیں کہ فلاں سے نکاح پرخواہی نخواہی راضی ہوجائے خصوصاً جبکہ وہ اس کا کفونہ ہوخصوصاً جبکہ عورت کی شرافت خاندان کواکب ثریا سے بھی بلند وبالاتر ہو، بایں ہمہ اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا دیا ہوا پیام نہ ماننے پر رب العزۃ جل جلالہ نے بعینہٖ وہی الفاظ ارشادفرمائے جو کسی فرض الہ کے ترک پر فرمائے جاتے اوررسول کے نام پاک کے ساتھ اپنا نام اقدس بھی شامل فرمایا یعنی رسول جو بات تمہیں فرمائیں وہ اگرہمارا فرض نہ تھی تو اب ان کے فرمانے سے فرض قطعی ہوگئی مسلمانوں کو اس کے نہ ماننے کا اصلاً اختیار نہ رہا جو نہ مانے گا صریح گمراہ ہوجائے گا دیکھو رسول کے حکم دینے سے کام فرض ہوجاتاہے اگرچہ فی نفسہ خدا کا فرض نہ تھا ایک مباح وجائز امر تھا، ولہٰذا ائمہ دین خدا ورسول کے فرض میں فرق فرماتے ہیں کہ خدا کا کیا ہوا فرض اس فرض سے اقوٰی ہے جسے رسول نے فرض کیا ہے ۔ اورائمہ محققین تصریح فرماتے ہیں کہ احکام شریعت حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سپرد ہیں جو بات چاہیں واجب کردیں جو چاہیں ناجائز فرمادیں، جس چیز یا جس شخص کو جس حکم سے چاہیں مستثنٰی فرمادیں ۔ امام عارف باللہ سید عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبرٰی باب الوضومیں حضرت سیدی علی خواص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل فرماتے ہیں :
کان الامام ابو حنیفۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ من اکثر الائمۃ ادباً مع اللہ تعالٰی ولذٰلک لم یجعل النیۃ فرضا وسمی الوتر واجباً لکونھما ثبتا بالسنۃ لابالکتاب فقصد بذٰلک تمییز مافرضہ اللہ تعالٰی وتمییز ما اوجبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فان مافرضہ اللہ تعالٰی اشد مما فرضہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من ذات نفسہ حین خیّرہ اللہ تعالٰی ان یوجب ماشاء اولایوجب ۱؂۔
یعنی امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ان اکابر ائمہ میں ہیں جن کا ادب اللہ عزوجل کے ساتھ بہ نسبت اورائمہ کے زائد ہے اسی واسطے انہوں نے وضو میں نیت کوفرض نہ کیا اور وتر کا نام واجب رکھا، یہ دونوں سنت سے ثابت ہیں نہ کہ قرآن عظیم سے ، تو امام نے ان احکام سے یہ ارادہ کیا کہ اللہ تعالٰی کے فرض اوررسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے فرض میں فرق وتمیز کردیں اس لئے کہ خدا کا فرض کیا ہوا اس سے زیادہ مؤکد ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خود اپنی طرف سے فرض کردیا جبکہ اللہ عزوجل نے حضور کو اختیار دے دیا تھا کہ جس بات کو چاہیں واجب کردیں جسے نہ چاہیں نہ کریں۔
 (۱؂میزان الشریعۃ الکبرٰی باب الوضو دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۴۷)
اس میں بارگاہ وحی وتضرع احکام کی تصویر دکھا کر فرمایا:
کان الحق تعالٰی جعل لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان یشرع من قبل نفسہ ماشاء کما فی حدیث تحریم شجر مکۃ فان عمّہ العباس رضی اللہ تعالٰی عنہ لما قال لہ یارسول اللہ الا الاذخر فقال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الا الاذخر ولو ان اللہ تعالٰی لم یجعل لہ ان یشرع من قبل نفسہ لم یتجرّأ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان یستثنی شیئامما حرمہ اللہ تعالٰی۱؂۔
یعنی حضرت عزت جل جلالہ نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو یہ منصب دیا تھا کہ شریعت میں جو حکم چاہیں اپنی طرف سے مقررفرمادیں جس طرح حرم مکہ کے نباتات کو حرام فرمانے کی حدیث میں ہے کہ جب حضور نے وہاں کی گھاس وغیرہ کاٹنے سے ممانعت فرمائی حضور کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ!گیاہ اذخر کو اس حکم سے نکال دیجئے ۔ فرمایا: اچھا نکال دی ، اس کا کاٹنا جائز کردیا۔اگر اللہ سبحانہ نے حضور کو یہ رتبہ نہ دیاہو تاکہ اپنی طرف سے جو شریعت چاہیں مقررفرمائیں تو حضور ہرگز جرأت نہ فرماتے کہ جو چیز خدا نے حرام کی اس میں سے کچھ مستثنٰی فرمادیں۔
 (۱؂میزان الشریعۃ الکبرٰی فصل فی بیان جملۃ من الامثلۃ المحسوسۃ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۶۰)
Flag Counter