(۴شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴۲)
مسند الفردوس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
یبعث اللہ عزوجل من ھٰذہ البقعۃ ومن ھذا الحرم سبعین الفا یدخلون الجنۃ بغیر حساب یشفع کل واحد منھم فی سبعین الفاوجوھھم کالقمر لیلۃ البدر۱۔
اللہ تعالٰی روز قیامت اس بقیع اوراس حرم سے ستر ہزار شخص ایسے اٹھائے گا کہ بیحساب جنت میں جائیں گے اوران میں ہر ایک ستر ہزار کی شفاعت کرے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے۔
(۱الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۸۱۲۳دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۲۶۰)
(کنز العمال حدیث ۳۴۹۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۲۶۲)
اوراگر وہ حدیثیں گنی جائیں جن میں مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ کو حرمین فرمایا تو عدد کثیر ہیں ، بالجملہ حدیثیں اس باب میں حدتواتر پر ہیں ، تو بالیقین ثابت کہ مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کے جنگل کا بتاکید تام واہتمام تمام وہی ادب مقرر فرمادیا جو مکہ معظمہ کے جنگل کا ہے ،
بایں ہمہ طائفہ تالفہ وہابیہ کا امام بد فرجام بکمال دریدہ دہنی صاف صاف لکھ گیا : ''گردوپیش کے جنگل کا ادب کرنا یعنی وہاں شکار نہ کرنا، درخت نہ کاٹنا ، یہ کام اللہ نے اپنی عبادت کے لیے بتائے ہیں پھر جوکوئی کسی پیر ، پیغمبر یا بھوت وپری کے مکانوں کےگردوپیش کے جنگل کا ادب کرے تو اس پرشرک ثابت ہے''۲
(۲تقویۃ الایمان مقدمۃ الکتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہورص۸)
کیوں ، ہم نہ کہتے تھے کہ یہ ناپاک مذہب ملعون مشرب اسی لئے نکلا ہے کہ اللہ ورسول تک شرک کا حکم پہنچائے پھر اورکسی کی کیا گنتی ۔ تف ہزار تف بر روئے بددینی۔ اب دیکھنا ہے کہ اس امام بے لگام کے مقلد کہ بڑے موحّد بنے پھرتے ہیں اپنے امام کا ساتھ دیتے ہیں یا محمد رسول اللہ پڑھنے کی کچھ لاج رکھتے ہیں ۔ اللہ کے بے شمار درودیں محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اوران کے ادب داں غلاموں پر۔
مسلمانو! صرف یہی نہ سمجھنا کہ اس گمراہ امام الطائفہ کے نزدیک حرم محترم حضور پرنورمالک الامم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ادب ہی شرک ہے ، نہیں نہیں بلکہ اس کے مذہب میں جوشخص حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت سراپا طہارت کے لیے مدینہ طیبہ کو چلے اگرچہ چار پانچ ہی کو س کے فاصلے سے (کہ کہیں وہابیت کے شرک شدالرحال کا ماتھا نہ ٹھنکے ) اس پر راستے میں بے ادبیاں بیہود گیاں کرتے چلنافرض عین وجز ایمان ہے یہاں تک کہ اگراپنے مالک وآقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے عظمت وجلال کے خیال سے باادب مہذب بن کر چلے گا اس کے نزدیک مشرک ہوجائے گا ۔ اسی کتاب ضلالت مآب کے اسی مقام میں ''رستے میں نامعقول باتیں کرنے سے ''۱۔بچنا بھی انہیں امورمیں گنادیا جنہیں خدا پر افتراً کہتاہے ''یہ سب کام اللہ نے اپنی عبادت کے لیے اپنے بندوں کوبتائے ہیں جو کوئی کسی پیر وپیغمبر کے لیے کرے اس پرشرک ثابت ہے '''۲
(۱ و۲ تقویۃ الایمان مقدمۃ الکتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہورص۷ و ۸)
سبحان اللہ ! نامعقول باتیں کرنا بھی جزو ایمان نجدیہ ہے بلکہ سچ پوچھو تو ان کا تمام ایمان اسی قدر ہے وہ تو خیریہ ہو گئی کہ مجتہد الطائفہ کو یہ عبارت لکھتے وقت آیہ کریمہ فلارفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج۳(تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ نہ کسی سے جھگڑا حج کے وقت۔ ت) پوری یاد نہ آئی ورنہ راہ مدینہ طیبہ میں فسق وفجور کرتے چلنا بھی فرض کہہ دیتا وہ بھی ایسا کہ جو وہاں فسق سے بازآئے مشرک ہوجائے،
ولاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم ۔
حضرات نجدیہ ! خداراانصاف ، کیا افعال عبادت سے بچنا انبیاء واولیاء ہی کے معاملے سے خاص ہے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ شرک کے کام جائز ، نہیں نہیں جو شرک ہے ہر غیر خدا کے ساتھ شرک ہے ، تو آپ حضرات جب اپنے کسی نذیر بشیر یا پیر فقیر یا مرید رشید یا دوست عزیز کے یہاں جایا کیجئے تو راستے میں لڑتے جھگڑتے ایک دوسرے کا سر پھوڑتے ماتھا رگڑتے چلا کیجئے ورنہ دیکھو کھلم کھلا مشرک ہوجاؤ گے ہرگز مغفرت کی بو نہ پاؤگے کہ تم نے غیر حج کی راہ میں ان باتوں سے بچ کر وہ کام کیا جو اللہ نے اپنی عبادت کے لیے اپنے بندوں کوبتایا تھا اوراس جوتی پیزار میں یہ نفع کیسا ہے کہ ایک کام میں تین مزے ، جدال ہونا تو خود ظاہر اورجب بلاوجہ ہے تو فسوق بھی حاضر اور رفث کے معنی ہر معقول بات کے ٹھہرے تو وہ بھی حاصل ۔ایک ہی بات میں ایمان نجدیت کے تینوں رکن کامل ۔
ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ الحمدللہ
خامہ برق بار رضاخرم سوزی نجدیت میں سب سے نرالا رنگ رکھتاہے ،