نیز صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عرض کرتے ہیں :
اللھم انی قد حرمت مابین لابتیھا کما حرمت علی لسان ابراھیم الحرم ھو واحمد ۱ والرویانی عن ابی قتادۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
الہٰی ! بیشک میں نے تمام مدنیہ کو حرم کردیا جس طرح تو نے زبان ابراہیم پر حرم محترم کر حرم بنایا (مسلم ، احمد اوررویانی نےابی قتادہ رضی ا للہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت )
(۱صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۰تا۴۴۳)
( مسند احمد بن حنبل عن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۳۰۹)
(کنز العمال بحوالہ حم والرویانی عن ابی قتادہ رضی ا للہ عنہ حدیث ۳۴۶۸۷۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۲۴۴)
حدیث ۱۳۷:
نیز صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان ابراھیم حرم بیت اللہ وامنہ وانی حرمت المدینۃ مابین لابتیہا لایقطع عضا ھھا ولا یصادصیدھا ۔ ھو والطحاوی ۲عن جابر بن عبداللہ رضی ا للہ تعالٰی عنہما۔
بیشک ابراہیم نے بیت اللہ کو حرم بنادیا اورامن والا کردیا اورمیں نے مدینہ طیبہ کوحرم کیا کہ اس کے خار دار درخت بھی نہ کاٹے جائیں اور اس کے جانور شکار نہ کئے جائیں (مسلم اورطحاوی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۲شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴۲)
(کنز العمال بحوالہ مسلم حدیث ۳۴۸۱۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۲۳۲)
حدیث ۱۳۸:
صحیحین میں ہے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
حرم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مابین لابتی المدینۃ وجعل اثنا عشر میلاًحول المدینۃ حمٰی ۔ ھما واحمد۳ وعبدالرزاق فی مصنفہ۔
تمام مدینہ طیبہ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حرم کردیا اور اس کے آس پاس بارہ بارہ میل تک سبزہ ودرخت کو لوگوں کے تصرف سے اپنی حمایت میں لے لیا ۔ بخاری اورمسلم اورعبدالرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیا۔ت)
(۳صحیح البخاری فضائل المدینۃ باب حرم المدینۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۱)
(صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۲)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۸۷)
(المصنف لعبد الرزاق کتاب حرمۃ المدینۃ حدیث ۱۷۱۴۵ المجلس العلمی بیروت ۹ /۲۶۰و۲۶۱)
ابن جریرکی روایت یوں ہے :
حرم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم شجرھا ان یعضد اویخبط ۔ رواہ عن خبیب ن الھذلی ۱ رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کے پیڑکاٹنا یا ان کے پتے جھاڑنا حرام فرمایا ۔(اس کو خبیب ہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے ۔ت)
حدیث ۱۳۹:
صحیح مسلم شریف میں ہے رافع بن خدیج رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
ان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حرم مابین لابتی المدینۃ۔ ھو والطحاوی ۲فی معانی الاٰثار۔
بیشک رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تمام مدینہ طیبہ کو حرم بنادیا۔ (مسلم اورطحاوی نے معانی الآثار میں روایت کیا ۔ ت )
(۲صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۰)
( شرح معانی الآثار کتاب الصید باب صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴۲)
حدیث ۱۴۰:
نیز صحیح مسلم ومعانی الآثار میں عاصم احول سے ہے :
قلت لانس من مالک أحرم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم المدینۃ قال نعم الحدیث۳ ۔ زاد ابوجعفر فی روایۃ لایعضد شجرھا ۴ولمسلم فی اخرٰی نعم ھی حرام لایختلٰی خلاھا فمن فعل ذٰلک فعلیہ لعنۃ اللہ والملٰئکۃ والناس اجمعین۵۔
یعنی میں نے انس رضی ا للہ تعالٰی عنہ سے پوچھا، کیا مدینہ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حرم بنادیا ؟ فرمایا : ہاں ، اس کا پیڑ نہ کاٹا جائے اس کی گھاس نہ چھیلی جائے ، جو ایسا کرے اس پرلعنت ہے اللہ اورفرشتوں اورآدمیوں سب کی
۔ والعیاذباللہ تعالٰی۔
(۳صحیح مسلم کتاب الحج فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۱)
(۴ شرح معانی الآثار کتاب الصید باب صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴۳)
(۵صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۴۱)
حدیث ۱۴۱:
سنن ابی داود میں ہے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا :
ان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حرم ھذا الحرم۱۔
بیشک رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس حرم محترم کو حرم بنادیا۔
(۱سنن ابی داود کتاب المناسک باب فی تحریم المدینۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۷۸)
حدیث ۱۴۲:
شرحبیل کہتے ہیں ہم مدینہ طیبہ میں کچھ جال لگا رہے تھے زید بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے جا ل پھینک دیے اورفرمایا:
تعلموا ان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حرم صیدھا ۔ الامام ابو جعفر ۲فی شرح الطحاوی ۔
تمہیں خبر نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کا شکار حرام قراردیاہے ۔(امام ابو جعفر نے شرح طحاوی میں اس کو بیان کیا ہے۔ ت)
(۲شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴۲)
ابوبکر بن ابی شیبہ نے زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یوں روایت کی :
ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حرم مابین لابتیھا۳۔
بیشک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مدینے کے دونوں سنگلاخ کے مابین کو حرم کردیا۔
حدیث ۱۴۳:
ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
ان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حرم مابین لابتی المدینۃ ان یعضد شجرھا اویخبط۴۔
بیشک رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تمام مدینے کو حرم بنادیا ہے کہ اس کے پیڑ نہ کاٹے جائیں نہ پتے جھاڑیں۔
(۴ شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴۲)
حدیث ۱۴۴:
ابراہیم بن عبدالرحن بن عوف فرماتے ہیں میں نے ایک چڑیا پکڑی تھی اسے لئے ہوئے باہر گیا میرے والد ماجد حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ ملے شدت سے میر اکان مل کر چڑیا کو چھوڑدیا اورفرمایا :
حرم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم صید مابین لابتیھا۵۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مدینے کا شکار حرام فرمادیاہے ۔
(۵شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴۲)