طبرانی معجم اوسط میں بسند حسن سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم امر الشمس فتاخّرت ساعۃ من نھار۲۔
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے آفتاب کو حکم دیا کہ کچھ دیر چلنے سے باز رہ ۔ وہ فوراً ٹھہر گیا۔
(۲المعجم الاوسط حدیث ۴۰۵۱ مکتبۃ المعارف ریاض ۵ /۳۳)
(مجمع الزوائد کتاب علامات نبوت باب حبس الشمس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتاب بیروت ۸ /۲۹۶)
اقول: اس حدیث حسن کا واقعہ اس حدیث صحیح کے واقعہ عظیمہ سے جدا ہے جس میں ڈوبا ہوا سورج حضور( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم )کے لیے پلٹاہے یہاں تک کہ مولٰی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم نے نماز عصر کی خدمت گزاری محبوب باری صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں قضا ہوئی تھی ادا فرمائی ۔ امام اجل طحاوی وغیرہ اکابر نے اس حدیث کی تصحیح کی ۔ الحمدللہ اسے خلافت رب العزت کہتے ہیں کہ ملکوت السمٰوٰت والارض میں ان کا حکم جاری ہے تمام مخلوق الہٰی کوان کےلئے حکم اطاعت وفرمانبرداری ہے ۔ وہ خدا کے ہیں اورجو کچھ خدا کا ہے سب ان کا ہے ، وہ محبوب اجل واکرم وخلیفۃ اللہ الاعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب دودھ پیتے تھے گہوارہ میں چاند ان کی غلامی بجالاتا ، جدھر اشارہ فرماتے اسی طرف جھک جاتا۔ حدیث میں ہے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہما عم مکرم سید اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضور سے عرض کی : مجھے اسلام پر باعث حضور کےایک معجزے کا دیکھنا ہوا،
میں نے حضو ر کو دیکھا کہ حضور گہوارے میں چاند سے باتیں فرماتے جس طرح انگشت مبارک سے اشارہ کرتے چاند اسی طرف جھک جاتا۔
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
انی کنت احدثہ ویحدثنی ویلھینی عن البکاء واسمع وجبتہ حین یسجد تحت العرش۔
ہاں میں اس سے باتیں کرتا تھا وہ مجھ سے باتیں کرتا اور مجھے رونے سے بہلاتا، میں اس کے گرنے کا دھماکہ سنتاتھا جب وہ زیر عرش سجدے میں گرتا۔
البیھقی فی الدلائل ۱والامام شیخ الاسلام ابوعثمٰن اسمٰعیل بن عبدالرحمن الصابونی فی المائتین والخطیب وابن عساکر فی تاریخ بغداد ودمشق رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
بیہقی نے دلائل میں اورامام شیخ الاسلام ابوعثمٰن اسمٰعیل بن عبدالرحمن صابونی نے مائتین میں اورخطیب وابن عساکر نے تاریخ بغداد ودمشق میں بیان کیا رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔(ت)
امام شیخ الاسلام صابونی فرماتے ہیں :فی المعجزات حسن یہ حدیث معجزات میں حسن ہے ۔
جب دودھ پیتوں کی یہ حکومت قاہرہ ہے تو اب کہ خلافۃ الکبرٰی کا ظہور عین شباب پرہے آفتاب کی کیا جان کہ ان کے حکم سے سرتابی کرے آفتاب وماہتا ب درکنار، واللہ العظیم ، ملٰئکہ مدبرات الامر کہ تمام نظم ونسق عالم جن کے ہاتھوں پر ہے محمد رسول اللہ خلیفۃ اللہ الاعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے دائرہ حکم سے باہر نہیں نکل سکتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ارسلت الی الخلق کافۃ ۔ رواہ مسلم ۱عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
میں تمام مخلوق الہٰی کی طرف رسول بھیجا گیا ۔ (اس کو مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱صحیح مسلم کتاب المساجد وموضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹)
برکت والا ہے وہ جس نے اتارا قرآن اپنے بندے پر کہ تمام اہل عالم کو ڈر سنانے والا ہو۔
(۲القرآن الکریم ۲۵ /۱)
اہل عالم میں جمیع ملائکہ بھی داخل ہیں علیہم الصلٰوۃ والسلام ۔
سیدنا سلیمان علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نماز عصر گھوڑوں کے ملاحظہ میں قضا ہوئی
حتی توارت بالحجاب۳۔
یہاں تک کہ سورج پردے میں جا چھپا۔ فرمایا :
ردوھا علی۴ ۔
پلٹا لاؤ میری طرف ۔
(۳القرآن الکریم ۳۸ /۳۲)
(۴القرآن الکریم ۳۸/ ۳۳)
امیر المومنین مولٰی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم سے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مروی کہ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قول میں ضمیر آفتاب کی طرف ہے اور خطاب ان ملائکہ سے ہے جو آفتاب پر متعین ہیں یعنی نبی اللہ سلیمان نے ان فرشتوں کو حکم دیا کہ ڈوبے ہوئے آفتاب کو واپس لے آؤ، وہ حسب الحکم واپس لائے یہاں تک کہ مغرب ہوکر پھر عصر کا وقت ہوگیا اورسیدنا سلیمٰن علیہ الصلٰوۃ والسلام نے نماز ادافرمائی ۔
معالم التنزیل شریف میں ہے :
حکی عن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ انہ قال معنٰی قولہ ردوھا علی یقول سلیمٰن علیہ الصلٰوۃ والسلام بامر اللہ عزوجل للملٰئکۃ المؤکلین بالشمس ردوھا علی یعنی الشمس فردوھا علیہ حتی صلی العصر فی وقتھا۵۔
سیدنا سلیمٰن علیہ الصلٰوۃ والسلام نوابان بارگاہ رسالت علیہ افضل الصلٰوۃ والتحیۃ سے ایک جلیل القدر نائب ہیں پھر حضور کا حکم توحضور کا حکم ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
اللہ سبحٰنہ وتعالٰی کی بے شمار رحمتیں امام ربانی احمد بن محمد خطیب قسطلانی پر کہ مواہب لدنیہ ومنح محمدیہ میں فرماتے ہیں :
ھو صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خزانۃ السر وموضع نفوذ الامر فلاینفذ امر الامنہ ولا ینقل خیر الا عنہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ؎
یعنی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خزانہ راز الہٰی و جائے نفاذ امر ہیں ، کوئی حکم نافذ نہیں ہوتا مگر حضور کے دربار سے ، اورکوئی نعمت کسی کو نہیں ملتی مگر حضور کی سرکارسے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
الابابی من کان ملکا وسیداً
واٰدم بین الماء والطین واقف
اذا رام امرًا لایکون خلافہ
ولیس لذاک الامر فی الکون صارف۱
یعنی خبردار ہو میرے ماں باپ قربان ان پر جو بادشاہ وسردار ہیں اس وقت سے کہ آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام ابھی آب وگِل کے اندر ٹھہرے ہوئے تھے وہ جس بات کا ارادہ فرمائیں اس کا خلاف نہیں ہوتا ،تمام جہان میں کوئی ان کا حکم پھیرنے والا نہیں ۔
اقول: اور ہاں کیونکر کوئی ان کا حکم پھیر سکے کہ حکم الہٰی کسی کے پھیرے نہیں پھرتا۔
لاراد لقضائہٖ ولا معقب لحکمہٖ ۔
اس کی قضاء کو رد کرنے والا اور اس کے حکم کو پھیرنے والا کوئی نہیں۔ (ت)
یہ جو کچھ چاہتے ہیں خد اوہی چاہتاہے کہ یہ وہی چاہتے ہیں جوخدا چاہتاہے ۔صحیحین بخاری ومسلم ونسائی وغیرہا میں حدیث صحیح جلیل ہے کہ ام المومنین صدیقہ اپنے پیارے محبو ب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کرتی ہیں :
ما ارٰی ربک الا یسارع ھواک ۲۔
یارسول اللہ ! میں حضور کے رب کو نہیں دیکھتی مگر حضورکی خواہش میں جلدی وشتابی کرتاہوا۔
(۲صحیح البخاری کتاب التفسیر باب قولہ ترجی من تشاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۰۲)
(صحیح البخاری کتاب النکاح باب الشغار قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۶۶)
( صحیح مسلم کتاب الرضاع باب جواز ھبتہا نوبتھا لضرتہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۷۳)
(سنن النسائی ذکر امر رسول اللہ فی النکاح نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۶۷)
(مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۱۳۴)