Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
134 - 212
مسلمانو! ذرادیکھنا کوئی وہابی ناپاک ادھر ادھر ہوتو اسے باہر کردو اورکوئی جھوٹا متصوف نصارٰی کی طرح غلو وافراط والا دبا چھپا ہوتو اسے بھی دورکردو اورتم عبدہ ورسولہ کی سچی معیار پرکانٹے کی تول مستقیم ہوکر یہ حدیث سنو کہ انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
مرض ابوطالب فعادہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقال یا ابن اخی ادع ربک والذی بعثک یعافینی فقال اللھم اشف عمی فقام کانما نشط من عقال فقال یا بن اخی ان ربک الذی تعبدہ لیطیعک فقال وانت یاعماہ لو اطعتہ، لیطیعنک ۔ ابن عدی ۱؂من طریق الھیثم البکاء عن ثابت ن البنانی عن انس ابن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
یعنی ابو طالب بیمار پڑے سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عیادت کو تشریف لے گئے ابو طالب نے عرض کی : اے بھتیجے میرے ! اپنے رب سے جس نے حضور کو بھیجا ہے میری تندرستی کی دعاکیجئے ۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دعا کی : الٰہی !میرے چچا کوشفا دے ۔ یہ دعا فرماتے ہی ابو طالب اٹھ کھڑے ہوئے جیسے کسی نے بند ش کھول دی، حضور سے عرض کی : اے میرے بھتیجے !بیشک حضور کا رب جس کی تم عبادت کرتے ہو حضور کی اطاعت (عہ)کرتاہے ۔ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے (اس کلمہ پر انکار نہ فرمایابلکہ اورتاکیدًا وتائیداً) ارشاد کیا کہ اے چچا !اگر تو اس کی اطاعت کرے تو وہ تیرے ساتھ بھی یونہی معاملہ فرمائے گا۔ (ابن عدی نے بطریق ہیثم البکاء انہوں نے ثابت بنانی سے انہوں نے انس ابن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
عہ : یہاں اطاعت کے معنی ہر مراد محبوب حسب مراد محبوب فوراً موجود فرمادے ۱۲منہ۔
 (۱؂الکامل لابن عدی ترجمہ الہیثم بن جماز دارالفکر بیروت  ۷ /۲۵۶۱)
اورحدیث سنئے کہ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں بیشک بالیقین میں روز قیامت تمام جہان کا سید ہوں ، میرے ہاتھ میں لواء الحمد ہوگا ، کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جو میرے نشان کے نیچے نہ ہوکشائش کا انتظارکرتا ہوا۔ میں چلوں گا اورلوگ میرے ساتھ ہوں گے یہاں تک کہ دروازہ جنت پر تشریف فرماہوکر دروازہ کھلواؤں گا سوال ہوگا کون ہیں؟ میں فرماؤں گا محمد ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم )۔ کہا جائے گا مرحبا محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو۔ پھر جب میں اپنے رب عزوجل کو دیکھوں گا اس کے لئے سجدہ  شکر میں گروں گا اس پر کہا جائے گا:
ارفع راسک وقل تطاع واشفع تشفع۔
اپنا سراٹھاؤ اورجو کہنا ہو کہو تمہاری اطاعت کی جائے گی اورشفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبول ہوگی۔

پس جو لوگ جل چکے تھے وہ اللہ کی رحمت اورمیری شفاعت سے دوزخ سے نکال لئے جائیں گے ۔
الحاکم فی المستدرک ۱؂وابن عساکر عن عبادۃ بن الصامت رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
حاکم نے مستدرک میں اورابن عساکر نے عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیا۔ (ت)
 (۱؂اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ الحاکم وابن عساکر صفۃ الشفاعۃ دارالفکر بیروت ۱ /۳۰)

( کنز العمال بحوالہ ک وابن عساکر حدیث۳۲۰۳۸مؤسسۃ الرسالہ بیروت   ۱ /۴۳۴)
اسی باب سے ہے حدیث کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  :
ان ربی استشارنی فی امتی ماذا افعل بھم
بیشک میرے رب نے میری امت کے باب میں مجھ سے مشورہ طلب فرمایا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں ۔ فقلت ماشئت یارب ھم خلقک وعبادک میں نے عرض کیا کہ اے رب میرے !جو تو چاہے کہ وہ تیری مخلوق اورتیرے بندے ہیں۔ فاستشارنی الثانیۃ اس نے دوبارہ مجھ سے مشورہ پوچھا ۔ فقلت لہ کذٰلک میں نے اب بھی وہی عرض کی ۔ فاستشار نی الثالثۃ اس نے سہ بارہ مجھ سے مشورہ لیا۔ فقلت لہ کذٰلک میں نے پھر وہی عرض کی۔ فقال تعالٰی انی لن اخزیک فی امتک یا احمد تو رب عزوجل نے فرمایا : اے احمد ! بیشک میں ہرگز تجھے تیری امت کے معاملہ میں رسوا نہ کروں گا ۔ وبشرنی ان اول من یدخل الجنۃ معی من امتی سبعون الفاً مع کل الفٍ سبعون الفاًلیس علیھم حساب اورمجھے بشارت دی کہ میرے ستر ہزار امتی سب سے پہلے میرے ساتھ داخل بہشت ہونگے ان میں ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہونگے جن سے حساب تک نہ لیا جائیگا۔ 

آگے حدیث اورطویل وجلیل ہے جس میں اپنے اوراپنی امت مرحومہ کے فضائل جلیل ارشاد فرمائے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم وبارک وسلم آمین !
الامام احمد ۱؂ وابن عساکر عن حذیفۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
امام احمد اورابن عساکر نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
 (۱؂مسنداحمد بن حنبل عن حذیفہ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۳۹۳)

(کنزالعمال بحوالہ حم وابن عساکر حدیث ۳۲۱۰۹مؤسسۃ الرسالہ بیروت   ۱۱ /۴۴۸)

(الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بان امتہ وضع عنہم الامر مرکز اہلسنت گجرات ہند ۲ /۲۱۰)
بحمداللہ یہی معنی ہیں اس حدیث کے کہ رب العزۃ روز قیامت حضرت رسالت علیہ افضل الصلٰوۃ والتحیۃ سے مجمع اولین وآخرین میں فرمائے گا :
کلھم یطلبون رضا ئی وانا اطلب رضاک یا محمد۲؂۔
یہ سب میری رضا چاہتے ہیں اورمیری تیری رضا چاہتاہوں اے محمد ! ۔
 (۲؂مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)تحت الآیۃ ۲/۱۴۲دارالکتب العلمیۃ بیروت  ۴ /۸۷)
میں نے اپنا ملک عرش سے فرش تک تجھ پر قربان کردیاصلی اللہ علیک وعلٰی اٰلک وبارک وسلم ۔

اے مسلمانو،اسے سنی بھائی ، اے مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان ارفع کے فدائی ! آفتاب وماہتاب پر ان کا حکم جاری ہونا کیا بات ہے آفتاب طلوع نہیں کرتا جب تک ان کے نائب ان کے وارث ، ان کے فرزند ، انکے دلبند ، غوث الثقلین ، غوث الکونین ،حضور پرنور سید نا ومولانا امام ابو محمد شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ پر سلام عرض نہ کرلے۔ 

امام اجل سید ی نور الدین ابوالحسن علی شطنوفی قد س سرہ الروفی (جنہیں امام جلیل عارف باللہ سیدی عبداللہ بن اسعد مکی یافعی شافعی رحمہ اللہ تعالٰی نے مرآۃ الجنان میں الشیخ الامام الفقیہ المقرادی ۱؂) سے وصف کیا ۔
 (۱؂مرآۃ الجنان)
کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں خود روایت فرماتے ہیں:
اخبرنا ابو محمد عبدالسلام بن ابی عبداللہ محمد بن عبدالسلام بن ابراہیم بن عبدالسلام البصری الاصل البغدادی المؤلد والداربالقاھرۃ سنۃ احدٰی وسبعین وستمائۃ قال اخبرنا الشیخ ابوالحسن علی بن سلیمان البغدادی الخباز ببغداد سنۃ ثلٰث وثلٰثین وستّمائۃ قال اخبرنا الشیخان الشیخ ابو حفص عمر الکمیماتی ببغداد وسنۃ احدٰی وتسعین وخمسمائۃ قالا کان شیخنا الشیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ یمشی فی الھواء علی رؤوس الاشھاد فی مجلسہ ویقول ماتطلع الشمس حتی تسلم علی وتجئی السنۃ الی وتسلم علی وتخبرنی ما یجری فیھا ویجیء الشھر ویسلم علی ویخبرنی بما یجری فیہ، ویجیئ الاسبوع ویسلم علی ویخبرنی بما یجری فیہ ویجیئ الیوم ویسلم علی ویخبرنی بما یجری فیہ وعزۃ ربی ان السعداء والاشقیاء لیعرضون علی عینی فی اللوح المحفوظ انا غائص فی بحار علم اللہ ومشاھد تہ انا حجۃ اللہ علیکم جمیعکم انا نائب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ووارثہ فی الارض ۱؂۔ صدقت یا سید ی واللہ فانما انت کلمت عن یقین لاشک فیہ  ولاوھم یعتریہ انما تنطق فتنطق وتعطی فتفرق وتؤمر فتفعل والحمدللہ رب العالمین۔
یعنی امام اجل حضرت ابوالقاسم عمر بن مسعود وبزاراورحضرت ابو حفص عمرکمیماتی رحمہم اللہ تعالٰی فرماتے ہیں ہمارے شیخ حضور سیدنا عبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی مجلس میں برملا زمین سےبلند کرہ ہوا پر مشی فرماتے اور ارشاد کرتے آفتاب طلوع نہیں کرتا یہاں تک کہ مجھ پر سلام کرلے نیا سال جب آتا ہے مجھ پرسلام کرتا اورمجھے خبر دیتاہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہے نیا ہفتہ جب آتاہے مجھ پرسلام کرتا اورمجھے خبر دیتا ہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہے ، نیا دن جوآتا ہے مجھ پر سلام کرتا ہے اورمجھے خبر دیتاہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہے ، مجھے اپنے رب کی عزت کی قسم !کہ تمام سعید وشقی مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں میری آنکھ لوح محفوظ پرلگی ہے یعنی لوح محفوظ میرے پیش نظر ہے ، میں اللہ عزوجل کے علم ومشاہدہ کے دریاؤں میں غوطہ زن ہوں ،میں تم سب پرحجت الہٰی ہوں ، میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نائب اورزمین میں حضور( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم )کا وارث ہوں ۔ سچ فرمایا ہے آپ نے اے میرے آقا ، بخدا آپ یقین پر مبنی کلام فرماتے ہیں جس میں کوئی شک اوروہم راہ نہیں پاتا۔ بے شک آپ سے کوئی با ت کہی جاتی ہے تو آپ کہتے ہیں اورآپ کو عطا ہوتاہے توآپ تقسیم فرماتے ہیں ۔ آپ کوامر کیا جاتاہے تو آ پ عمل کرتے ہیں ۔ اورسب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ۔(ت)
(۱؂ بہجہ الاسرار ذکر کلما اخبربہا عن نفسہ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۵۰)
اس حدیث کے متعلق کلام نے قدرے طو ل پایا مگر الحمدللہ کہ مقصود رسالہ سے باہر نہ آیاوباللہ التوفیق۔
Flag Counter