سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مجھ سے کہا :
ای بنی لوجعلت تاتینا تغشانا۔
اے میرے بیٹے !میری تمنا ہے کہ آپ ہمارے پاس آیا کریں۔
ایک دن میں گیا تو معلوم ہوا کہ تنہائی میں معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے باتیں کر رہے ہیں اورعبداللہ بن عمر رضی ا للہ تعالٰی عنہمادروازے پر رکے ہیں عبداللہ پلٹے ان کے ساتھ میں بھی واپس آیا ، اس کے بعد امیر المومنین مجھے ملے ، فرمایا: لم اراک جب سے پھر میں نے آپ کو نہ دیکھا یعنی تشریف نہ لائے میں نے کہا: یا امیر المومنین ! میں آیا تھا آپ معاویہ کے ساتھ خلوت میں تھے آپ کے صاحبزادے کے ساتھ واپس چلا گیا۔
امیر المومنین نے فرمایا:
انت احق من ابن عمر فانما انبت ماترٰی فی رء وسنا اللہ ثم انتم ۲۔
آپ ابن عمر سے مستحق ترہیں یہ جوآپ ہمارے سروں پردیکھتے ہیں یہ اللہ ہی نے تواگائے ہیں
(۲کنز العمال بحوالہ ابن سعد وابن راویہ حدیث ۳۷۶۶۲مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳ /۶۵۵)
(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ الباب الثانی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۳۴۱)
پھرآپ سے ایک اورروایت میں ہے :
ھل انبت الشعر غیرکم ۔الخطیب من طریق یحیٰی بن سعید ن الانصاری عن عبید بن حنین ثنی الحسین ابن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما وکذا ابنا سعد وراھو یہ والاخرٰی رواھا الحافظ محب الدین الطبری فی الریاض النضرۃ من طریق عبید بن حنین لاحد الریحانتین رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
کیا سرپر بال کسی اورنے اگائے ہیں سوائے تمہارے؟(خطیب نے یحیٰی بن سعید انصاری کے طریق سے عبید بن حنین سے روایت کی کہ مجھے حسین بن علی نے حدیث بیان کی ۔ یونہی سعد اورراہویہ کے بیٹوں نے روایت کی ۔ اورایک اورحدیث جس کو محب الدین طبری نے ریاض النضرہ میں بطریق عبید بن حنین دونوں شہزادوں یعنی حسنین کریمین میں سے ایک کے بارے میں روایت کیا رضی اللہ تعالٰی عنہم۔ (ت)
حافظ الشان امام عسقلانی الاصابۃ فی تمییز الصحابہ میں اسے بروایت خطیب ذکر کر کے فرماتے ہیں :
سندہ صحیح ۱۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
(۱الاصابہ فی تمییز الصحابۃ ترجمہ ۱۷۲۰ حسین بن علی رضی اللہ تعالی عنھما دارالفکر بیروت ۱/۴۹۸)
میں ڈرتا ہوں کہ امیر المومنین عمرفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ان حدیثوں کا سنانا کہیں وہابی صاحبوں کورافضی بھی نہ کردے۔
قل موتوابغیظکم ان اللہ علیم بذات الصدور ۲۔
تم فرمادو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن میں، اللہ خوب جانتاہے دلوں کی بات۔(ت)
(۲القرآن الکریم ۳ /۱۱۹)
شاہزادوں سے امیر المومنین کے اس فرمانے کا مطلب بھی وہی ہے جو لفظ اول میں تھا کہ یہ بال تمھارے مہربان باپ ہی نے اگائے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔جس طرح اراکین سلطنت اپنے آقازادوں سے کہتے ہیں کہ جو نعمت ہے تمہاری ہی دی ہوئی ہے یعنی تمہارے ہی گھرسے ملی ہے ۔
حدیث۱۰۳:
کہ حضرت بتول زہراصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علٰی ابیہا وعلیہا وعلٰی بعلہا وابنیہا وبارک وسلم اپنے دونوں شاہزادوں کو لےکر خدمت انور سیداطہرصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوئیں اورعرض کی :
یارسول اللہ انحلھما یا رسول اللہ !ان دونوں کو کچھ عطافرمائیے۔
قال نعم قاسم خزائن الہی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
نے فرمایا : ہاں منظور۔
اما الحسن فقد نحلتہ حلمی وھیبتی واما الحسین فقد نحلتہ نجدتی وجودی
حسن کو تو میں نے اپنا حلم اورہیبت عطاکی اورحسین کو اپنی شجاعت اوراپنا کرم بخشا۔
ابن عساکر۱ عن محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع عن ابیہ وعمہ عن جدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
ابن عساکر نے محمد بن عبید اللہ بن ابو رافع سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا رضی ا للہ عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
(۱تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۵۵۹حسین بن علی رضی اللہ عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۴ /۱۴۱)
حدیث ۱۰۴:
کہ جب حضرت خاتون فردوس رضی اللہ تعالٰی عنہا نے عرض کی :
یانبی اللہ انحلھما یانبی اللہ !
ان دونوں کو کچھ عطاہو۔
فرمایا :
نحلت ھذا الکبیر المھابۃ والحلم ونحلت ھذا الصغیر المحبۃ والرضا۔ العسکری ۲فی الامثال عن جابر بن سمرۃ عن ام ایمن برکۃ رضی اللہ عنہم۔
میں نے اس بڑے کو ہیبت وبردباری عطا کی اوراس چھوٹے کو محبت ورضا کی نعمت دی ۔ (عسکری نے امثال میں جابر بن سمرہ سے انہوں نے ام ایمن برکۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ ت)
کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جس مرض میں وصال مبارک ہوا ہے اس میں دو جہان کی شاہزادی اپنے دونوں شہزادوں کولئے اپنے پدرکریم علیہ وعلیہم الصلٰوۃ والتسلیم کے پاس حاضرہوئیں اورعرض کی :
یارسول اللہ ھذان ابنای فورثھما شئیا ۔
یارسول اللہ ! یہ میرے دونوں بیٹے ہیں انہیں اپنی میراث کریم سے کچھ عطافرمائیے۔
ارشاد ہوا :
اما حسن فلہ ھیبتی وسؤددی واما حسین فلہ جرأتی وجودی۔ الطبرانی ۱فی الکیبر وابن مندہ وابن عساکر عن البتول الزھراء رضی اللہ عنہا۔
حسن کے لیے تو میری ہیبت اورسرداری ہے اورحسین کے لیے میری جرأت اورمیراکرم (طبرانی نے کبیر میں اورابن مندہ اورابن عساکر نے بتول الزہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔ ت)
(۱تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۵۵۹حسین بن علی رضی اللہ عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۴ /۱۴۰)
(المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۲ /۴۲۳)
(کنزالعمال بحوالہ ابن مندہ کر حدیث ۱۸۸۳۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷ /۲۶۸)
(کنزالعمال بحوالہ طب وابن مندہ کر حدیث ۳۴۲۷۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۱۷)
(کنز العمال بحوالہ ابن مندہ طب ، ابی نعیم ،کر حدیث ۳۷۷۰۹مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳ /۶۷۰)
اقول: وباللہ التوفیق حلم ومحبت وجود وشجاعت ورضا ومحبت کچھ اشیائے محسوسہ واجسام ظاہرہ تو نہیں کہ ہاتھ میں اٹھا کر دے دیے جائیں اوربتول زہر ا کاسوال بصیغہ عرض ودرخواست تھا کہ حضور انھیں کچھ عطافرمائیں جسے عرف نحاۃ میں صیغہ امر کہتے ہیں اور وہ زمان استقبال کے لیے خاص کہ جب تک یہ صیغہ زبان سے اداہوگا زمانہ حال منقضی ہوجائے گا اس کے بعد قبول ووقوع جو کچھ ہوگا زمانہ تکلم سے زمانہ مستقبل میں آئے گا اگرچہ بحالت فورواتصال اسے عرفاً زمانہ حال کہیں بہرحال درخواست وقبول کوزمانہ ماضی سے اصلاً تعلق نہیں ، اب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کیا فرمایا نعم ہاں دوں گا۔ لاجرم یہ قبول زمانہ استقبال کا وعدہ ہوا فان السؤال معاد فی الجواب ای نعم انحلھما اس کے متصل ہی حضور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہ میں نے اپنے اس شاہزادے کو یہ نعمتیں دیں اوراس شہزادے کو یہ دولتیں بخشیں ۔ یہ صیغے بظاہر ماضی کے ہیں اوراس سے زمان وعدہ تھا اور زمان وعدہ عطا نہیں کہ وعدہ عطا پر مقدم ہوتاہے ۔ لاجرم یہ صیغے اخبار کے نہیں بلکہ انشا ہیں جس طرح بائع ومشتری کہتے ہیں بعت اشتریت میں نے بیچی میں نے خریدی ۔ یہ صیغے کسی گزشتہ خریدوفروخت کی خبر دینے کے نہیں ہوتے بلکہ انہیں سے بیع وشر ا پیداہوتی ہے انشاکی جاتی ہے یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس فرمانے ہی میں کہ میں نے اسے یہ دیا اسے یہ دیا حلم وہیبت وجود وشجاعت ورضا ومحبت کی دولتیں شاہزادوں کو بخش دیں یہ نعمتیں خاص خزائن ملک السمٰوات والارض جل جلالہ کی ہیں۔ ؎
(یہ سعادت اپنی طاقت سے حاصل نہیں ہوتی جب تک عطا فرمانے والا اللہ تعالٰی عطانہ فرمائے ۔ت)
تو وہ جو زبان سے فرمادے کہ میں نے دیں اوراس فرمانے ہی سے وہ نعمتیں حاصل ہوجائیں قطعاً یقینا وہی کرسکتاہے جس کا ہاتھ اللہ وہاب رب الارباب جل جلالہ کے خزانوں پر پہنچتاہے جسے اس کے رب جل وعلا نے عطا ومنع کا اختیار دیا ہے ، ہاں وہ کون ، ہاں واللہ وہ
محمد رسول اللہ ماذون ومختار حضرۃ اللہ قاسم ومتصر ف خزائن اللہ جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، والحمد للہ رب العالمین ،
لاجرم امام اجل احمد بن حجر مکی رحمہ اللہ تعالٰی کتاب مستطاب جو ہر منظم میں فرماتے ہیں :
ھو صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خلیفۃ اللہ الاعظم الذی جعل خزائن کرمہ وموائد نعمہ طوع یدیہ وتحت ارادتہ یعطی من یشاء ۲۔
وہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اللہ عزوجل کے وہ خلیفہ اعظم ہیں کہ حق جل وعلانے اپنے کرم کے خزانے ، اپنی نعمتوں کے خوان سب ان کے ہاتھوں کے مطیع انکے ارادے کے زیر فرمان کردئے جسے چاہتے ہیں عطافرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
(۲الجوہر المنظم الفصل السادس المکتبۃ القادریۃ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۴۲)
ان مباحث قدسیہ کے جانفزا بیان فقیر کے رسالہ سلطنت المصطفٰی فی ملکوت کل الورٰی میں بکثرت ہیں