(رسالہ ضمنی )
منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب (۱۳۱۱ھ)
(عقلمند کا مقصد کہ بے شک احکام شرع حبیب اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اختیار میں ہیں)
احادیث تحریم حرم مدینہ بحکم احکم حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
حدیث ۱۳۰ :
صحیحین میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے عرض کی:
اللھم ان ابراھیم حرم مکۃ وانی احرم مابین لابتیہا ۔ ھما واحمد ۱والطحاوی فی شرح معانی الاٰثار عن انس رضی اللہ عنہ ۔
الہٰی! بیشک ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے مکہ معظمہ کو حرم کردیا اورمیں دونوں سنگستان مدینہ طیبہ کے درمیان جو کچھ ہے اسے حرم بناتاہوں ۔ (بخاری ، مسلم اوراحمد اور طحاوی نے شرح معانی الآثار میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۱صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب یزفون النسلان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۷۷)
( صحیح البخاری، کتاب المغازی غزوہ احد قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۵۸۵)
(صحیح البخاری ، کتاب الاعتصام باب ماذکر النبی صلی اللہ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۰۹۰)
(صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۱)
(مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۴۹)
(شرح المعانی الآثار کتاب الصید باب صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴۲)
حدیث ۱۳۱:
نیز صحیحین میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان ابرھیم حرم مکۃ ودعا لاھلھا وانی حرمت المدینۃ کما حرم ابراھیم مکۃ وانی دعوت فی صاعھا ومدھا بمثلَی مادعا ابراھیم لاھل مکۃ۔ ھم ۱جمیعا عن عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
بیشک ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے مکہ معظمہ کو حرم بنادیا اوراس کے ساکنوں کے لیے دعافرمائی ، اوربیشک میں نے مدینہ طیبہ کو حرم کردیا جس طرح انہوں نے مکے کو حرم کیا اورمیں نے اس کے پیمانوں میں اس سے دونی برکت کی دعا کی جو دعا انہوں نے اہل مکہ کے لیے کی تھی (ان سب نے عبداللہ ابن زید بن عاصم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۱صحیح البخاری کتاب البیوع باب برکۃ صاع النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۸۶)
(صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ ودعا النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۰)
(مسندا حمد بن حنبل عن عبداللہ بن زید رضی ا للہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۰)
(شرح المعانی الآثار کتاب الصید باب صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴۲)
حدیث ۱۳۲:
نیز صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے عرض کی : الہٰی ! بیشک ابراہیم تیرے خلیل اورتیرے نبی ہیں اور تو نے ان کی زبان پر مکہ معظمہ کو حرام کیا
اللھم وانا عبدک ونبیک وانی احرم مابین لابتیھا ۲۔
الہٰی ! اور میں تیرا بندہ اورتیرا نبی ہوں میں مدینہ طیبہ کی دونوں حدوں کے اندر ساری زمین کو حرم بناتاہوں ۔
(۲صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ ودعا النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۲)
(سنن ابن ماجۃ ابواب المناسک باب فضل المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۲)
(کنز العمال حدیث ۳۴۸۸۲مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۲۴۵)
امام طحاوی نے اس کے قریب روایت کی اوریہ زائد کیا :
ونھی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان یعضد شجرھا اویخبط اویؤخذ طیرھا ۳۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ اس کا پیڑ کاٹیں یا پتے جھاڑیں یا اس کے پرندوں کو پکڑیں۔
(۳شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴۳ )
حدیث ۱۳۳:
صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انی احرم مابین لابتی المدینۃ ان یقطع عضاھھا او یقتل صیدھا ۔ ھو و احمد ۱والطحاوی عن سعدبن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
بیشک میں حرم بناتاہوں دوسنگلاخ مدینہ کے درمیان کو کہ اس کی ببولیں نہ کاٹی جائیں اور اس کا شکار نہ ماراجائے (مسلم اوراحمد اورطحاوی نے سعد بن ا بی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت )
(۱صحیح مسلم کتاب الحج باب فضائل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۰)
(مسندا حمد بن حنبل عن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۸۱)
(شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴۱)
حدیث ۱۳۴:
نیز صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان ابراھیم حرم مکۃ وانی احرم مابین لابتیھا ۔ ھو و الطحاوی ۲عن رافع بن خدیج رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
بیشک ابراہیم نے مکہ معظمہ کو حرم کردیا اورمیں مدینہ کے دونوں سنگلاخ کے درمیان کو حرم کرتاہوں (مسلم اورطحاوی نے رافع بن خدیج رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۲صحیح مسلم کتاب الحج باب فضائل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۰)
(شرح معانی الآثار کتاب الصید صید المدینۃ اچی ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۳۴۲)
حدیث ۱۳۵ :
نیز صحیح مسلم میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عرض کرتے ہیں :
اللھم ان ابراھیم حرم مکۃ فجعلھا حرماً وانی حرمت المدینۃ حرامًا مابین مازمیھا ان لایھر اق فیھا دم ولا یحمل سلاح لقتال ولا یخبط فیھا شجرۃ الا بعلف ۳۔
الہٰی! بیشک ابراہیم نے مکہ معظمہ کو حرام کر کے حرم بنادیا اور بیشک میں نے مدینہ کے دونوں کناروں میں جو کچھ ہے اسے حرم بناکرحرام کر دیا کہ اس میں کوئی خون نہ گرایا جائے نہ لڑائی کے لیے اسلحہ اٹھایا جائے نہ کسی پیڑ کے پتے جھاڑیں مگر جانور کو چارہ دینے کیلئے۔
(۳صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۳)