ان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حرم البقیع وقال لاحمٰی الا للہ ورسولہٖ۱۔
بیشک رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بقیع کو حرم بنادیا اورفرمایا: چراگاہ کو کوئی اپنی حمایت میں نہیں لے سکتاسوا اللہ ورسول کے جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
(۱شرح معانی الآثار باب احیاء الارض المیتۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۷۵ )
روی الثلٰثۃ الا مام الطحاوی
(تینوں احادیث امام طحاوی نے روایت کیں ۔ت)
یہ سولہ حدیثیں ہیں ، پہلی آٹھ میں خود حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے مدینہ طیبہ کو حرم کردیا، اورپچھلی آٹھ میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے کہا کہ حضور کے حرم کردینے سے مدینہ طیبہ حرم ہوگیا ، حالانکہ یہ صفت خاص اللہ عزوجل کی ہے ۔ پہلی آٹھ سے پانچ میں اپنے پدرکریم سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی طرف بھی یہی نسبت ارشادہوئی کہ مکہ معظمہ کی حرم محترم انہوں نے حرم کردی انہوں نے امن والی بنادی،
حالانکہ خود ارشاد فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
ان مکۃ حرمھا اللہ تعالٰی ولم یحرمھا الناس ۔البخاری والترمذی ۲ عن ابی شریح ن البغدادی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
بیشک مکہ معظمہ کو اللہ تعالٰی نے حرم کیا ہے کسی آدمی نے نہ نہیں کیا۔ (بخاری اورترمذی نے ابی شریح بغدادی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۲صحیح البخاری ابواب العمرۃ باب لایعضد شجر الحرم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۷)
(سنن الترمذی کتاب الحج حدیث ۸۰۹ دارالفکر بیروت ۲ /۲۱۷)
یہ اسناد یں خاص ہمارے رسالے کی مقصود ہیں مگر یہاں جان وہابیت پر ایک آفت اورسخت وشدید تر ہے ، مدینہ طیبہ کے جنگل کا حرم ہونا نہ فقط انہیں سولہ بلکہ انکے سوا اوربہت احادیث کثیرہ وارد ہیں ۔
حدیث ۱۷ صحیحین:
انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مدینہ یہاں سے یہاں تک حرم ہے اس کا پیڑ نہ کاٹا جائے ۔ امام بخاری اورمسلم اوراحمد اورطحاوی نے روایت کیااور لفظ جامع الصحیح کے ہیں۔ ت)
(۱صحیح البخاری فضائل مدینہ باب حرمۃ المدینۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۱)
(صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۱)
(کنز العمال بحوالہ حم وغیرہ حدیث ۳۴۸۰۴مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۲۳۱)
(مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۴۲)
حدیث۱۸صحیحین:
ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
المدینۃ حرم الحدیث ھما ۲ والطحاوی وابن جریر واللفظ للمسلم۔
مدینہ حرم ہے (بخاری ومسلم اورطحاوی اورابن جریر نے روایت کیااورلفظ مسلم کے ہیں ۔ت)
(۲صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۲)
حدیث ۱۹صحیحین:
مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم سے ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
المدینۃ حرم مابین عیر الی کذا ولمسلم والطحاوی مابین عیر الی ثور الحدیث۳ زاد احمد وابو داود فی روایۃ لایختلی خلاھا ولاینفر صیدھا۴۔
مدینہ کوہ عیر سے جبل ثور تک حرم ہے ۔ احمداور ابو داود نے ایک روایت میں یہ اضافہ کیا کہ اس کی گھاس نہ کاٹی جائے اور اس کا شکار نہ بھڑکایاجائے ۔
(۳صحیح البخاری فضائل مدینہ باب حرمۃ المدینۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۵۱)
(صحیح مسلم کتاب الحج باب فضائل مدینہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۴۲)
(سسن ابی داود کتاب المناسک باب فی تحریم المدینۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۷۸)
(مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۸۱)
(شرح معانی الآثار کتاب الصید باب صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴۱)
(۴مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۱۹)
(سنن ابی داود ، کتاب المناسک باب فی تحریم المدینۃ آفتاب عالم پریس لاہور۱ /۲۷۸)
حدیث۲۰صحیح مسلم:
سہل بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دست مبارک سے مدینہ طیبہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا :
انھاحرم اٰمن ، ھو واحمد۱ والطحاوی وابو عوانۃ ۔
بیشک یہ امن والی حرم ہے ۔(مسلم ، احمد ، طحاوی اورابوعوانہ نے روایت کیا۔ ت)
(۱صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۳)
(مسند احمد بن حنبل عن سہل بن حنیف المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۸۶)
(کنز العمال بحوالہ ابی عوانہ حدیث ۳۴۸۰۰مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۲۳۰)
(شرح معانی الآثار کتاب الصید باب صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۴۲)
حدیث۲۱:
امام احمدحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لکل نبی حرم وحرمی المدینۃ ۲۔
ہر نبی کے لیے ایک حرم ہوتی ہے اورمیر ی حرم مدینہ ہے ۔
(۲مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۱۸)
حدیث ۲۲:
عبدالرزاق حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے :
ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حرم کل دافۃ اقبلت علی المدینۃ من العضۃ الحدیث۳۔
بیشک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ہر گروہ مردم کو کہ حاضر مدینہ ہو اس کے خاردار درختوں کو ممنوع فرمادیا۔
(۳المصنف لعبدالرزاق باب حرمۃ المدینۃ حدیث ۱۷۱۴۷ المجلس العلمی بیروت ۹ /۲۶۱)