Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
136 - 212
حدیث ۱۲۸ :
حدیث صحیح وجلیل وعظیم سخت وہابیت کش جسے نسائی وترمذی وابن ماجہ وابن خزیمہ وطبرانی وحاکم وبیہقی نے سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اورامام ترمذی نے حسن غریب صحیح اورطبرانی وبیہقی نے صحیح اورحاکم نے برشرط بخاری ومسلم صحیح کہا اوراما م حافظ الحدیث زکی الدین عبدالعظیم منذری وغیرہ ائمہ نقد وتنقیح نے اس کی تصحیح کو مسلم وبرقرار رکھا جس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نابینا کو دعاتعلیم فرمائی کہ بعد نماز کہئے :
اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بک الی ربی فی حاجتی ھذہ لیقضٰی لی اللھم فشفعہ فی ۱؂۔
الہٰی ! میں تجھ سے مدد مانگتا اور تیری طرف توجہ کرتاہوں تیرے نبی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے وسیلے سے جو مہربانی کے نبی ہیں، یارسول اللہ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اپنی اس حاجت میں توجہ کرتاہوں تاکہ میری حاجت روائی ہو، الہٰی! انہیں میرا شفیع کر ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔
 (۱؂سنن الترمذی کتاب الدعوات حدیث ۳۵۸۹دارالفکر بیروت   ۵ /۳۳۶)

( سنن ابن ماجۃ ابواب اقامۃ الصلوۃ باب ماجاء فی صلوٰۃ الحاجۃ ایچم ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰۰)

(صحیح ابن خزیمۃ باب صلوٰۃ الترغیب والترہیب حدیث ۱۲۱۹ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۶)

(المعجم الکبیر عثمان بن حنیف حدیث ۸۳۱۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۹ /۱۸)

(المستدرک للحاکم کتاب صلوٰۃ التطوع دعاء ردالبصر دارالفکر بیروت ۱ /۳۱۳)

(دلائل النبوۃ للبیہقی باب فی تعلیمہ الضریر ماکان فیہ شفاء الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت  ۶ /۱۶۶تا۱۶۸)

(عمل الیوم واللیلۃ للنسائی حدیث ۶۵۷ دارابن حزم بیروت ص۱۵۹و۱۶۰)

(الترغیب والترہیب الترغیب فی صلوٰۃ الحاجۃ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۷۳تا۴۷۵)
یہ حدیث خود ہی بیماردلوں پر زخم کاری تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو حاجت کے وقت ندا بھی ہے اورحضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے استعانت والتجا بھی ، مگر حصن حصین شریف کی بعض روایات نے سر سے پانی تیری دیا۔ اس میں
لتقضی لی ۲؂
بصیغہ معروف ہے یعنی یارسول اللہ ! حضور میری حاجت روافرمادیں۔
 (۲؂الحصن الحصین منزل یوم الاثنین صلوٰۃ الحاجۃ افضل المطابع ص۱۲۵)
مولانا فاضل علی قاری علیہ رحمۃ الباری حرز ثمین شرح حصن حصین میں فرماتے ہیں :
وفی نسخۃٍ بصیغۃ الفاعل ای لتقضی الحاجۃ لی المعنی تکون سبباً لحصول حاجتی ووصول مرادی فالاسناد مجازی ۳؂۔
اورایک نسخہ میں بصیغہ فاعل (فعل معروف) ہے ، یعنی آپ میری حاجت روائی فرمائیں ۔ مطلب یہ ہے کہ آپ میری حاجت روائی ومقصد برآری میں سبب ووسیلہ بن جائیں ۔ چنانچہ اسناد مجازی ہوگا۔ (ت)
 (۳؂حرزثمین شرح الحصن الحصین مع الحصن الحصین منزل یوم الاثنین صلوٰۃ الحاجۃ افضل المطابع ص۱۲۵)
اب دافع البلاء کو شرک ماننے کا مول تول کہئے ۔
ثم اقول: (پھر میں کہتاہوں۔ت) سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے زمانہ اقدس میں نابینا کو دعاتعلیم فرمائی کہ بعد نماز یوں عرض کرو ہمارا نام پاک لے کر ندا کرو ہم سے استمداد والتجا کرو ، شرک وہابیت کو قعرجہنم میں پہنچانے کو بس یہی تھا کہ : 

اولاً جو شرک ہے اس میں تفرقہ زمانہ حیات وبعد وفات یاتفرقہ قرب وبُعد یا غیبت وحضور سب مردود ومقہور ، جس کا بیان اوپر مذکور ۔ 

ثانیاً حاصل تعلیم یہ نہ تھا کہ دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کا بالائی ٹکڑا تو اللہ عزوجل سے عرض کرنا پھر ہمارے پاس حاضر ہوکر یا محمد سے اخیر تک عرض کرنا ، اور دعا میں سنت اخفاہے اورآہستہ کہنے میں وہابیت کی عقل ناقص پر غیبت وحضور یکساں ہے ، عادی طورپر دونوں ندا بالغیب ہوں گی ، مگر قیامت تو سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پوری کردی کہ زمانہ خلافت امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں یہی دعا ایک صاحب حاجتمند کو تعلیم فرمائی اورندا بعدالوصال سے جان وہابیت پرآفت عظمٰی ڈھائی ۔ معجم کبیر امام طبرانی میں یہ حدیث یوں ہے کہ ایک شخص امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بارگاہ میں اپنی کسی حاجت کے لیے حاضر ہوا کرتے امیر المومنین ان کی طرف التفات نہ فرماتے نہ ان کی حاجت پر غور کرتے ، ایک دن عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ ان سے ملے ان سے شکایت کی ، عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا  :
ائت المیضاۃ فتوضا ثم اٰت المسجد فصل فیہ رکعتین ثم قل اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک بنینا محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بک الی ربی فیقضی حاجتی وتذکر حاجتک و رح الی حتی اروح معک ۔
وضو کی جگہ جاکر وضو کروپھر مسجد میں جاکر دورکعت نماز پڑھو پھر یوں دعاکرو کہ الہٰی !میں تجھ سے سوال کرتا اور تیری طرف ہمارے نبی محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نبی رحمت کے ذریعے سے متوجہ ہوتا ہوں ،یارسول اللہ ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف توجہ کرتاہوں کہ میری حاجت روا فرما ئیے ۔ اوراپنی حاجت کا ذکر کرو ، شام کو پھر میرے پا س آنا کہ میں بھی تمہارے ساتھ چلوں۔

صاحب حاجت نے جاکر ایسا ہی کیا، پھر امیر المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دروازے پر حاضر ہوئے ، دربان آیا ہاتھ پکڑ کر امیر المومنین کے حضور لے گیا، امیر المومنین (عثمان غنی )نے اپنے ساتھ مسند پر بٹھایا اورفرمایا کیسے آئے ہو؟ انہوں نے اپنی حاجت عرض کی ، امیر المومنین نے فوراً روافرمائی ، پھر ارشادکیا؛ اتنے دنوں میں تم نے اس وقت اپنی حاجت کہی ۔ اورفرمایا : جب کبھی تمہیں کوئی حاجت پیش آئے ہمارے پاس آنا ۔ اب یہ صاحب امیر المومنین کے پاس سے نکل کر حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملے ان سے کہا : اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر دے امیر المومنین نہ میری حاجت میں غور فرماتے تھے نہ میری طرف التفات لاتے ، یہاں تک کہ آپ نے میری سفارش ان سے کی ۔ 

عثمان بن حنیف نے فرمایا :
واللہ ماکلمتہ ولٰکن شہدت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم واتاہ رجل ضریر تشکی الیہ ذھاب بصرہ فقال لہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وسلم ایت المیضاۃ فتوضا ثم صل رکعتین ثم ادع بھٰذہ الدعوات فقال عثمان بن حنیف فواللہ ماتفرقنا وطال بنا الحدیث ۱؂حتی دخل علینا الرجل کانہ لم یکن بہ ضر قط۔
خدا کی قسم !میں نے تو تمہارے بارے میں امیر المومنین سے کچھ بھی نہ کہا مگر ہے یہ کہ میں نے سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا حضور کی خدمت اقدس میں ایک نابینا حاضرہوا اوراپنی نابینائی کی شکایت حضور سے عرض کی ، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : موضع وضو پر جاکر وضو کر کے دورکعت نماز پڑھ پھر یہ دعائیں پڑھ۔ عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم ! ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ نابینا ہمارے پاس انکھیارے ہوکر آئے گویا کبھی انکی آنکھوں میں کچھ نقصان نہ تھا۔
 (۱؂المعجم الکبیرعن عثمان بن حنیف حدیث ۸۳۸ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت  ۹ /۱۸)
امام طبرانی اس حدیث کی متعدد اسنادیں ذکر کر کے فرماتے ہیں:
والحدیث صحیح۲؂۔
یہ حدیث صحیح ہے ۔
والحمدللہ رب العالمین۔
  (۲؂الترغیب والترہیب بحوالۃ الطبرانی الترغیب فی صلٰوۃ الحاجۃ مصطفی البابی مصر       ۱ /۴۷۶)
حدیث ۱۲۹:
کہ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اہل مدینہ طیبہ سے ارشاد فرمایا :
اصبروا وابشروا فانی قد بارکت علی صاعکم ومدکم ۔ البزار فی مسندہٖ ۱؂عن امیرالمومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
صبرکرو اور شاد ہوکہ بیشک میں نے تمہارے رزق کی پیمانوں پر برکت کردی ہے ۔ (بزار نے اپنی مسند میں امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۱؂کنزالعمال بحوالۃ البزار حدیث ۳۸۱۲۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴ /۱۲۵)
اس حدیث نے بتایا کہ اہل مدینہ کے رزق میں برکت رکھنے کو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی طرف نسبت فرمایا۔
Flag Counter