Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
129 - 212
حدیث ۱۰۶:
صحیحین میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
  ان لی اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحی الذی یمحوا اللہ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر علی قدمی ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) مالک واحمد وابو داود الطیالسی وابن سعد والبخاری ۱؂و مسلم والترمذی والنسائی والطبرانی والحاکم والبیہقی وابونعیم واٰخرون عن جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
بیشک میرے متعدد نام ہیں ، میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی یعنی کفروشرک کا مٹانے والا ہوں کہ اللہ تعالٰی میرے ذریعے سے کفر مٹاتاہے ، میں حاشر یعنی مخلوق کو حشر دینے والا ہوں کہ میرے قدموں پر تمام لوگوں کا حشرہوگا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔اس کو مالک ، احمد ، ابو داود طیالسی ، ابن سعد، بخاری، مسلم ، ترمذی، نسائی، طبرانی ، حاکم ، بیہقی ، ابونعیم اوردیگر محدثین نے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت فرمایا۔(ت)
(۱؂صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الصف قدیمی کتب خانہ رکراچی ۲ /۷۲۷ )

( صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فی اسمائہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶۱) 

(الشمائل مع سنن الترمذی باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۳۶۵دارالفکر بیروت ۵ /۵۷۲) 

(مسند احمد بن حنبل عن جبیربن  مطعم المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۸۴) 

( مؤطا لامام مالک ماجاء فی اسماء النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میر محمد کتب خانہ کراچی ص۷۳۷) 

(الطبقات الکبری ذکر اسماء النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارصادر بیروت ۱ /۱۰۵) 

(المستدرک للحاکم کتاب التاریخ ذکر اسماء النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالفکربیروت ۲ /۶۰۴) 

(دلائل النبوۃ للبیہقی باب ذکر اسماء رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۵۲تا۱۵۵) 

(مسند ابی داود طیالسی احادیث جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ الجزء الرابع ص۱۲۷)

 (دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثالث ذکر فضیلتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باسمائہ عالم الکتب بیروت ۱ /۱۲ )
حدیث ۱۰۷تا۱۱۱:
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا محمد واحمد والمقفی والحاشر ونبی التوبۃ ونبی الرحمۃ ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)۔
میں محمد ہوں اوراحمد اورسب انبیاء کے بعد آنے والا اورخلائق کو حشر دینے والااورتوبہ کا نبی اور رحمت کا نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
احمد ومسلم ۲؂والطبرانی فی الکبیر عن ابی موسٰی الاشعری ونحوہ احمد وابناسعدٍ وابی شیبۃ والبخاری فی التاریخ والترمذی فی الشمائل عن حذیفہ وابن مردویہ فی التفسیر وابو نعیم فی الدلائل وابن عدی فی الکامل وابن عساکر فی تاریخ دمشق والدیلمی فی مسند الفردوس عن ابی الطفیل وابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم وابن سعد عن مجاھدٍ مرسلاً یزیدون وینقصون وکلھم علی الحاشر متفقون۔
اس کوروایت کیا احمد ، مسلم اورطبرانی نے کبیر میں ابو موسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ۔ اوراس کی مثل احمد ،ا بن مسعود، ابن ابی شیبہ اوربخاری نے تاریخ میں اورترمذی نے شمائل میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ۔ اور ابن مردویہ نے تفسیر میں ، ابو نعیم نے دلائل میں ، ابن عدی نے کامل میں، ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اوردیلمی نے مسند الفردوس میں حضر ت ابو الطفیل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ۔ اور ابن عدی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ۔ اورابن سعد نے مجاہد سے مرسلاً روایت کیا۔ اس میں راوی کمی بیشی کرتے رہے مگر حاشر پر سب متفق ہیں۔(ت)
(۲؂صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فی اسمائہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶۱) 

(مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی الاشعری المکتب الاسلامی بیروت        ۴ /۳۹۵) 

(شمائل الترمذی مع سنن الترمذی باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالفکر بیروت     ۵ /۵۷۲) 

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر اسماء الرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم داراصادر بیروت          ۱ /۱۰۴) 

(المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الفضائل حدیث ۳۱۶۸۳دارالکتب العلمیہ بیروت          ۶ /۳۵۱)

(دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثالث ذکر فضیلتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عالم الکتب العلمیہ بیروت       ۱ /۱۲) 

(کنز العمال بحوالہ عد، وابن عساکر عن ابی الطفیل حدیث ۳۳۱۶۹مؤسسۃ الرسالہ بیروت      ۱۱ /۴۶۲و۴۶۳)

(الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۹۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت        ۱ /۴۲)

( الطبقات الکبرٰی ذکر اسماء رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارصادر بیروت     ۱ /۱۰۵)
حدیث ۱۱۲:
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک کنیسہ یہود میں تشریف لے جاکر دعوت اسلام فرمائی ، کسی نے جواب نہ دیا ، دوبارہ فرمائی ، کوئی نہ بولا ۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
ابیتم فواللہ انا الحاشر وانا العاقب وانا النبی المصطفٰی اٰمنتم اوکذبتم ۔الحاکم ۱؂ وصححہ عن عوف بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
تم نے نہ مانا توسن لوخدا کی قسم میں ہی حشردینے والا ہوں، میں ہی خاتم الانبیاء ہوں، میں ہی نبی مصطفی ہوں ، چاہے تم مانو یا نہ مانو (حاکم نے عوف بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بیان کیااور اس کی تصحیح کی۔ ت)
 (۱؂المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ قصہ ذکر رؤیا عبداللہ بن سلام دارالفکر بیروت ۳ /۴۱۵)
حدیث ۱۱۳:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
انا احمد وانا محمد وانا الحاشر الذی احشر الناس علی قدمی وانا الماحی الذی یمحوا اللہ لی الکفر۲؂۔
میں احمد ہوں، میں محمد ہوں، میں حاشر ہوں کہ لوگوں کو اپنے قدموں پر حشردوں گا ، میں ماحی ہوں کہ اللہ تعالٰی میرے ذریعے سے کفر کی بلا محو فرماتاہے ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
 (۲؂المعجم الکبیر عن جابر رضی اللہ عنہ حدیث ۱۷۵  المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ /۱۸۴) 

(الکامل لابن عدی وہب بن وہب الخ دارالفکر بیروت ۷ /۲۵۲۷)
یہ اسم ماحی بھی ہمارے مقصود رسالہ سے ہے نیز بجہت اسناد اورنیز یوں کہ معاذاللہ کفر سے بدتر اورکیا بلا ہے ، توجو پیارا ماحی کفر ہے اس سے بڑھ کرکون  دافع البلاء ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔مگر اس نام پاک حاشر کی اسناد کو وہابی صاحب بتائیں سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یہ کیا فرمارہے ہیں کہ میں حشر دینے والا ہوں میں اپنے قدموں پر خلائق کو حشر دوں گا۔ تم نے تو قرآن مجید سےیہ سنا ہوگا کہ نشر کرنا حشر دینا خدا کی شان ہے ، یہاں بھی تمہارا امام الطائفہ یہی کہے گاکہ نبی نے اپنے آپ کو خدا کی شان میں ملادیا، خدا کی شان تم مدعیان علم وایمان ابھی خدا کی شان ہی کے معنی نہ سمجھے، نبی کی سب شانیں خدا کی شان ہیں ، تو خدا کی بعض شانیں ضرور نبی کی شان ہیں کہ موجبہ کلیہ کو اس کا عکس موجبہ جزئیہ لازم ہے ، ہاں وہ شان جس سے خدائی لازم آئے نبی کے لیے نہیں ہوسکتی ، دفع بلا یا سماع ندا یا فریاد کو پہنچنا یا مراد کا دینا وغیرہ امور نزاعیہ کہ بعطائے رحمانی ووساطت فیض ربانی سےمانے جاتے ہیں لزوم الوہیت سے کیا تعلق رکھتے ہیں
ولٰکن من لم یجعل اللہ لہ نورًا فمالہ من نور
 (لیکن جسے اللہ تعالٰی نور عطانہ فرمائے اس کے لیے کوئی نور نہیں۔ ت)
حدیث ۱۱۴:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم : میرا نام قرآن میں محمد اورانجیل میں احمد اورتورات میں احید ہے
وانما سمیت احید لانی احید عن امتی نارجھنم
 اورمیرا نام احید اس لئے ہواکہ میں اپنی امت سے آتش دوزخ کودفع فرماتاہوں۔
فلوجہ ربک الحمد وعلیک الصلٰوۃ والسلام یا احید یا نبی الحمد ۔ ابنا عدی وعساکر۱؂ عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔
آپ کے رب کے لیے حمد اورآپ پر درود وسلام ہواے احید ، اے نبی حمد ۔ اس کو ابن عدی اور ابن عساکر نے سید نا ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے ۔(ت)
 (۱؂ تاریخ دمشق الکبیر باب معرفۃ اسمائہٖ الخ داراحیاء التراث العربی ۳ /۲۱) 

(الکامل لابن عدی ترجمہ اسحٰق بن بشر دارالفکر بیروت ۱ /۳۳۱)
وہابی صاحبو! تمہارے نزدیک احید پیارا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دافع البلاء تو ہے ہی نہیں، کہہ دو کہ وہ تم سےنارجہنم بھی دفع نہ فرمائیں اوربظاہر امید تو ایسی ہی ہے کہ جو جس نعمت الہٰی کا منکر ہوتاہے اس نعمت سے محروم رہتاہے ۔ 

اللہ عزوجل فرماتاہے :
انا عند ظن عبدی بی ۲؂۔
میں اپنے بندے سے اس کے گمان کے موافق معاملہ فرماتاہوں۔
 (۲؂مسند احمد بن حنبل المکتب الاسلامی بیروت      ۲ /۳۱۵) 

(الترغیب والترہیب الترغیب فی الاکثار من ذکراللہ حدیث ۱ مصطفی البابی مصر    ۲ /۳۹۳)
جب تمہارا گمان یہ ہے کہ محمدمصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دافع بلا نہیں تو تم اسی کے مستحق ہو کہ وہ تمہارے لئے دافع البلاء نہ ہوں ۔ ایک بار فقیر کے یہاں اس مسئلہ کا ذکر تھا کہ رافضی دیدار الہی کے منکر ہیں اوروہابی شفاعت نبوی کے ۔ فقیر نے کہا ایک یہی مسئلہ نزاعیہ ہےجس میں ہم اوروہ دونوں راست گو ہیں ہم کہتے ہیں دیدار الہٰی ہوگا اورہم حق کہتے ہیں ان شاء اللہ الغفار ہمیں ہوگا ، رافضی کہتے ہیں نہ ہوگا وہ سچ کہتے ہیں ان شاء اللہ القہار انہیں نہ ہوگا ، ہم کہتے ہیں شفاعت مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حق ہے اورہم قطعاحق پرہیں ان کے کرم سے ہمارے لئے ہوگی ، وہابی کہتے ہیں کہ شفاعت محال مطلق ہے ، اوروہ ٹھیک کہتے ہیں امید ہے کہ انکے لئے نہ ہوگی ۔

ع    گر بر تو حرام  ست   حرامت  بادا
 (اگر تجھ پر حرام ہے تو حرام رہے ۔ ت)
حاضران گفتند کاے صدر الورٰی 

راست گو گفتی دو ضد گوراجرا

گفت من آئینہ ام مصقول دوست 

ترک وہندودرمن آں بیند کہ اوست۱ ؎
 (حاضرین نے عرض کی کہ اے سرورکائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ! آپ نے دو متضاد بات کرنے والوں کو کیسے درست قرار دیا ۔آپ نے ارشادفرمایا کہ میں دوست کا قلعی کیا ہوا آئینہ ہوں ، ترک اورہندو مجھ میں وہی دیکھتاہے جیسا وہ خود ہے ۔ت)

حضور پرنورشافع یوم النشور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شفاعتی یوم القیٰمۃ حق فمن لم یؤمن بھا لم یکن من اھلھا ۔ ابن منیع فی معجمہ ۲؂عن زید بن ارقم وبضعۃ عشر من الصحابۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔
روز قیامت میری شفاعت حق ہے تو جو اس پر یقین نہ لائے وہ اس کے لائق نہیں (ابن منیع نے اپنی معجم میں زید بن ارقم اوردس سے چند زائد صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ت)
 (۲؂ کنز العمال بحوالہ ابن منیع حدیث ۳۹۰۵۹مؤ سسۃ الرسالہ بیروت ۱۴ /۳۹۹)
علامہ مناوی تیسیر میں لکھتے ہیں :
اطلق علیہ التواتر۳؂ ۔
اس حدیث کو متواترکہاگیا۔
 (۳؂التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث شفاعتی یوم القیٰمۃ حق مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۷۸)
بالجملہ وہ تمہارے لئے دافع البلاء نہ سہی مگر لا واللہ ہماراٹھکانا تو ان کی بارگاہ بیکس پناہ کے سوا نہیں ؎

منکر اپنا اورحامی ڈھونڈلیں 

آپ ہی ہم پر تورحمت کیجئے

بلکہ لاواللہ اگر بفرض غلط بفرض باطل عالم میں ان سے جدا کوئی دوسر احامی بن کر آئے بھی توہمیں اس کا احسان لینا منظور نہیں وہ اپنی حمایت اٹھا کر رکھے ہمیں ہمارے مولائے کریم جل جلالہ  نے بے ہمارے استحقاق بے ہماری لیاقت کے اپنے محبوب کا کر لیا اور اسی کی وجہ کریم کو حمد قدیم ہے اب ہم دوسرے کابننا نہیں چاہتے جس کا کھائیے اسی کا گائیے۔ ؎

چودل بادلبر ے آرام گیرد 

زوصل دیگر ے کے کام گیرد
 (جب ایک محبوب سے دل آرام پاتا ہے تو دوسرے کے وصل سے اسے کیا کام ۔ت)

یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں

منت غیر کوئی اٹھائی کوئی ترس جتائے کیوں
رباعی:  اے واہ دہ حبیب راکلید ہمہ کار 

باران درود بررُخ پاکش بار

دستے کہ بدامان کریمش زدہ ایم 

زنہار بدست دیگر انش مسپار
 (اے اللہ ! اس حبیب کو ہرمعاملے کی چابی عطافرما اس کے رخ زیبا پر درود کی بارش برسا، جس ہاتھ سے ہم نے اس کا دامن کرم تھا ما ہے ہرگز ہم کو دوسروں کا دست نگر نہ بنا ۔ ت) ؎

تیرے ٹکڑوں پہ پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال 

جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑکے صدقہ تیرا
صلی اللہ تعالی علیک وسلم وعلٰی اٰلک وصحبک وبارک وکرم ۔ والحمدللہ رب العالمین۔
خیر ، ان اہل شر کے منہ کیا لگئے ، مسلمان نظر فرمالیں کہ عیاذاً باللہ نارجہنم سے سخت ترکون سی بلا ہوگی مگر اس کادافع دافع البلا نہیں ہے یہ کہ وہابیہ کے پا س نہ عقل ہے نہ دین، ولا حول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم۔
Flag Counter