Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
132 - 212
حدیث ۱۲۳:
فرماتےہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  :
لقد جاء کم رسول الیکم لیس بوھن ولاکسل لیحی قلوباً غلفاً ویفتح اعیناً عمیاً ویسمع اٰذاناً صماً ویقیم السنۃ عوجاً حتی یقال لاالہ الا اللہ وحدہ ۔ الدارمی ۲؂فی سننہٖ عن جبیر بن نفیر رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
بیشک تشریف لایا تمہارے پا س وہ رسول تمہاری طرف بھیجا ہوا جو ضعف وکاہلی سے پاک ہے تاکہ وہ رسول زندہ فرما دے غلاف چڑھے دل ، اور وہ رسول کھول دے اندھی آنکھیں ، اوروہ رسول شنواکردے بہرے کانوں کو ، اوروہ رسول سیدھی کردے ٹیڑھی زبانوں کو ، یہاں تک کہ لوگ کہہ دیں کہ ایک اللہ کے سواکسی کی پرستش نہیں۔ (دارمی نے اپنی سنن میں جبیر بن نفیر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ ت )
(۲؂سنن الدارمی باب ماکان علیہ الناس قبل مبعث النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۹ دارالمحاسن للطباعۃ القاہرۃ ۱ /۱۵)
اقول: صحیح اذ قال اخبرنا حیوۃ بن شریح ثقۃ شیخ البخاری فی صحیحہ وابو داود والترمذی بل واحمد وابن معین وھما من اقرانہ ثنابقیۃ بن الولید ثقۃ من الاعلام من رجال مسلم وقد زال مایخشی من لیسہٖ بقولہٖ ثنا بحیربن سعد ثقۃ ثبت عن خالد بن معدان ثقۃ عابد من رجال الستۃ عن جبیر بن نفیر ن الحضرمی رضی اللہ تعالٰی عنہما ثقۃ جلیل مخضرم من الثانیۃ وقدروی ابن السکن والباوردی وابن شاھین مطولا عن عبدالرحمن عن جبیر بن نفیر عن ابیہ قال ادرکت الجاھلیۃ واتانا رسول رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بالیمن فاسلمنا فمرسلہ کمراسیل سعید بن المسیب اوفوق علا ان المرسل حجۃ عندنا وعند الجمھور والحدیث مسلسل بالحمصیین حیوۃ الی جبیر کلھم اھل حمص۔
حدیث ۱۲۴:
کہ دو اونٹ مست ہوکر بگڑ گئے تھے ، کسی کوپاس نہ آنے دیتے ، مالکوں نے باغ میں بند کردئے تھے، باغ اجاڑتے تھے ، سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور شکایت آئی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تشریف فرماہوئے، دروازہ کھولنے کاحکم دیا، مامورنے اندیشہ کیا مبادا حضور کو ایذادیں۔ فرمایاخوف نہ کر، کھول دے۔ کھول دیا ۔ ایک دروازے ہی کے پاس کھڑا تھا حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھتے ہی سجدے میں گرپڑا۔حضور نے مہارڈال کر حوالے کیا۔ دوسرا منتہائے باغ پر تھا، جب وہاں تشریف لے گئے اس نے بھی حضور کو دیکھتے ہی سجدہ کیا، حضور نے اسے بھی باندھ کر سپرد فرمایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے یہ حال دیکھ کر عرض کی :
یا نبی اللہ تسجد لک البھائم فما للہ عندنا بک احسن من ھذا اجرتنا من الضلالۃ واستنقذتنا من الھلکۃ افلا تأذن لنا بالسجود ۔ ابن قانع وابو نعیم ۱؂عن غیلان بن اسامۃ الثقفی رضی اللہ تعالٰی عنہ ولہ طرق وقد دخل بعضھا فی بعض۔
یارسول اللہ ! چوپائے تک حضور کو سجدہ کرتے ہیں تواللہ کے لیے حضور کے ذریعے سے ہمارے پا س جو کچھ ہے تو تو اس سے بہت بہتر ہے ، حضور نے ہمیں گمراہی سے پناہ دی ، حضور نے ہمیں ہلاکت سے نجات بخشی تو کیا حضور ہمیں اجازت نہیں دیتے کہ ہم حضور کوسجدہ کریں۔ (ابن قانع وابو نعیم نے غیلان بن اسامۃ الثقفی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ اس کے متعدد طرق ہیں جوکہ بعض بعض میں داخل ہیں۔ ت)
(۱؂دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثانی والعشرون ذکر سجود البہائم عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۳۷۔۱۳۶)
وہابیہ کہ گمراہی پسند وہلاکت دوست ہیں ،ان سخت ترین بلیات کو بلا کیوں سمجھیں گے کہ ان سے پناہ دینے والے نجات بخشنے والے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دافع البلاء جانیں۔
حدیث۱۲۵:
جب وفد ہوازن خدمت اقد س حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوا اوراپنے اموال واہل وعیال کہ مسلمان غنیمت میں لائے تھے حضور سے مانگے اورطالب احسان والا ہوئے ، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا صلیتم الظھر فقولوا انا نستعین برسول اللہ علی المؤمنین اوالمسلمین فی نسائنا وابنائنا۔ النسائی۱؂ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہٖ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
جب ظہر کی نماز پڑھ چکو تو کھڑ ے ہونا اوریوں کہنا ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے استعانت کرتے ہیں مومنین پراپنی عورتوں اوربچوں کے باب میں (نسائی نے عمرو بن شعیب سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن عمر ورضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
 (۱؂سنن النسائی کتاب الھبۃ ھبۃ المشاع نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۱۳۶)
حدیث فرماتی ہے سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بنفس نفیس تعلیم فرمائی کہ ہم سے مدد چاہنا نماز کے بعد یوں کہنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے استعانت کرتے ہیں ۔
وہابی صاحبو !
ایاک نعبدوایاک نستعین۲؂۔
کے معنی کہئے استعانت توخدا ہی کے ساتھ خاص تھی ، یہ ارشاد کیسا ہے کہ ہم سے استعانت کرنا ۔
 (۲؂القرآن الکریم ۱/۴)
اور زمان حیات دنیاوی اوراس کے بعد کا تفرقہ وہابیہ کی جہالت ہی نہیں بلکہ سراسر ضلالت ہے قطع نظر اس بات سے کہ انبیاء کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام سب بحیات حقیقی دنیاوی جسمانی زندہ ہیں ، جو بات خدا کے لیے خاص ہوچکی غیر خدا کے ساتھ شرک ٹھہر چکی ، اس میں حیات وموت ، قرب وبعد ، ملکیت وبشریت خواہ کسی وجہ کاتفرقہ کیسا کیا بعد موت ہی شرکت خد اکی صلاحیت نہیں رہتی بحال حیات شریک ہوسکتے ہیں یہ جنو ن وہابیہ کو ہر جگہ جاگاہے جس نے انہیں حمایت توحید کے زعم میں الٹا مشرک بنا دیا ہے ایک بات کو کہیں گے شرک ہے پھر کبھی موت حیات کا فرق کرینگے کبھی قرب وبُعد کا کبھی کسی اوروجہ کا ، جس کا صاف حاصل یہ نکلے گا کہ یہ انوکھے موحد بعض قسم مخلوق خدا کا شریک جانتے ہیں جب تو و ہ بات کہ غیر کے لیے اس کا اثبات شرک تھا ان کےلئے ثابت مانتے ہیں ۔ اب کھلا کہ انکے امام نے تقویۃ الایمان میں ان وہابی صاحبوں ہی کی نسبت کہا تھا کہ : 

''اکثر لوگ شرک میں گرفتار ہیں اوردعوٰ ی مسلمانی کا کئے جاتے ہیں ، سبحان اللہ یہ منہ اوریہ دعوٰی ، سچ فرمایا اللہ صاحب نے کہ نہیں مسلمان ہیں اکثر لوگ ، مگر شرک کرتے ہیں''۱؂۔
 (۱؂تقویۃ الایمان پہلا باب توحید وشرک کے بیان میں مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۴)
یہ نکتہ یادرکھنے کا ہے کہ انکی بہت فاحشہ جہالتوں کی پردہ دری کرتاہے
وباللہ التوفیق ۔
Flag Counter