عبداللہ بن سلامہ بن عمیر اسلمی صحابی ابن صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں :
تزوجت ابنۃ سراقۃ ابن حارثۃ النجاری وقتل ببدرفلم اصب شیاء من الدنیا کان احب الی من نکاحھا واصدقتھا مائتی درھم فلم اجد شیئ اسوقہ الیھا فقلت علی اللہ ورسولہ المعوّل فجئت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فاخبرتہ الحدیث۔
میں نے سراقہ بن حارثہ نجاری شہید غزوہ بدر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی صاحبزادی سے نکاح کیا دنیا کی کوئی چیز میں نے ایسی نہ پائی جو انکے ساتھ شادی ہونے سے مجھے زیادہ پیاری ہو میں نے دو سو روپے ان کا مہر کیا تھا اور پاس کچھ نہ تھا جو انہیں بھیجوں ، میں نے کہا اللہ اوراللہ کے رسول ہی پر بھروسہ ہے ، پس میں خدمت انور حضور پر نورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوا اورحال عرض کیا۔
حضور نے ایک جہاد پر انہیں بھیجا اور فرمایا :
ارجوا ان یغنیک اللہ مھرز وجتک۔
میں امید کرتاہوں کہ اللہ عزوجل تمہیں اتنی غنیمت دلادے گا کہ اپنی بیوی کا مہر اداکردو۔
ایسا ہی ہوا ،
وللہ الحمد۔
الامام الثقۃ محمد بن عمرواقد ۲عن ابی حدردوھوابن سلامۃ المذکور رضی اللہ تعالٰی عنہما بسندہٖ الیہ وقد علی توثیقہ الامام المحقق علی الاطلاق فی الفتح وذکرنا فی منیر العین۔
امام ثقہ محمد بن عمر واقدنے ابی حدردجوسلامہ مذکوررضی اللہ تعالٰی عنہما سے اس پر انکی سند سے روایت کیا، اورامام محقق علی الاطلاق نے فتح میں اس کی توثیق فرمائی اورہم نے اسے (اپنے رسالے ) منیر العین میں بیان کیا۔(ت)
حدیث ۹۲و۹۳:
غزوہ خیبر شریف میں خیبر کو جاتے وقت حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور میں رجزپڑھتے چلے ؎
(۱) اللھم لولاانت مااھتدینا
ولا تصدقنا ولا صلینا
(۲) فاغفرفداءً لک ماابقینا
والقین سکینۃ علینا
(۳) وثبت الاقدام ان لاقینا
ونحن عن فضلک ما استغنینا
(۱) خداگواہ ہے یا رسول اللہ!اگر حضور نہ ہوتے تو ہم ہدایت نہ پاتے ، نہ زکوٰۃ دیتے نہ نماز پڑھتے ۔
(۲) تو بخش دیجئے ہم حضور پر قربان جو گناہ ہمارے رہ گئے ہیں اورہم پرحضور سکینہ اتاریں۔
(۳) اورجب ہم دشمنوں سے مقابل ہوں تو حضور ہمیں ثابت قدم رکھیں ہم حضور کے فضل سے بے نیاز نہیں،صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
یہ حدیث صحیح بخار ی ۱ وصحیح مسلم وسنن ابی داودوسنن نسائی ومسند احمدوغیرہا میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بطرق عدیدہ ہے اورپچھلامصرعہ زیادات صحیح مسلم وامام احمد سے ہے۔
رواہ من طریق ایاس بن سلمۃ عن ابیہ سلمۃ بن الاکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
ایاس بن سلمہ کے طریق پر ان کے والد سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
(۱صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۶۰۳)
(صحیح مسلم ، کتاب الجہاد والسیر باب غزوہ خیبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۱)
(سنن النسائی کتاب الجہاد والسیر باب من قاتل فی سبیل اللہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۶۰)
(مسند احمد بن حنبل عن سلمۃ بن الاکوع المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۵۰)
ہم حدیث صحیح بخاری مع شرح امام احمد قسطلانی مسمّٰی بہ ارشاد الساری کے الفاظ کریمہ مختصر ذکر کریں :
(عن یزید بن ابی عبید عن سلمۃ بن الاکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ قال خرجنا مع النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الی خیبر فسرنا لیلاً فقال رجل من القوم) ھو اسید بن حضیر رضی ا للہ تعالٰی عنہ(لعامر یاعامر الاتسمعنا من ھنیہاتک ) وعند ابن اسحٰق من حدیث نصربن دھر ن الاسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ انہ سمع رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یقول فی مسیرہٖ الی خیبر لعامر بن الاکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ انزل یاابن الاکوع فاحد لنا من ھنیھا تک ففیہ انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ھو الذی امرہ بذٰلک وکان عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ رجلا شاعراً فنزل یحدوبالقوم یقول ؎
اللھم لو لا انت ماأھتدینا
ولاتصدقنا ولاصلینا
فاغفر فداء لک ، المخاطب بذٰلک النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ای اغفرلنا تقصیرنا فی حقک ونصرک اذ لایتصور ان یقال مثل ھٰذا الکلام للباری تعالٰی وقولہ اللھم لم یقصد بھا الدعاء وانما افتتح بھا الکلام (ماابقینا) ای ماخلّفنا وراءنا من الاٰثام (والقین)ای او سل ربک ان یلقین (سکینۃ علینا٭وثبت الاقدام) ای وان یثبت الاقدام (ان لاقینا)العدو(فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ھذا السائق قالوا عامر بن الاکوع قال یرحمہ اللہ ) وعند احمد من روایۃ ایاس بن سلمۃ فقال غفرلک ربک قال وما استغفررسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لانسان یخصہ الا استشھد قال رجل من القوم ھو عمر بن الخطاب رضی ا للہ تعالٰی عنہ کما فی مسلم (وجبت)لہ الشھادۃ بدعائک لہ (یانبی اللہ لو لا امتعتنابہ) ابقیتہ لنا لنتمتع بہ۱ ۔
یعنی یزید بن ابو عبید اپنے مولٰی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ہمراہ رکاب اقدس خیبر کوچلے ، رات کا سفر تھا ، حاضرین سے ایک صاحب حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ کے چچاحضرت عامر بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہا: اے عامر !ہمیں کچھ اشعار اپنے نہیں سناتے ، اورابن اسحق نے نصر بن دہراسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یوں روایت کیاکہ میں نے سفر خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو عامر بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرماتے سنا ''اے ابن اکوع !''اترکر کچھ اپنے اشعار ہمارے لئے شروع کرو۔اس روایت سے معلوم ہوا کہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں اس امر کا امر فرمایا۔ عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ شاعر تھے اترے اورقوم کے سامنے یوں حد ی خوانی کرتے چلے کہ :یارب !اگر حضور نہ ہوتے ہم راہ نہ پاتے نہ زکوٰۃ ونماز بجالاتے ۔
ہم حضور پر بلاگرداں (ف) ہوں ہمارے جو گناہ باقی رہے ہیں بخش دیجئے ۔ان اشعار میں مخاطب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں یعنی حضو ر کے حقوق حضور کی مدد میں جو قصور ہم سے ہوئے حضورمعاف فرمادیں ۔ حضور کےلئے خطاب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ عزوجل سے ایسا خطاب کرنا معقول نہیں (ائمہ فرماتے ہیں کہ کسی پر فداہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس پر اگرکوئی بلاء یا تکلیف آتی تو وہ اپنے اوپر لے لی جائے اس کی محافظت میں اپنی جان دے دی جائے تو اللہ عزوجل کو اس کلام کا مخاطب کیونکر بناسکتے ہیں) رہا یہ کہ ابتداء میں اللھم ہے اس سے مقصودحضرت عزت جل جلالہ کو پکارنا نہیں (کہ یہ اللہ عزوجل سے عرض قرارپائے ) بلکہ اس کے نام سے ابتدائے کلام ہے اورحضور ہم پرسکینہ اتاریں مقابلہ دشمن کے وقت اورہمیں ثابت قدم رکھیں یعنی اپنے رب جل وعلاسے ان مراعات کی دعا فرمادیں ۔یہ اشعار سن کر حضو راقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون اونٹوں کو رواں کرتاہے ؟ صحابہ نے عرض کی : عامر بن اکوع۔ حضور نے فرمایا : اللہ اس پر رحمت کرے۔ اورمسنداحمد (وصحیح مسلم) میں بروایت ایاس بن سلمہ (اپنے والد ماجد سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے) ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے (عامررضی اللہ تعالٰی عنہ سے ) فرمایا: تیرا ر ب تیری مغفرت فرمائے اورحضور (ایسی جگہ ) جب کسی خاص شخص کا نام لے کر دعائے مغفرت فرماتے تھے وہ شہید ہوجاتاتھا (لہذا )حاضرین میں سے ایک صاحب یعنی امیرالمومنین عمر رضی ا للہ تعالٰی عنہ جیساکہ صحیح مسلم میں تصریح ہے عرض کی : یارسول !حضور کی دعاسے عامر کےلئے شہادت واجب ہوگئی حضور نے ہمیں ان سے نفع کیوں نہ لینے دیا یعنی حضور انہیں ابھی زندہ رکھتے کہ ہم ان سے بہر ہ مند ہوتے ۔انتہٰی ۔
ف: قربان ہونے والا، دوسرے کی بلااپنے اوپر لینے والا)
(۱ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب المغازی حدیث ۴۱۹۶دارالکتب العلمیۃ بیروت ۹/ ۲۱۴تا۲۱۶)
یہ پچھلے لفظ بھی یاد رکھنے کے قابل ہیں کہ ''حضور انہیں زندہ رکھتے''۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔یہ حدیث ابن اسحٰق نے اس سند سے روایت کی :
حدثنی محمد بن ابراھیم بن الحارث عن ابی الھیشم بن نصر بن دھرن الاسلمی ان اباہ حدثہ انہ سمع رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یقول فی مسیرہ الی خیبر لعامر بن الاکوع فذکرہ ۲۔
بیان کیا مجھ سے محمد بن ابراہیم بن الحارث نے انہوں نے ابی الہیشم بن نصر بن دہراسلمی سے کہ انکے والد نے سفر خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو عامر بن اکوع کو یہ فرماتے ہوئے سناتو اس کا ذکر کردیا۔(ت)
فقال عمر بن الخطّاب رضی اللہ تعالٰی عنہ وجبت واللہ یارسول اللہ لوامتعتنا بہٖ، فقتل یوم خیبر شہیدًا۳۔
امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی خدا کی قسم شہادت واجب ہوگئی ، یا رسول اللہ!کاش حضور ہمیں ان کی زندگی سے بہرہ یاب رکھتے ۔ وہ روز خیبر شہید ہوئے رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
نیز امام ا حمد نے مسند میں بطریق ابن اسحٰق روایت فرمائی:
حدثنا یعقوب ثنا ابی عن ابن اسحٰق ثنا محمد بن ابراہیم بن الحارث التیمی الحدیث ۴سنداً و متناً بید انہ اقتصرعلی الاشعار ولم یذکر دعاء النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ولا قول عمررضی اللہ تعالٰی عنہ وفیہ فاحد لنا مکان قولہٖ فخذلنا ولعل ھذا ھو الاصوب واللہ تعالٰی اعلم۔
ہمیں حدیث بیان کی یعقوب نے کہ ہمیں میرے باپ نے بحوالہ ابن اسحاق حدیث بیان کی کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی نے سند ومتن مذکور کے ساتھ حدیث بیان کی سوائے اس کے کہ انہوں نے صرف اشعار پرا کتفاء کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی دعا مبارک اورحضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول مبارک ذکر نہیں کیا۔ اور اس روایت میں ''فخذلنا''کی جگہ لفظ''فاحدلنا''ہے۔شاید یہی زیادہ درست ہے واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۴مسند احمد بن حنبل حدیث نصر بن دہر رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۳۱)