Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
130 - 212
حدیث ۱۱۵:
صحیح بخاری وصحیح مسلم ومسند امام احمد میں سیدنا عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے انہوں نے حضور اقدس رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی کہ حضور نے اپنے چچا ابو طالب کو کیا نفع دیا خدا کی قسم وہ حضور کی حمایت کرتا حضور کیلئے لوگوں سے لڑتا جھگڑتا تھا، فرمایا :
وجدتہ فی غمرات من النار فاخرجتہ الی ضحضاحٍ۱؂۔
میں نے اسے سراپا آگ میں ڈوبا پایا تواسے میں نے کھینچ کر پاؤں تک کی آگ میں کردیا ۔
صلی اللہ تعالٰی علیک وسلم۔
 (۱؂صحیح البخاری باب بنیان الکعبہ قصہ ابی طالب ۱/۵۴۸  وکتاب الادب     المشرک ۲ /۹۱۷) 

( صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۱۵)

( مسنداحمد بن حنبل عن عباس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۲۰۶و۲۰۷)
حدیث ۱۱۶:
کہ حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی گئی :
ھل نفعت اباطالبٍ ۔
حضور نے ابوطالب کو کچھ نفع دیا؟  فرمایا :
اخرجتہ من غمرۃ جھنم الی ضحضاح منھا۔ البزار ۱؂ وابویعلی وابن عدی وتمام عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
میں اسے دوزخ کے غرق سے پاؤں تک کی آگ میں نکال لایا۔ (اس کو بزار ، ابویعلٰی ، ابن عدی اورتمام نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
 (۱؂ مسند ابی یعلی عن جابر رضی اللہ عنہ حدیث ۲۰۴۳ مؤسسۃعلوم القرآن بیروت  ۲ /۳۹۹) 

(الکامل لابن عدی ترجمہ اسمٰعیل بن مجاہد دارالفکر بیروت      ۱ /۳۱۳) 

(مجمع الزوائدکتاب صفۃ النار تفاوت اہل فی العذاب دارالکتاب العربی بیروت   ۱۰ /۳۹۵)
وہابی صاحبو! مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تو ایک کافر کے باب میں فرما رہے ہیں کہ اسے میں نے غرق آتش سے کھینچ لیا اسے میں نکال لایا ۔ اورتم حضور کو مسلمانوں کے لیے بھی دافع البلاء نہیں مانتے ، یہ تمہارا ایمان  ہے ۔ مسلمان اپنے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے تصرف ، قدرتیں ، اختیار دیکھیں، دنیا کیا بلاہے آخرت کے کارخانوں کی باگیں انکے ہاتھ میں سپرد ہوئی ہیں ورنہ بغیر اللہ عزوجل کے ماذون ومختار کئے کس کی مجال ہے کہ اللہ کے قیدی کی سزا بدل دے جس عذاب میں اسے رکھاہو وہاں سے اسے نکال لے یہ وہی پیارا ہے جس کی عزت وجاہت جس کی محبوبیت نےدوجہاں کے اختیارات اسے دلا دئے ۔ آخر حدیث سن چکے :
الکرامۃ والمفاتیح یومئذٍ بیدی۲؂۔
عزت دینا اورتما م کاروبار کی کنجیاں اس دن میرے ہاتھ ہوں گی۔
 (۲؂سنن الدارمی باب ما اعطی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من الفضل حدیث ۴۹ دارالمحاسن للطباعۃ القاہرہ    ۱ /۳۰) 

( مشکوٰۃ المصابیح باب فضائل سید المرسلین قدیمی کتب خانہ کراچی ص۵۱۴)

(الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بانہ اول من تنشق عنہ الارض مرکز اہلسنت گجرات الہند ۲ /۲۱۸)
تورات شریف کا ارشاد سن چکے :
یدہ فوق الجمیع وید الجمیع مبسوطۃ الیہ بالخشوع۱؂۔
اس کا ہاتھ سب ہاتھوں پر بلند ہے سب کے ہاتھ اس کی طرف پھیلے ہیں عاجزی اورگڑگڑانے میں، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
 (۱؂ تحفہ اثناعشریہ باب شش دربحث نبوت وایمان سہیل اکیڈیمی لاہور ص۱۶۹)
حدیث ۱۱۷:
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان ھذہ القبور مملوۃ علی اھلھا ظلمۃ وانی انوّرھا بصلاتی علیھم ۔
بیشک یہ قبریں ان کے ساکنوں پر اندھیرے سے بھری ہیں اوربے شک میں اپنی نماز سے انہیں روشن کردیتاہوں ۔
صلی ا للہ تعالٰی وبارک وسلم قدرنورہ وجمالہ وجُودہٖ ونوالہٖ علیہ وعلٰی اٰلہٖ اٰمین۔ ھو وابن حبان۲؂  عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
اللہ تعالٰی آپ پر اور آپ کی آل پر آپ کے نور وجمال اورجود وعطاء کے مطابق درود وسلام اوربرکت نازل فرمائے ۔ اس نے اورابن حبان نے بحوالہ ابوہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کو روایت کیاہے ۔(ت)
 (۲؂صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی الصلٰوۃ علی القبر قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱ /۳۱۰) 

(السنن الکبرٰی کتاب الجنائز باب الصلٰوۃ علی القبر الخ دار صادر بیروت        ۴ /۴۷ )
حدیث ۱۱۸:
ام المومنین سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کہ پہلے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نکاح میں تھیں جب انکی وفات ہوئی اورانکی عدت گزری سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں پیام نکاح دیا، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ میں تین باتیں ہیں :
انا امرأۃ کبیرۃ۔
 میری عمر زائدہے ۔ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
انا اکبر منک
میں تم سے بڑاہوں۔ عرض کی :
وانا امرأۃ غیّور
میں رشکناک عورت ہوں ۔(یعنی ازواج مطہرات کے ساتھ شکر رنجی کا اندیشہ ہے ۔)فرمایا :
ادعو االلہ عزوجل فیذھب عنک غیرتک
میں اللہ عزوجل سے دعا کروں گا وہ تمہارا رشک دور فرمائے گا۔ عرض کی : یارسول اللہ !
وانا امرّۃ مصیبۃ
یارسول اللہ اورمیرے بچے ہیں (یعنی ان کی پرورش کا خیال ہے۔) فرمایا:
ھم الی اللہ والی رسولہٖ ۔
بچے اللہ اوراس کے رسول کے سپردہیں۔
احمد فی المسند۳؂حدثنا وکیع ثنا اسمٰعیل بن عبدالملک بن ابی الصغیراء ثنی عبدالعزیز ابن بنت ام سلمۃ عن ام سلمۃ رضی اللہ تعالٰی عنہما والحدیث فی السنن النسائی ۱؂وغیرہٖ۔
احمد نے مسند میں کہا ہمیں حدیث بیان کی وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی اسمٰعیل بن عبدالملک بن ابوالصغیراء نے ، مجھے حدیث بیان کی عبدالعزیز بن بنت ام سلمہ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ۔ اور یہ حدیث سنن نسائی وغیرہ میں مذکور ہے ۔(ت)
 (۳؂مسند احمد بن حنبل عن ام سلمہ رضی اللہ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۳۲۱) 

( المعجم الکبیر عن ام سلمہ حدیث ۴۹۹و۵۸۵و۹۷۴  المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۳ /۲۴۸و۲۷۳و۴۰۶)

 (۱؂الاصابۃ بحوالہ النسائی ترجمہ ۱۲۰۵  ام سلمہ بنت ابی امیہ دارالفکر بیروت     ۷ /۳۲۶،۳۲۷)
حدیث ۱۱۹:
کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ذکر مسیح کذاب میں فرمایا:
 ابشروافان یخرج وانا بین اظھرکم فاللہ کافیکم ورسولہ۔
خوش ہوکہ اگر وہ نکلا اورمیں تم میں تشریف فرما ہوا تو اللہ تمہیں کافی ہے اوراللہ کا رسول ، جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
الطبرانی فی الکبیر ۲؂عن اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔
طبرانی نے کبیر میں اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
(۲؂المعجم الکبیر حدیث ۴۳۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت   ۲۴ /۱۷۰)
یہاں سخت ترین اعداء کے مقابلے میں اللہ ورسول کو کفایت فرمانے والا بتایا کہ خوش ہو بے خوف رہو اللہ ورسول کے ہوتے تمہیں کچھ اندیشہ نہیں۔ اللہ اللہ ایسی جلیل حاجت روائیوں مشکلشائیوں میںاللہ عزوجل کے نام اقدس کے ساتھ حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک ملنا وہابیہ کے زخمی کلیجوں پر خدا جانے کہاں تک نمک چھڑکے گا۔
وللہ الحمد۔
Flag Counter