الر کتٰب انزلنٰہ الیک لتخرج الناس من الظلمٰت الی النور باذن ربھم الٰی صراط العزیز الحمید۲۔
یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف اتاری تاکہ تم اے نبی !لوگوں کو اندھیروں سے نکال لوروشنی کی طرف انکے رب کی پروانگی سے غالب سراہے گئے کی راہ کی طرف ۔
ولقد ارسلنا موسٰی باٰیٰتنا ان اخرج قومک من الظلمٰت الی النور۳۔
اوربیشک بالیقین ہم نے موسٰی کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجاکہ اے موسٰی ! تونکال لے اپنی قوم کواندھیروں سے روشنی کی طرف ۔
اقول: اندھیریاں کفروضلالت ہیں اور روشنی ایمان وہدایت جسے غالب سراہے گئے کی راہ فرمایا۔ اورایمان وکفر میں واسطہ نہیں ، ایک سے نکالنا قطعاً دوسرے میں داخل کرنا ہے ۔ توآیات کریمہ صاف ارشاد فرمارہی ہیں کہ بنی اسرائیل کو موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کفر سے نکالا اورایمان کی روشنی دے دی اس امت کو مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کفر سے چھڑاتے ایمان عطافرماتے ہیں ، اگر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا یہ کام نہ ہوتا انہیں اس کی طاقت نہ ہوتی تو رب عزوجل کا انہیں یہ حکم فرمانا کہ کفر سے نکال لو معاذاللہ تکلیف مالا یطاق تھا۔
الحمدللہ ! قرآن عظیم نے کیسی تکذیب فرمائی امام وہابیہ کے اس حصر کی کہ :
''پیغمبر خدا نے بیان کردیا کہ مجھ کو نہ قدرت ہے نہ کچھ غیب دانی ، میری قدرت کا حال تو یہ ہے کہ اپنی جان تک کے نفع ونقصان کا مالک نہیں تو دوسرے کا تو کیا کرسکوں ۔غرض کہ کچھ قدرت مجھ میں نہیں ، فقط پیغمبری کا مجھ کو دعوٰی ہے اورپیغمبرکا اتنا ہی کام ہے کہ برے کام پر ڈرا دیوے اوربھلے کام پر خوشخبری سنا دیوے دل میں یقین ڈال دینا میرا کام نہیں انبیاء میں اس بات کی کچھ بڑائی نہیں کہ اللہ نے عالم میں تصرف کی کچھ قدرت دی ہو کہ مرادیں پوری کردیویں یا فتح وشکست دے دیویں یا غنی کردیویں یا کسی کے دل میں ایمان ڈال دیویں ان باتوں میں سب بندے بڑے اورچھوٹے برابر ہیں عاجز اوربے اختیار ۱ اھ ''ملخصاً۔
(۱ تقویۃ الایمان الفصل الثانی فی ردالاشراک فی العلم مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۵)
مسلمانو! اس گمراہ کے ان الفاظ کو دیکھو اوران آیتوں اورحدیثوں سے کہ اب تک گزریں ملاؤ دیکھو یہ کس قدر شدت سے خدا ورسول کو جھٹلارہا ہے ، خیر اسے اس کی عاقبت کے حوالے کیجئے ، شکر اس اکرم الاکرمین کا بجالائیے جس نے ہمیں ایسے کریم اکرم دائم الکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ہاتھ سے ایمان دلوایا ان کے کرم سے امید واثق ہے کہ بعونہٖ تعالٰی محفوظ بھی رہے ؎
تو نے اسلام دیا تو نے جماعت میں لیا
تو کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیہ تیرا۲
(۲حدائق بخشش وصل اول مکتبہ رضویہ کراچی ص۳)
ہاں یہ ضرور ہے کہ عطائے ذاتی خاصہ خدا ہے
(بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو۔ت) وغیرہا میں اسی کا تذکرہ ہے کچھ ایمان کے ساتھ خاص نہیں پیسہ کوڑی بھی بے عطائے خدا کوئی بھی اپنی ذات سے نہیں دے سکتا۔ ع
(جب تک خدا نہ دے سلیمان کیسے دے سکتاہے ۔ت)
یہی فرق ہے جسے گم کر کے تم ہرجگہ بہکے اور
افتؤمنون ببعض الکتاب وتکفر ون ببعض۔۴
(اورخدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اورکچھ سے انکار کرتے ہو۔ ت) میں داخل ہوئے ۔
نسأل اللہ العافیۃ وتمام العافیۃ ودوام العافیہ والحمدللہ رب العٰلمین۔
ہم اللہ تعالٰی سے کامل دائمی عافیت کا سوال کرتے ہیں ، اورتمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ (ت)
قاتلوا الذین لایؤمنون باللہ ولا بالیوم الاٰخر ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ۱۔
لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اورنہ پچھلے دن پر ، اورحرام نہیں مانتے اس چیز کو جسے حرام کردیا ہے اللہ اوراس کے رسول محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ۔
ماکان لمؤمن ولا مؤمنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرًا ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلالاً مبینا۲۔
نہیں پہنچتا کسی مسلمان مرد نہ کسی مسلمان عورت کو کہ جب حکم کریں اللہ ورسول کسی بات کا کہ انہیں کچھ اختیار ہے اپنی جانوں کا اورجو حکم نہ مانے اللہ ورسول کا وہ صریح گمراہی میں بہکا۔