Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
131 - 212
حدیث۱۲۰ :
امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں ایک دن حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ دینے کا حکم فرمایا، اتفاق سے ان دنوں میں کافی مالدار تھا میں نے اپنے جی میں کہا اگر کبھی میں ابوبکر سے سبقت لے جاؤں گا تو وہ دن آج ہی ہے ، میں اپنا آدھا مال حاضر لایا ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : ما ابقیت لاھلک تم نے اپنے گھروالوں کےلئے کیا باقی رکھا ؟میں نے عرض کیا: ابقیت لھم ان کےلئے بھی باقی چھوڑآیاہوں۔فرمایا: ماابقیت لھم آخر ان کے لیے کتنا چھوڑآئے ہو؟عرض کی : مثلہ، اتنایہی۔ اورصدیق اکبر اپنا سارامال تمام وکمال لےکر حاضرہوئے۔ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: یا ابابکرما ابقیت لاھلک ۔ اے ابو بکر !گھر والوں کے لئے کیا باقی رکھا ؟عرض کی : ابقیت لھم اللہ ورسولہ ۔ میں نے گھروالوں کےلئے اللہ ورسول کو باقی رکھا ہے جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ میں نے کہا :  میں ابو بکرسے کبھی سبقت نہ لے جاؤں گا۔
الدارمی ۱؂ وابوداود والترمذی وقال حسن صحیح والشاشی وابن ابی عاصم وابن شاھین فی السنۃ والحاکم فی المستدرک  وابو نعیم فی الحلیۃ والبیھقی فی السنن والضیاء فی المختارۃ کلھم عن امیر المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
دارمی ، ابوداود ، ترمذی ، شاشی ، ابن ابی عاصم اورابن شاہین نے سنۃ میں اورحاکم نے مستدرک میں اورابو نعیم نے حلیۃ میں اوربیہقی نے سنن میں اورضیاء نے مختار ہ میں سب نے امیر المومنین (عمر فاروق ) رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ دارمی ، ابو داوداورترمذی نے اسے حسن صحیح کہا۔ (ت)
(۱؂سنن الترمذی کتاب المناقب باب فی مناقب ابی بکر وعمر رضی اللہ عنہما دارالفکر بیروت  ۵ /۳۸۰)

(سنن ابی داود کتاب الزکوٰۃ باب الرخصۃ فی ذالک آفتاب عالم پریس لاہور  ۱ /۲۳۶)

 ( سنن الدارمی باب الرجل یتصدق بجمیع ما عندہ حدیث ۱۶۶۷ دارالمحاسن للطباعۃ القاہرۃ  ۱ /۳۲۹)

(کنز العمال حدیث ۳۵۶۱۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۲/۴۹۱)
حدیث ۱۲۱:
کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سیدنا وابن سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حق میں فرمایا :
 احب اھلی من قد انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ۔الترمذی عنہ ۲؂رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
مجھے اپنے گھروالوں میں سب سے پیاراوہ ہے جسے اللہ عزوجل نے نعمت دی اورمیں نے نعمت دی ۔ (ترمذی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۲؂ سنن الترمذی کتاب المناقب باب مناقب اسامہ بن زید حدیث ۳۸۴۵دارالفکر بیروت     ۵ /۴۴۷)
مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری مرقاۃ میں فرماتے ہیں :
 لم یکن احد من الصحابۃ الا وقد انعم اللہ علیہ و رسولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الا ان المراد المنصوص علیہ فی الکتاب وھو قولہ تعالٰی واذتقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ وھو زید لاخلاف فی ذٰلک ولا شک ۱؂ الخ ۔
یعنی سب صحابہ ایسے ہی تھے جنہیں اللہ نے نعمت بخشی اوراللہ کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نعمت بخشی ، مگر یہاں مراد وہ ہے کہ جس کی تصریح قرآن عظیم میں ارشاد ہوئی ہے کہ جب فرماتاتھا تو اس سے جسے اللہ تعالٰی نے نعمت دی اور اے نبی! تو نے اسے نعمت دی ، اور وہ زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں ، اس میں کسی کا خلاف نہ اصلاً شک ، اورآیت اگرچہ زید رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں اتری مگر سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کا مصداق اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما کو ٹھہرایا کہ پسر تابع پدرہے ،
افادہ فی المرقاۃ۔
 (۱؂مرقاۃ المفاتیح کتاب المناقب والفضائل باب اہل بیت النبی تحت الحدیث ۶۱۷۷ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ   ۱۰ /۵۴۶)
اقول : نہ صرف صحابہ بلکہ تمام اہل اسلام اولین وآخرین سب ایسے ہی ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے نعمت دی اوررسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نعمت دی ۔ پاک کردینے سے بڑھ کر اورکیا نعمت ہوگی جس کا ذکر آیات کریمہ میں سن چکے کہ
یزکیھم ۲؂۔
یہ نبی پاک اور ستھراکردیتا ہے بلکہ لاواللہ تمام جہان میں کوئی شے ایسی نہیں جس پراللہ کا احسان نہ ہو اللہ کے رسول کا احسان نہ ہو۔
 (۲؂ القرآن الکریم ۲ /۱۲۹)
فرماتاہے:
وما ارسلنٰک الا رحمۃً للعالمین۳؂۔
ہم نے نہ بھیجا تمہیں مگر رحمت سارے جہان کیلئے ۔
 (۳؂القرآن الکریم  ۲۱ /۱۰۷)
جب وہ تمام عالم کے لئے رحمت ہیں تو قطعاً سارے جہان پر ان کی نعمت ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ اہل کفر واہل کفران اگر نہ مانیں تو کیا نقصان ؎

راست خواہی ہزار چشم چناں 	

کوربہر کہ آفتاب سیاہ
 (اگر سچ چاہے تو ایسی ہزار آنکھوں کا اندھا ہونا بہترہے نہ کہ آفتاب کا سیاہ ہونا۔ت)
حدیث ۱۲۲:
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  :
من استعملناہ علی عمل فرزقناہ رزقاً الحدیث۔  ابو داود  والحاکم ۱؂ بسند صحیح عن بریدۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
جسے ہم نے کسی کام پر مقرر کیا پس ہم نے اسے رزق دیا۔(ابوداوداورحاکم نے بسند صحیح بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؂ سنن ابی داود کتاب الخراج والفئی باب فی ارزاق العمال آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۵۲)

(المستدرک للحاکم کتاب الزکوٰۃ دارالفکر بیروت ۱ /۴۰۶)

(کنزالعمال حدیث ۱۱۰۸۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴ /۳۹۴)
پہلی حدیث میں حضور نے فرمایا تھا:''ہم نے غنی کردیا۔''احادیث عطیہ حسنین رضی اللہ تعالٰی عنہما میں تھا کہ فرمایا: ''حسن کو مہابت ہم نے دی ، علم ہم نے دیا۔ حسین کو شجاعت ہم نے دی، کرم ہم نے دیا، محبت کا مرتبہ ، رضا کا مقام ہم نے عطا کیا۔''حدیث اسامہ میں تھا: ''اسے نعمت ہم نے بخشی ۔''یہاں ارشادہوتا ہے : ''رزق ہم نے دیا۔''
صلی اللہ تعالٰی علیک وعلٰی اٰلک قدرجودک ونوالک وبارک وسلم۔
Flag Counter