Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
127 - 212
حدیث ۹۹:
شاہ صاحب ازالۃ الخفاء میں بحوالہ روایت ابو حذیفہ اسحٰق بن بشر وکتاب مستطاب الریاض النضرہ فی مناقب العشرہ ناقل کہ امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے ایک خطبے میں برسر منبر فرمایا:
کنت مع رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فکنت عبدہ وخادمہ۱؂۔
میں حضور پر نور آقا ومولائے عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں تھاپس میں حضور کا بندہ اورحضور کا خدمتی تھا۔
 (۱؂ کنزالعمال حدیث ۱۴۱۸۴مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۵ /۶۸۱) 

(الریاض النضرہ فی مناقب العشرہ الفصل التاسع دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۲۷۱)
اقول: یہ حدیث ابوحذیفہ مذکور نے فتوح الشام اورحسن بن بشر ان نے اپنی فوائد میں ابن شہاب زہری وغیرہ ائمہ تابعین سے نیز ابن بشران نے امالی، ابو احمد دہقان نے حرز حدیثی ،ابن عساکر نے تاریخ ، لالکائی نے کتاب السنۃ میں افضل التابعین سیدنا سعید بن المسیب بن حزن رضی اللہ عنہم سے روایت کی جب امیرالمومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ خلیفہ ہوئے لوگوں پر ان کے شدت جلال سے عجب ہیبت چھائی یہاں تک کہ لوگوں نے باہر بیٹھنا چھوڑدیا کہ جب تک امیر المومنین کا برتاؤ نہ معلوم ہومتفرق رہو ،لوگ بولے صدیق اکبر کی نرمی اس درجہ تھی کہ مسلمانوں کے بچے جب انہیں دیکھتے دوڑتے ہوئے باپ باپ کہتے انکے پاس جاتے وہ ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے ، اوران کی ہیبت کی یہ حالت ہے کہ مردوں نے اپنی مجالس چھوڑدیں۔جب امیر المومنین کو یہ خبر پہنچی حکم دیا کہ جماعت نماز کے لئے پکار دیں ۔لوگ حاضر ہوئے امیر المومنین منبر پر وہاں بیٹھے جہاں صدیق اکبر اپنے قدم رکھتے تھے اور فرمایا کہ مجھے کافی ہے صدیق کے قدموں کی جگہ بیٹھوں ،جب سب جمع ہولئے امیر المومنین نے منبر اطہر سید ازہر صلی اللہ تعالی علیہ پر کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا حمد وثنا الہی ودرودرسالت پناہی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعدکہا :
یا یھا الناس انی قد علمت انکم کنتم تؤنسون منی شدۃ وغلظۃ وذلک انی کنت مع رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وکنت عبدہ وخادمہ ۔
لوگو !میں جانتا ہوں کہ تم مجھ میں سختی ودرشتی پاتے تھے اور اس کا سبب یہ ہے کہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور میں حضور کا بندہ اور خدمتگار تھا ۔

حضور کی نرمی ورحمت وہ ہے جس کی نظیر نہیں ،اللہ عزوجل نے خود اپنے اسمائے کریمہ سے دونام حضور کو عطا فرمائے رؤف رحیم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ،تو میں حضور کے سامنے شمشیر برہنہ تھا وہ چاہتے مجھے نیام میں فرماتے چاہتے چلنے دیتے ،میں اسی حال پر رہا یہاں تک کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مجھ سے راضی تشریف لے گئے ،اور خدا کا شکر ہے اور میر ی سعادت ،پھر صدیق مسلمانوں کے کام کے والی ہوئے ،ان کی نرمی ورحمت وکرم کی حالت تم سب پر روشن ہے فکنت خادمہ وعونہ میں ان کا خادم اور ان کا سپاہی تھا ۔اپنی شدت ان کی نرمی کے ساتھ لاتا ،ان کے سامنے تیغ عریاں تھا وہ چاہتے نیام میں کرتے خواہ رواں فرماتے ،میں اسی حال پر رہا یہاں تک کہ وہ مجھ سے راضی ہوگئے ،اور خدا کا شکر ہے اور میری سعادت ،اب کہ میں تمھارا والی ہوا ،جان لو کہ وہ شدت دونی ہو گئی درجوں بڑھ گئی ،مگر کس پر ہو گی ۔ان پر جو مسلمانوں پر ظلم وتعدی کریں ،اور دینداروں کے لئے تو میں خود ان کے آپس سے بھی زیادہ نرم ومہربان ہوں ،جسے ظلم وزیادتی کرتے پاؤں گا اسے نہ چھوڑوں گا اس کا ایک گال زمین پر رکھ کر دوسرے گال پر اپنا پاؤں رکھوں گا یہاں تک کہ حق کو قبول کرلے ۔

سعید بن مسیب وابو سلمہ بن عبد الرحمن نے فرمایا :
فوفی عمر واللہ بما قال وکان ابا العیا ل۱؂۔
خدا کی قسم عمر نے جو فرمایا پورا کر دکھایا ،وہ رعیت کے لئے مہربان باپ تھے رضی اللہ تعالی عنہ ۔یہ مختصر ہے ۔ اور بعض کی حدیث بعض میں داخل ہوگئی ہے ۔(ت )
 (۱؂تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۵۳۰۲ عمر بن الخطاب دار احیا التراث العربی بیروت ۴۷/ ۲۱۰،۲۱۱)

(کنز العمال بحوالہ ابن بشیر ان وابی احمد دہقان واللالکائی حدیث ۱۴۱۸۴موسسۃ الرسالۃ بیروت ۵ /۶۸۱تا ۶۸۳)
دیکھو امیر المومنین فاروق اعظم کا سا اشد الناس فی امر اللہ برملا بر سر منبر اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا بندہ بتا رہا ہے اور مجمع عام صحابہ کرام سنتا اور برقرار کھتا ہے ۔
وللہ الحمد ولہ الحجۃ السامیۃ
(تعریف اللہ تعالی کے لئے ہے اور اسی کی حجت بلند ہے ۔ت )امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو بجرم ترویج تراویح جسے اس جناب فاروقیت مآب نے بدعت مان کر اچھا بتا یا اور فرمایا :
نعم البدعۃ ھذہ۲؂۔
یہ بدعت بہت خوب وحسن ہے ۔
 (۲؂صحیح البخاری کتاب الصوم باب فضل من قام رمضان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۶۶۹)
وہابی بیڑے کے بعض احیوٹ بہادر مثل نواب بھوپالی قنوجی وغیرہ صراحۃ معاذ اللہ گمراہ بدعتی لکھ ہی چکے اب اپنے آپ کو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا بندہ ماننے پر شرک کا اطلاق کرتے انھیں کیا لگتا ہے ،

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا لم تستحی فاصنع ما شئت ۱؂۔
جب تو بیحا ہو جائے تو پھر جو چاہے کر ۔(ت )
	 		ع	                    بیحیا باش ہر چہ خواہی کن
بیحیا ہو جاپھر  جو چاہے کر ۔(ت )
 (۱؂المعجم الکبیر حدیث ۶۵۳،۶۵۸،المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۷ /۲۳۶،۲۳۷)
مگر صاحبو ! ذرا سوچ کر کہ شاہ ولی اللہ صاحب کا دامن زیر سنگ خارادبا ہے ۔ ؎

یوں نظر دوڑے نہ ترچھی تان کر 

اپنا بیگانہ ذرا پہچان کر

اے عبید الہوا،اے عبید الدراہم وعبید الدنیا !ا ب بھی عبد النبی ،عبد الرسول ۔عبد المصطفی کو شرک کہنا ۔
ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔
حدیث۱۰۰:
بحمد اللہ ایک سے ایک زائد سنتے جائیے : ایک دن امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ حضرت شہزادہ گلگوں قبا اما م حسین شہید کربلا رضی اللہ تعالی عنہ کو بر سر منبر گود میں لے کر فرمایا :
ھل انبت الشعر علی رؤسنا الا ابوک۔
ہمارے سروں پر بال کس نے اگائے ہوئے ہیں ۔تمھارے ہی باپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اگائے ہوئے ہیں ۔

یعنی جو کچھ عزت ،نعمت ودولت ہے سب حضور ہی کی عطا ہے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
ابن سعد فی الطبقات ۲؂ عن السید الحسین صلی اللہ تعالی علی جدہ وابیہ  وامہ واخیہ وعلیہ وبنیہ  وبارک وسلم ۔
ابن سعد نے طبقات میں سید امام حسین ،اللہ تعالی ان کے جد کریم ،ان کے والد ماجد ،ان کی والدہ ماجدہ ،ان کے بھائی اوران کے بیٹوں پربرکات و سلامتی نازل فرمائے ،سے روایت کیا ۔(ت)
(۲؂الطبقات الکبری لابن سعد )
حدیث ۱۰۱:
کہ ایک بارامیر المومنین حسن مجتبی صلی اللہ تعالی علی جدہ الکریم وعلیہ وسلم نے کا شانہ خلافت فاروقی پر  اذن طلب کیا ابھی اجازت نہ آئی تھی کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے دروازے پر حاضر ہو کر اذن مانگا ،امیر المومنین رضی اللہ تعالی عنہ نے اجازت نہ دی ، یہ حال دیکھ کر سیدنا امام مجتبی رضی اللہ تعالی عنہ بھی واپس آگئے ، امیر المومنین رضی اللہ تعالی عنہ نے انھیں بلا بھیجا ،انھوں نے آکر کہا :یا امیر المومنین ! میں نےخیا ل کیا کہ اپنے صاحبزادے کو تو اذن دیا نہیں مجھے کیوں دیں گے ،فرمایا :
 انت احق بالاذن منہ وھل انبت الشعر فی الراس بعد اللہ الا انتم ۔رواہ الدار قطنی۱؂۔
آپ ان سے زیادہ مستحق اذن ہیں اور یہ بال سر پر اللہ عزوجل کے بعد کس نے اگائے ہیں سوا تمھارے (اس کو دار قطنی نے روایت کیا ۔ت)
(۱؂الدار قطنی )
Flag Counter