احکام الہٰی کی دو قسمیں ہیں : تکوینیہ مثل احیاء واماتت وقضائے حاجت ودفع مصیبت وعطائے دولت ورزق ونعمت وفتح وشکست وغیرہا عالم کے بندوبست۔
دوسرے تشریعیہ کہ کسی فعل کو فرض یا حرام یا واجب یا مکروہ یا مستحب یامباح کردینا مسلمانوں کے سچے دین میں ا ن دونوں حکموں کی ایک ہی حالت ہے کہ غیر خدا کی طرف بروجہ ذاتی احکام تشریعی کی اسناد بھی شرک۔
قال اللہ تعالٰی ام لھم شرکاء شرعوالھم من الدین مالم یأذن بہ اللہ۱۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: کیا ان کے لیے خدا کی الوہیت میں کچھ شریک ہیں جنہوں نے ان کے واسطے دین میں اورراہیں نکال دی ہیں جن کا خدا نے انہیں حکم نہ دیا۔
(۱القرآن الکریم ۴۲ /۲۱)
اوربروجہ عطائی امور تکوین کی اسناد بھی شرک نہیں ۔
قال اللہ تعالٰی :
فالمدبرات امرًا۲۔
قسم ان مقبول بندوں کی جو کاروبارعالم کی تدبیر کرتے ہیں ۔
(۲القرآن الکریم ۸۰ /۵)
مقدمہ رسالہ میں شاہ عبدالعزیز کی شہادت سن چکے کہ :
حضرت امیر وذریۃ طاہرہ اوراتمام امت برمثال پیران ومرشدان می پرستند وامور تکوینیہ رابایشاں وابستہ میدانند۳۔
حضرت امیر (مولاعلی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم ) اور ان کی اولاد کو تمام امت اپنے مرشد جیسا سمجھتی ہے اورامورتکوینیہ کو ان سے وابستہ جانتی ہے ۔(ت)
(۳تحفہ اثنا عشریہ باب ہفتم درامامت سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۱۴)
مگر کچے وہابی ان دوقسموں میں فرق کرتے ہیں ، اگر کہئے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ بات فرض کی یافلاں کام حرام کردیا توشرک کاسودانہیں اچھلتا ، اوراگرکہئے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نعمت دی یا غنی کردیا تو شرک سوجھتاہے ۔ یہ انکا نرا تحکم ہی نہیں خود اپنے مذہب نامہذب میں کچا پن ہے ۔ جب ذاتی اورعطائی کا تفرقہ اٹھا دیا پھر احکام میں فرق کیسا ، سب کا یکساں شرک ہونا لازم ، آخر ان کا امام مطلق وعام کہہ گیا کہ :
''کسی کا م میں نہ بالفعل ان کو دخل ہے اورنہ اس کی طاقت رکھتے ہیں ''۱۔ نیز کہا: ''کسی کام کو روایا ناروا کر دینا اللہ ہی کی شان ہے ''۲۔
(۱ و۲تقویۃ الایمان الفصل الثالث مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۲۰)
صاف ترکہا: ''کسی کی راہ ورسم کو ماننا اوراسی کے حکم کو اپنی سند سمجھنا یہ بھی انہیں باتوں میں سے ہے کہ خاص اللہ نے اپنی تعظیم کے واسطے ٹھہرائی ہیں تو جو کوئی یہ معاملہ کسی مخلوق سے کرے تو اس پر بھی شرک ثابت ہے ''۳۔ اورآگے اس کا قول : ''سو اللہ کے حکم پہنچنے کی راہ بندوں تک رسول ہی کا خبر دینا ہے ''۴۔
(۳ و۴ تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۲۸)
اس میں وہ رسول کو حاکم نہیں مانتاصرف مخبر وپیغام رساں مانتا ہے اوراس سے پہلے حصہ کے ساتھ تصریح کرچکا ہے کہ : ''پیغمبر کا اتنا ہی کام ہے کہ برے کام پر ڈرا دیوے اوربھلے کام پر خوشخبری سنا دیوے ''۵
نیز کہا کہ : ''انبیاء اولیاء کو جو اللہ نے سب لوگوں سے بڑا بنایا سو ان میں بڑائی یہی ہوتی ہے کہ اللہ کی راہ بتاتے ہیں اوربرے بھلے کاموں سے واقف ہیں سولوگوں کو سکھلاتے ہیں۱"۔
(۱ تقویۃ الایمان الفصل الثانی فی ردالاشراک فی العلم مطبع علیمی اندرون لاہاری دروازہ لاہور ص۱۷)
صرف بتانے جاننے پہچاننے پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ حکم ان کے ہیں فرائض کو انہوں نے فرض کیا محرمات کو انہوں نے حرام کردیا ۔
آخر ہمیں جو احکام معلوم ہوئے اپنے بزرگوں سے آئے انہیں ان کے اگلوں نے بتائے ، یونہی طبقہ بطبقہ تبع کو تابعین ، تابعین کو صحابہ ، صحابہ کو سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ، تو کیا کوئی یوں کہے گا کہ نماز میرے باپ نے فرض کی ہے یا زنا کو میرے استاد نے حرام کردیا۔ نبی کی نسبت اگر یوں کہئے گا تو وہی ذاتی عطائی کا فرق مان کر،اورکسی کی راہ ماننے اور اس کا حکم سند جاننے کو ان افعال سے گن چکا جو اللہ تعالٰی نے اپنی تعظیم کے لیے خاص کئے ہیں اورانہیں غیر کے لیے کرنے کا نام اشراک فی العبادۃ رکھا، اوراس قسم میں بھی مثل دیگر اقسام تصریح کی کہ :
''پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ آپ ہی اس تعظیم کے لائق ہیں یا یوں سمجھے کہ انکی اس طرح کی تعظیم سے اللہ خوش ہوتاہے ہر طرح شرک ثابت ہوتاہے ''۲۔
توذاتی وعطائی کا تفرقہ دین نجدی میں قیامت کا تفرقہ ڈال دے گا۔ وہ صاف کہہ چکا : ''نہیں حکم کسی کا سوائے اللہ کے اس نے تو یہی حکم کیا ہے کہ کسی کو اس کے سوا مت مانو''۳۔
(۳تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لاہاری دروازہ لاہور ص۲۸)
جب رسول کو ماننے ہی کی نہ ٹھہری تو رسول کو حاکم ماننا اورفرائض ومحرمات کو رسول کے فرض وحرام کردینے سے جاننا کیونکر شرک نہ ہوگا ، غرض وہ اپنی دھن کا پکا ہے ، ولہذا محمدر سول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کس قدرتاکید شدید سے مدینہ طیبہ کے گردو پیش کے جنگل کا ادب فرض کیا اوراس میں شکار وغیرہ منع فرمایا ، مگر یہ جو ارشادہوا کہ ''مدینے کو حرم میں کرتاہوں۔''اس چوٹی کے موحدنے کہ جا بجا کہتاہے کہ ''خدا کے سواکسی کو نہ مانو''صاف صاف حکم شرک جڑدیا اوراللہ واحد قہار کے غضب کا کچھ خیال نہ کیا
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۱
(اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے ۔ ت)
(۱ القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷)
تو مناسب ہواکہ بعض احادیث وہ بھی ذکر کرجائیں جن میں احکام تشریعیہ کی اسناد صریح ہے ، اوراب اس قسم کی خاص دو آیتوں کا ذکر بھی محمود، اگرچہ آیات گزشتہ سے بھی دوآیتوں میں یہ مطلب موجود، اوران کے ذکر سے جب عدد آیات انصاف عقود سے متجاوز ہوگا توتکمیل عقد کے لیے تین آیتوں کا اوربھی اضافہ ہوکہ پچاس کا عدد پورا ہوجس طرح احادیث میں بعونہٖ تعالٰی پانچ خمسین یعنی ڈھائی سو کا عدد کامل ہوگا، ورنہ استیعاب آیات(عہ) میں منظور ، نہ احادیث میں مقدور
، واللہ الھادی الی منائر النور ،
عہ : مثلاً یہی احکام تشریعیہ کی آیات بکثرت ہیں جن سے دو ہی یہاں مذکور ، یونہی اس مضمون میں کہ خلائق کو موت فرشتے دیتے ہیں ، صرف دوآیتیں اوپر گزریں ، قرآن پاک میں پانچ آیتیں اس مضمون کی اورہیں ، ہم ان پانچ کو یہاں ذکر کردیں کہ اول پانچ آیتیں کتب سابقہ سے مذکور ہوئی ہیں ان کے سبب پچاس پوری صرف قرآن عظیم سے ہوجائیں۔
آیت ۱: ان الذین توفتھم الملٰئکۃ ۲۔
بیشک وہ لوگ جنہیں موت دی فرشتوں نے ۔
(۲القرآن الکریم ۴/ ۹۷)
آیت ۲: جاء تھم رسلنا یتوفونھم ۳۔
ہمارے رسول ان کے پاس آئے انہیں موت دینے کو۔
(۳القرآن الکریم ۷ /۳۷)
آیت ۳: ولو ترٰی اذیتوفی الذین کفروا الملٰئکۃ ۴۔
کاش تم دیکھو جب کافروں کو موت دیتے ہیں فرشتے۔
(۴القرآن الکریم ۸/۵۰)
آیت ۴: ان الخزی الیوم والسوء علی الکٰفرین الذین تتوفھم الملٰئکۃ ظالمی انفسھم ۵۔
بیشک آج کے دن رسوائی اورمصیبت کا فروں پر ہے جنہیں موت فرشتے دیتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ستم ڈھائے ہوئے ہیں۔