Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
126 - 212
حدیث ۹۴:
صحیحین میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے کہ انہوں نے ایک تصویر دار قالین خریدا ، حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باہر سے تشریف لائے دروازے پر رونق افروز رہے اندر قدم کرم نہ رکھا، ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا نے چہرہ انور میں اثر ناراضی پایا(اللہ انہیں ناراض نہ کرے دونوں جہان میں) عرض کرنے لگیں:
یا رسول اللہ اتوب الی اللہ والی رسولہٖ ماذا اذنبت۱؂۔
یارسول اللہ !میں اللہ اوراللہ کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں مجھ سے کیا خطا ہوئی ۔
 (۱؂صحیح البخاری کتاب اللباس باب من کرہ القعود علی الصور قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۸۱)

(صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۱)

(مسند امام احمد عن عائشہ صدیقۃ رضی اللہ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۲۴۶)

(مصنف عبدالرزاق باب التماثیل وماجاء فیہ حدیث ۱۹۴۸۴ المجلس العلمی بیروت ۱۰ /۳۹۸)
حدیث ۹۵:
چالیس صحابہ کرام رضی ا للہ تعالٰی عنہم باہم بیٹھے مسئلہ قدر وجبر میں بحث کرنے لگے ان میں صدیق وفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہمابھی تھے روح امین جبریل علیہ السلام نے خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی : یارسول اللہ !حضور اپنی امت کے پاس تشریف لے جائیں کہ انہوں نے نئی راہ نکالی۔ حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایسے وقت باہرتشریف لائے کہ وہ وقت حضور کی تشریف آوری کا نہ تھا صحابہ سمجھے کوئی نئی بات ہے ۔ آگے حدیث کے پیارے پیارے الفاظ دلکش ودلنواز   یُوں ہیں :
وخرج علیھم ملتمعاً لونہ متوردۃ وجنتاہ کانما نفقأبحب الرمان الخامض فنھضوا الی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حاسرین اذرعھم ترعد اکفہم واذرعہم فقالواتبنا الی اللہ ورسولہٖ الحدیث ۔الطبرانی ۱؂ فی الکبیر عن ثوبان رضی ا للہ تعالٰی عنہ مولٰی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
یعنی حضور پرنورصلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ ان پر اس حالت میں برآمد ہوئے کہ رنگ چہرہ اقدس کا(شدت جلال سے ) دہک رہا ہے ، دونوں رخسارہ مبارک گلاب کی طرح سرخ ہیں گویا انار ترش کے دانے پھوٹ نکلے ہیں،صحابہ کرام یہ دیکھتے ہی حضور کی طرف (عاجزی کے ساتھ )کلائیاں کھولے ہاتھ تھرتھراتے کانپتے کھڑے ہوئے اورعرض کی کہ ہم اللہ ورسول کی طرف توبہ کرتے ہیں۔ (طبرانی نے کبیر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؂المعجم الکبیر عن ثوبان رضی اللہ عنہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت   ۲ /۹۵و۹۶)
ان احادیث سے ثابت کہ صدیقہ وصدیق وفاروق وغیرہم اکتالیس صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے توبہ کرنے میں اللہ قابل التوب جل جلالہ کے نام پاک کے ساتھ اس کے نائب اکبر نبی التوبہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک بھی ملایا اورحضور پرنور خلیفۃ اللہ الاعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے قبول فرمایا حالانکہ توبہ بھی اصل حق حضرت عزت عزجلالہ کا ہے ۔ ولہذا حدیث میں ہے ایک قیدی گرفتار کر کے خدمت اقد س حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں لایاگیا وہ بولا :
اللھم انی اتوب الیک ولا اتوب الی محمد۔
الہٰی ! میری توبہ تیری طرف ہے ، نہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف۔

حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
عرف الحق لاھلہٖ ۔احمد۲؂ والحاکم وصححہ وروٰی عن الاسود بن سریع رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
حق کو حق والے کےلئے پہچان لیا۔احمد وحاکم نے اسے روایت کیا اوراس کی تصحیح کی اوراس کو اسود بن سریع سے روایت کیا۔(ت)
 (۲؂مسند احمد بن حنبل حدیث اسود بن سریع رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۳۵) 

(کنزالعمال حدیث ۸۷۲۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۳/ ۷۷۶) 

(کنزالعمال حدیث ۱۱۶۱۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴ /۵۴۶) 

(کشف الخفاء حدیث ۱۷۲۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۵۵)
حدیث ۹۶:
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے جب ان کی توبہ قبول ہوئی انہوں نے مولا ئے دو جہاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی :
یارسول اللہ ان من توبتی ان انخلع من مالی صدقۃ الی اللہ والی رسولہٖ ۱؂صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
یارسول اللہ میری توبہ کی تمامی یہ ہے کہ میں اپنے سارے مال سے نکل جاؤں اللہ اوراللہ کے رسول کے لیے صدقہ کر کے ۔ جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
(۱؂صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ ۱/ ۱۹۲   وکتاب الوصایا۱ /۳۸۶       وکتاب المغازی ۲ /۶۳۶) 

(صحیح مسلم     کتاب التوبۃ     باب حدیث توبہ         قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۶۰) 

(سنن ابی داود کتاب الایمان والنذرباب من نذران یتصدق بما لہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۱۱۴) 

(سنن النسائی کتاب الایمان باب اذا ھدی مالہ علی وجہ النذر نور محمد کارخانہ کراچی     ۲ /۱۴۷) 

(السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الزکوٰۃ ۴ /۱۸۱  وکتاب السیر ۹ /۳۵ وکتا ب الایمان ۱۰ /۶۸ دارصادر بیروت ) 

( مسند امام احمد حدیث کعب بن مالک رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۵۴،۴۵۶،۴۵۹) 

(المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب المغازی حدیث ۳۶۹۹۶دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۷ /۴۲۵)
ارشادالساری شرح صحیح بخاری میں ہے :
ای صدقۃ خالصۃ للہ ولرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فالٰی بمعنی اللام۲؂۔
یعنی اس حدیث میں اللہ ورسول کی طرف صدقہ کرنے کے معنی اللہ ورسول کے لیے تصدق ہیں، تو حاصل یہ کہ اپنا سارا مال خاص خدا اوررسول کے نام پر تصدق کردوں تبارک وتعالٰی وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔چنانچہ اس میں الی بمعنی لام ہے ۔(ت)
(۲؂ارشادالساری شرح صحیح البخاری کتاب المغازی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۹ /۳۹۲ )
حدیث ۹۷:
یمن کی ایک بی بی اوران کی بیٹی بارگاہ بیکس پناہ محبوب الہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضرہوئیں ، دختر کے ہاتھ میں بھاری بھاری کنگن سونے کے تھے ، مولی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : تعطین زکوٰۃ ھذا اس کی زکوٰۃ دے گی۔ عرض کی : نہ ۔فرمایا : ایسرک ان یسورک اللہ بھما یوم القیٰمۃ سوار ین من نار ٍ ۔کیا تجھے یہ بھاتا ہے کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن انکے بدلے تجھے آگ کے دو کنگن پہنائے ؟ان بی بی نے فوراً وہ کنگن اتار کر ڈال دئے اور عرض کی  :
  ھما للہ ورسولہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔احمد ۱؂ وابوداؤد والنسائی عن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما بسند لامقالہ فیہ۔
یا رسول اللہ ! یہ دونوں اللہ اوراللہ کے رسول کے لیے ہیں جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔(احمد وابوداود ونسائی نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما سے بسند''اس میں کلام نہیں ''روایت کیا ۔ت)
(۱؂ سنن ابی داود کتاب الزکوٰۃ باب الکنز ما ھو وزکوٰۃ الحلی آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۱۸) 

(سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الحلی نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۳۴۳)

( مسند امام احمد عن عبداللہ بن عمرو  المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۱۷۸و ۲۰۴ و ۲۰۸) 

( مسند امام احمد عن اسماء بنت یزید   المکتب الاسلامی بیروت ۶/۴۶۱)
حدیث ۹۸:
کہ جب حضرت ابولبابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی توبہ قبول ہوئی انہوں نے خدمت اقدس حضورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی :
یارسول اللہ انی اھجردارقومی التی اصبت بھا الذنب وانخلع من مالی صدقۃ الی اللہ والی رسولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
یارسول اللہ! میں اپنی قوم کا محلہ جس میں مجھ سے خطا سرزد ہوئی چھوڑتاہوں اوراپنے مال سے اللہ ورسول کے نام پر تصدق کر کے باہر آتاہوں جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابولبابہ! تہائی مال کافی ہے ۔ انہوں نے ثلث مال اللہ ورسول کے لئے صدقہ کردیا عزجلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
الطبرانی فی الکبیر وابو نعیم عن ابن شہاب ن الزھری عن الحسین بن السائب بن ابی لبابۃ عن ابیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ قال لما تاب اللہ علی جئت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقلت فذکرہ۱؂۔
طبرانی نے کبیر میں اورابو نعیم نےابن شہاب زہری سے انہوں نے حسین بن سائب بن ابولبابہ سے بحوالہ اپنے باپ کے روایت کیاوہ فرماتے ہیں جب اللہ تعالٰی نے میری توبہ قبو ل فرمائی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: پھر پوری حدیث ذکر کی۔ (ت)
 (۱؂المعجم الکبیر عن ابی لبابۃ حدیث ۴۵۰۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۵ /۳۳) 

(کنزالعمال بحوالہ طب وابی نعیم عن الزہری حدیث ۱۷۰۳۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۹۱) 

(کنزالعمال بحوالہ طب وابی نعیم عن الزہری حدیث۴۶۱۰۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۶۲۴)
یہ حدیثیں جان وہابیت پر صریح آفت ہیں کہ تصدق کر نے میں اللہ عزوجل کے ساتھ اللہ کے محبو ب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاک ملایا جاتا اورحضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مقبو ل رکھتے ہیں،
وللہ الحجۃ البالغۃ ۔
اسی قبیل سے ہے افضل الاولیاء المحمدیین سیدنا صدیق اکبرامام المشاہدین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عرض کہ حضرت مولانا العارف باللہ القوی ، مولوی قدس سرہ المعنوی نے مثنوی شریف میں نقل کی کہ جب حضرت صدیق عتیق سیدنا بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کو آزاد کر کے حاضر بارگاہ عالم پناہ ہوئے ؎

گفت مادو بندگان کوئے تو

کردمش آزاد ہم بررُوئے تو۲؂
 (۲؂مثنوی معنوی معاتبہ کردن حضرت رسول باصدیق الخ دفتر ششم نورانی کتب خانہ پشاور ص۲۹)
 (صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا ہم دونوں آپ کی بارگاہ کے غلام ہیں میں نے آپ کی خاطر اسکوآزاد کردیا  ہے۔)

اورپہلے مصرع میں جو کچھ حضرت صدیق اکبر اپنے مالک ومولٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کر رہے ہیں اس پر تو دیکھا چاہئے ،وہابیت کا جن کتنا مچلے، نجدیت کی آگ کہاں تک اچھلے ، مگر ہاں امیر المومنین غیظ المنافقین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا درہ سیاست دکھایا چاہئے کہ بھوت بھاگے ، اورشاہ ولی اللہ صاحب کے پانی کا چھینٹا دیجئے کہ آگ دبے ، وہ کہاں ؟ وہ اس حدیث آئندہ میں، وباللہ التوفیق ۔
Flag Counter