Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
13 - 212
 (۸) تعوذ میں یہ صیغہ مختار قراء کرام ہونا ضرور صحیح ہے ، امام ابو عمر ودانی تیسیر میں فرماتے ہیں:
المستعمل عند القراء الحذاق من اھل الاداء فی لفظھا اعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم دون غیرہ وذٰلک لموافقۃ الکتاب والسنۃ فاما الکتاب ماجاء فی تنزیل العظیم قولہ عزوجل لنبیہ الکریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وھو اصدق القائلین ''فاذا قرأت القراٰن فاستعذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ''واما السنۃ فما رواہ نافع ابن جبیر ابن مطعم عن ابیہ رضی اللہ تعالٰی  عنہما عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انہ استعاذ قبل قرأۃ القراٰن بھٰذا اللفظ بعینہ وبذٰلک قرأت وبہ اٰخذ۱؂۔
ادائے قرآن میں ماہر قاریوں میں استعاذہ کیلئے یہی الفاظ مستعمل ہیں اورنہیں ، وجہ یہ ہے کہ یہ الفاظ قرآن وحدیث نبوی کے موافق ہیں، اللہ تعالٰی  قرآن عظیم میں فرماتاہے ، جب قرآن پڑھنا ہو تو اعوذباللہ من الشیطان الرجیم پڑھو۔ اورحضرت نافع ابن جبیر ابن مطعم اپنے والد سے وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی  علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی  علیہ وسلم تلاوت قرآن پاک سے قبل خاص انہیں الفاظ میں اعوذباللہ پڑھتے ۔ یہ حدیث سے ثبوت ہوا۔ امام ابو عمرو فرماتے ہیں میں ایسا ہی پڑھتاہوں اوریہی میرا مذہب ہے ۔
 (۱؂ التیسیر فی قواعد علم التفسیر للامام محمد بن سلیمان )
غیث النفع میں ہے :
اما صیغتھا فالمختار عند جمیع القراء اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم وکلھم یجیز غیر ھذہ الصیغۃ من الصیغ الوارد ۃ نحو اعوذباللہ السمیع العلیم من الشیطٰن الرجیم واعوذباللہ العظیم من الشیطٰن الرجیم واعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم انہ ھو السمیع العلیم واعوذباللہ السمیع العلیم من الشیطٰن الرجیم۲؂۔
صیغہ استعاذہ کے لیے تمام قاریوں کا مختار اورپسندیدہ لفظ اعوذباللہ من الشیطان الرجیم ہے ، اس کے باوجود ان دوسروے صیغوں کو بھی سبھی جائز قرار دیتے ہیں جو اس باب میں وارد ہیں جیسے اعوذباللہ السمیع العلیم من الشیطٰن الرجیم وغیرہ ۔الخ
 (۲؂ غیث النفع )
حرز الامانی امام محمد قاسم شاطبی قدس  سرہ میں ہے :    ؎

اذاماارادت الدھر تقرأفاستعذ	جھارا من الشیطٰن باللہ مسجلا

علی مااتی فی النحل یسراً وان تزد	لربک تنزیھا فلست مجھلا۳؂
زمانہ میں جب بھی قرآن شریف پڑھنا چاہو تو اعوذباللہ علی الاعلان پڑھو ، یہ سب قاریوں کا مسلک ہے ۔جیسا کہ سورہ نحل شریف میں وارد جو آسان ہے اور اگر اللہ تعالٰی  کی کچھ تنزیہات بھی بڑھا دوتوتم جاہل نہ ہوگے ۔
 (۳؂ حزرالامانی ووجہ التہانی     باب الاستعاذہ     مصطفی البابی مصر   ص۱۰)
سراج القاری میں ہے :
 قولہ مسجّلا ای مطلقا لجمیع القراء فی جمیع القراٰن (علی ما اتی فی النحل )ای استعذ علی اللفظ الذی نزل فی سورۃ النحل جاعلا مکان استعذ اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ومعنی یسراً ای مسیراً وتیسرہ قلۃ کلماتہ وزیادۃ التنزیہ ان تقول اعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم انہ ھو السمیع العلیم ، واعوذباللہ السمیع العلیم من الشیطٰن الرجیم ونحو ذٰلک وقولہ فلست مجھلا ای لست منسوبا الی الجھل لان ذٰلک کلہ صواب ومروی ۱؂۔
ماتن کا قول مسجلا کا مطلب یہ ہے کہ تمام قراء قرآن کی قراء ت میں ہرجگہ اسی کو راجح قرار دیتے ہیں ۔ علی مااتی فی النحل کا مطلب یہ ہے کہ سورہ نحل شریف میں استعاذہ کے جو الفاظ وارد ہیں انہیں پڑھو ، اوریسراً کے معنی یہ ہیں کہ چونکہ اس استعاذہ میں کلمات کم ہیں اس لئے ان کا پڑھنا آسان ہے اورتنزیہ کے اضافہ کا مطلب یہ ہے کہ اورروایتوں میں جوسمیع العلیم وغیرہ تعریف الہٰی کے کلمات وارد ہیں ان کا اضافہ کروفلست مجھلاکا مطلب یہ کہ ایسا کرنے پر تم جاہل نہ قرار نہ دیے جاؤگے کیونکہ وہ زائد کلمات بھی درست اورمروی ہیں۔
 (۱؂ سراج القاری لعلی بن عثمان المعروف بابن القاصع)
مگر دیگرالفاظ مرویہ سے بھی منع ہرگز نہیں ۔ وہ سب بھی باجماع قراء جائز ہیں۔ غیث وشاطبیہ وشروح کی عبارات ابھی گزریں۔ امام جلال الدین سیوطی اتقان میں فرماتے ہیں :
 قال الحلوا نی فی جامعہ لیس للاستعاذۃ حدینتھی الیہ ، من شاء زاد ومن شاء نقص۲؂۔
حلوانی نے اپنی جامع میں لکھا کہ استعاذہ کی کوئی حد نہیں ہے کہ اسی پر بس ہے ۔ تو جو چاہے اضافہ کرے اورجو چاہے کم کرے۔
 (۲؂ الاتقان فی علوم القرآن   النوع الخامس والثلاثون     داراحیاء التراث العربی بیروت   ۱ /۳۴۱)
حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا دیگر الفاظ سے منع فرمانا ہرگز ثابت نہ ہوا ، اوراگر ثابت ہوجاتا تو کیا معنٰی تھے کہ بعد منع اقدس پھر بھی دیگر الفاظ جائز رہتے ۔ قاری صاحب نے یہاں عجیب بین المتنافیین کیا  ہے اورالفاظ سے منع فرمانا بالجزم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا،حالانکہ وہ حدیث ضعیف ہے اورضعیف کی بہ صیغہ جزم نسبت روا نہیں ۔ پھران الفاظ کو بھی جائز رکھا حالانکہ بعد ممانعت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جواز کی طرف راہ اصلاً نہیں ، بلکہ جواز وہی ہے کہ منع ثابت نہ ہو ۔ امام شاطبی بعد کلام مذکور فرماتے ہیں :
وقد ذکروا لفظ الرسول فلم یزد ولو صح ھذا النقل لم یبق مجملا۱؂۔
حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے الفاظ میں استعاذہ میں اضافہ نہیں ہے ، اگریہ روایت صحیح ہوتی تو حکم قرآنی مجمل نہ ہوتا۔
 (۱؂ حرزالامانی ووجہ التہانی    باب الاستعاذہ    مصطفی البابی مصر    ص۱۰)
شرح علامہ ابن قاصع میں ہے :
 اشارالی قول ابن مسعود رضی ا للہ تعالی عنہ قرأت علی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فقلت اعوذباللہ السمیع العلیم من الشیطٰن الرجیم فقال لی قل یا ابن ام عبد اعوذباللہ  من الشیطٰن الرجیم وروی نافع عن ابن جبیر ابن مطعم عن ابیہ رضی اللہ تعالی عنہما عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انہ کان یقول قبل القراء ۃ اعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم وکلا الحدیثین ضعیف واشاربقولہ ولو صح ھذاالنقل الی عدم صحۃ الحدیثین وقولہ لم یبق مجملا ای لو صح نقل ترک الزیادۃ لذھب اجمال الاٰیۃ واتضح معنا ھا وتعین لفظ النحل دون غیرہ ولکنہ لم یصح فبقی اللفظ مجملا ومع ذٰلک فالمختار ان یقال اعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم لموا فقۃ لفظ الاٰیۃ وان کان مجملا لورودالحدیث بہ علی الجملۃ وان لم یصح لاحتمال الصحۃ ۱؂ ۔واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم
مصنف نے اپنے قول سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اسی حدیث کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور تلاوت کی تو اعوذباللہ السمیع العلیم من الشطٰن الرجیم کہا تو مجھ سے آپ نے فرمایا : اے ام عبد کے لڑکے !صرف اعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم کہو، اورنافع نے جبیر ابن مطعم سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تلاوت سے قبل اعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم پڑھتے تھے اوریہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں ۔ اورمصنف نے اپنے قول ولو صح ھذا النقل سے دونوں ہی حدیثوں کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے اور مصنف کے قول ''مجمل نہ رہتی'' کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ روایت صحیح ہوتی کہ زیادتی کو ترک کیا تو آیت قرآنی کا اجمال ختم ہوجاتااور اس کے معنی واضح ہوجاتے اور سورہ نحل میں وارد الفاظ ہی متعین ہوجاتے لیکن جب حدیث صحیح نہیں توآیت مجمل ہی رہی ۔ اس کے باوجود راجح اعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم ہی ہے کیونکہ یہ قرآنی الفاظ کے موافق بھی ہے اورحدیث بھی ان الفاظ کے ساتھ وارد ہے ، تو اگرروایت صحیح ثابت نہ ہو احتمال صحت تو ہے ۔
 (۱؂شرح الشاطبیۃ سراج القاری للعلامۃ لعلی بن عثمان المعروف بابن القاصع)
مسئلہ ۲۱ :   از دھرم پور ضلع بلند شہر مرسلہ سید پرورش علی صاحب ۸شعبان ۱۳۲۳ھ 

چہ می فرمایند عالمان کتاب مبین کہ الف
ذاقا، واستبقاالباب اوردعوااللہ اورقالا الحمد
خواندہ شود یانہ ؟ بینوا توجروا۔
کتا ب مبین کے علماء کیافرماتے ہیں کہ
 ذاقا، واستبقاالباب ،دعوااللہ اورقالا الحمد
کا الف پڑھا جائے گا یا نہیں ؟بیان فرمایئے اجر دئے جاؤگے ۔(ت)
الجواب : درسجاوندی ایں چہار فتحہ رابقدر خفیف کہ تا الف تام نہ رسد اشباع فرمودہ است، سجاوندی کتاب معتبر ست ودر دیگر کتب از تصریح بداں نیست خلافش نیز نیست وجہش مواجہ است کہ تمیز تثنیہ از مفرد است پس عمل بداں محذورے ندارد ونظیرش فصل خفیف درقال اللہ تعالٰی
علٰی ما نقول وکیل۱؂ وقال النار مثوکم۲؂
وامثالھا است تامبتداء بفاعل ملتبس نہ شود ۔ واللہ تعالٰی اعلم
سجاوندی میں ان چار فتحوں میں ہلکا سا اشباع فرمایا گیا ہے تاکہ الف تام کی حد تک نہ پہنچے ، سجاوندی معتبر کتاب ہے ۔ دوسری کتابوں میں اگرچہ اس کی تصریح نہیں ہے مگر مخالفت بھی نہیں ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے تثنیہ مفرد سے ممتاز ہوجائے گا ۔ لہذا اس پر عمل کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔اس کی نظیر اللہ تعالٰی کے ارشاد
علی مانقول وکیل وقال النار مثوٰکم
اوراس جیسی دیگر مثالوں میں ہلکا سافصل ہے تاکہ مبتداء کا فاعل کے ساتھ التباس لازم نہ آئے ، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؂ القرآن الکریم   ۲۸ /۲۸)	

 (۲؂ القرآن الکریم    ۶ /۱۲۸)
Flag Counter