Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
135 - 212
حدیث ۱۲۷:
صحیح مسلم شریف وسنن ابی داود وسنن ابن ماجہ ومعجم کبیر طبرانی میں سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :
  قال کنت ابیت مع رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فاتیتہ بوضوئہ وحاجتہ فقال لی سل (ولفظ الطبرانی فقال یوماً یا ربیعۃ سلنی فاعطیک رجعنا الی لفظ مسلم) قال فقلت اسألک مرافقتک فی الجنۃ فقال اوغیر ذٰلک قلت ھو ذاک قال فاعنی علی نفسک بکثرۃ السجود۱؂۔
میں حضور پرنور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس رات کو حاضر رہتا ایک شب حضور کے لیے آب وضو وغیرہ ضروریات لایا(رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا بحر رحمت جو ش میں آیا) ارشاد فرمایا : مانگ کیا مانگتا ہے کہ ہم تجھے عطا فرمائیں ۔ میں نے عرض کی : میں حضور سے سوال کرتاہوں کہ جنت میں اپنی رفاقت عطافرمائیں۔ فرمایا : کچھ اور؟میں نے عرض کی : میری مراد تو صرف یہی ہے ۔ فرمایا : تو میری اعانت کر اپنے نفس پر کثرت سجودسے ۔

ع کہ حیف باشداز وغیر اوتمنائے
 (حیف ہے اس سے اس کے غیر کی تمنا کرنا۔ت)

سائل ہوں تر امانگتاہوں تجھ سے تجھی کو 

معلوم ہے اقرار کی عادت تری مجھ کو
 (۱؂صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب فضل السجود والحث علیہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۳)

(سنن ابی داود کتاب الصلٰوۃ باب وقت قیام النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من اللیل آفتاب عالم پریس لاہور   ۱ /۱۸۷)

(کنز العمال حدیث ۱۹۰۰۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷ /۳۰۶)

(المعجم الکبیر عن ربیعہ حدیث ۴۵۷۶ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت      ۵ /۵۷و۵۸)
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''تو میری اعانت کر اپنے نفس پرکثرت سجود سے ۔''
الحمدللہ یہ جلیل ونفیس حدیث صحیح اپنے ہر ہرجملے سےوہابیت کش ہے ۔ حضور اقدس خلیفۃ اللہ الاعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا مطلقاً بلا قید وبلا تخصیص ارشاد فرمانا سل مانگ کیا مانگتا ہے ، جان وہابیت پرکیسا پہاڑ ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضور ہر قسم کی حاجت روا فرماسکتے ہیں دنیا وآخرت کی سب مرادیں حضور کے اختیار میں ہیں جب تو بلا تقیید ارشادہوا : مانگ کیا مانگتاہے یعنی جو جی میں آئے مانگو کہ ہماری سرکار میں سب کچھ ہے ؎

گر خیریت دنیا وعقبٰی آرزو داری

بدرگاہش بیاوہرچہ میخواہی تمنا کن
 (اگر تو دنیا وآخر ت کی بھلائی چاہتاہے تو اس کی بارگاہ میں آاور جو چاہتاہے مانگ لے ۔ت)
شیخ شیوخ علماء الہند عارف باللہ عاشق رسول اللہ برکۃ المصطفٰی فی ھذہ الدیار سیدی شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی شرح مشکوٰۃ شریف میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
از اطلاق سوال کہ فرمودش بخواہ تخصیص نکرد بمطلوبے خاص معلوم میشود کہ کار ہمہ بدست ہمت وکرامت اوست صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہر چہ خواہد وکراخواہد باذن پروردگار خود دہد۱؂ ۔
مطلق سوال سے کہ آپ نے فرمایا (اے ربیعہ ) مانگ ۔ اورکسی خاص شے کو مانگنے کی تخصیص نہیں فرمائی ۔ معلوم ہوتاہے کہ تمام معاملہ آپ کے دست اقدس میں ہے ، جوچاہیں جسے چاہیں اللہ تعالٰی کے اذن سے عطافرمادیں۔ (ت)
(۱؂اشعۃ اللمعات کتاب الصلٰوۃ باب السجود وفضلہ الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۹۶ )
فان من جودک الدنیا وضرتھا 

ومن علومک علم اللوح والقلم۲؂
یہ شعر قصیدہ بردہ شریف کا ہے جس میں سیدی امام اجل محمد بوصیری قدس سرہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں : ''یا رسول اللہ !دنیا وآخرت دونوں حضور کے خوان جودوکرم سے ایک حصہ ہیں اورلوح وقلم کے تمام علوم جن میں ماکان ومایکون جو کچھ ہوا اورجو کچھ قیام قیامت تک ہونے والا ہے ذرہ ذرہ بالتفصیل مندرج ہے حضور کے علوم سے ایک پارہ ہیں۔''
(۲؂الکواکب الدریۃ فی مدح خیر البریۃ (قصیدہ بردہ) الفصل العاشر مرکز اہلسنت گجرا ت الہند ص۵۹)
اورپہلا شعر کہ ''اگرخیریت دنیا وعقبٰی الخ '' حضرت شیخ محقق رحمہ اللہ تعالٰی کا ہے کہ قصیدہ  نعتیہ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں عرض کیا ہے  :  الحمدللہ یہ عقیدے ہیں ائمہ دین کے محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جناب عالم تاب میں، برخلاف اس سرکش طاغی شیطان لعین کے بندہ داغی جو کہ ایمان کی آنکھ پر کفران کی ٹھیکری رکھ کر کہتاہے : ''جس کا نام محمد ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں''۳؂۔
 (۳؂تقویۃ الایمان الفصل الرابع فی ذکر ردالاشراک فی العبادۃ مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہورص۲۸)
الا صلّٰی رب محمد علی محمدواٰلہ وسلم واخری منتقصیہ واعاذنا من حالھم وشرھم وسلم اٰمین ۔
درود وسلام نازل فرمائے رب محمد محمد مصطفی پر اورآپ کی آل پر، اوردوسرا گروہ آپ کی شان میں تنقیص کرنے والاہے ، اللہ تعالٰی ہمیں انکے حال اوران کے شر سے بچائے اورسلامت رکھے، آمین (ت)
علامہ علی قاری علیہ رحمۃ الباری مرقاہ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں :
یؤخذ من اطلاقہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الامر بسؤال ان اللہ تعالٰی مکنہ من اعطاء کل ما ارادمن خزائن الحق۱؂۔
یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مانگنے کا حکم مطلق دیا اس سے مستفاد ہوتاہے کہ اللہ  عزوجل نے حضور کو عام قدرت بخشی ہے کہ خدا کے خزانوں سے جو چاہیں عطافرمادیں۔
 (۱؂مرقاۃ المفاتیح کتب الصلٰوۃ  باب السجود وفضلہ الفصل الاول تحت حدیث ۸۹۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ   ۲ /۶۱۵)
والحمدللہ رب العالمین ؎
مالک کونین ہیں گوپاس کچھ رکھتے نہیں 

دوجہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں (۲)

پھراس حدیث جلیل میں سب سے بڑھ کر جان وہابیت پر یہ کیسی آفت کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد پر حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالٰی عنہ خود حضورسے جنت مانگتے ہیں کہ
اسئلک مرافقتک فی الجنۃ یارسول اللہ!
میں حضور سے سوال کرتاہوں کہ جنت میں رفاقت والا عطاہو۔

وہابی صاحبو! یہ کیسا کھلا شرک وہابیت ہے جسے حضور مالک جنت علیہ افضل الصلٰوۃ والتحیۃ قبول فرما رہے ہیں ،
وللہ الحجۃ السامیۃ۔
Flag Counter