| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
اس حدیث صحیح کے تیور دیکھئے ، حیا ہو تو وہابیت کو ڈوب مرنے کی بھی جگہ نہیں، یہ حدیث تو خدا جانے بیماردلوں پر کیا کیا قیامتیں توڑے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی دُہائی دینا ہی ان کے دہائی مچانے کو بہت تھی نہ کہ وہ بھی یوں کہ سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ تعالٰی عنہ خود فرماتے ہیں وہ اللہ عزوجل کی دہائی دیتارہا میں نے نہ چھوڑا جب نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی دہائی دی فوراً چھوڑ دیا۔
علماء فرماتے ہیں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی دہائی سن کرحضور کی عظمت دل پرچھائی ہاتھ روک لیا۔ اقول: (میں کہتاہوں ۔ت)یعنی پہلی بات ایک معمول ہوجانے سے ایسی موثر نہ ہوئی ، انسان کا قاعدہ ہے کہ جس بات کا محاورہ کم ہوتاہے اس کا اثر زیادہ پڑتا ہے ورنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اللہ عزوجل کی عظمت سے ناشی ہے ۔ بحمداللہ حدیث کے یہ معنی ہیں اگرچہ وہابیہ کے طور پر تو اس کا درجہ شرک سے بھی کچھ آگے بڑھا ہواہے۔
حدیث ۸۹:
یہی مضمون عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں امام حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا:
قال بینا رجل یضرب غلامالہ، وھو یقول اعوذباللہ اذبصربرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقال اعوذبرسول اللہ فالقٰی ماکان فی یدہٖ وخلٰی عن العبد فقال النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اما واللہ انہ احق ان یعاذ من استعاذبہ منی فقال الرجل یارسول اللہ فھو حر لوجہ اللہ۱ ۔
یعنی ایک صاحب اپنے غلام کو مار رہے تھے اوروہ کہہ رہا تھاکہ اللہ کی دُہائی ۔ اتنے میں غلام نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تشریف لاتے دیکھا اب کہا رسول اللہ کی دہائی ۔ فوراً اس صاحب نے کوڑا ہاتھ سے ڈال دیا اورغلام کو چھوڑدیا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : سنتا ہے خدا کی قسم بیشک اللہ عزوجل مجھ سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی دُہائی دینے والے کو پناہ دی جائے ۔ ان صاحب نے عرض کی: یا رسول الہ !تو وہ اللہ کے لیے آزاد ہے ۔
(۱الدرالمنثور بحوالہ عبدالرزاق عن الحسن تحت الآیۃ ۴ /۳۶ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۰۲) (کنز العمال بحوالہ عب عن الحسن حدیث ۲۵۶۷۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۲۰۳)
اقول: الحمدللہ اس حدیث نے تو اوربھی پانی سر سے تیرکردیا،صاف تصریح فرمادی کہ حضو ر اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے غلام کی دونوں دُہائیاں بھی سنیں اورپہلی دہائی پر ان کا نہ رکنا اوردوسری پرفورا باز رہنا بھی ملاحظہ فرمایا مگر افسوس کہ وہابیت کی ذلت ومردودیت کو نہ تو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس غلام سے فرماتے یہں کہ تو مشرک ہوگیا اللہ کے سو امیری دہائی دیتاہے اوروہ بھی کس طرح کہ اللہ عزوجل کی دہائی چھوڑ کر نہ آقا سے ارشاد کرتے ہیں کہ یہ کیسا شرک اکبر ، خدا کی دہائی کی وہ بے پرواہی اورمیری دہائی پر یہ نظر ، ایک تو میری دہائی ماننی اور وہ بھی یوں کہ خدا کی دہائی نہ مان کر افسوس آقا وغلام کو مشرک بنانا درکنار خود جو اس پرنصیحت فرماتے ہیں وہ کس مزے کی بات ہے کہ اللہ مجھ سے زیادہ اس کا مستحق ہے ، دہائی تو اپنی بھی قائم رکھی اوراپنی دہائی دینے پرنہ دینی بھی ثابت رکھی ، صرف اتنا ارشاد ہوا کہ خدا کی دہائی زیادہ ماننے کے قابل تھی ۔ الحمدللہ کہ اللہ کے سچے رسول صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم نے دینوہابیہ کے جھوٹے قرآن تقویۃ الایمان کی کچھ قدر نہ فرمائی اسے سخت ذلت پہنچائی جس میں اس کا امام لکھتاہے :
''اول معنی شرک وتوحید کے سمجھنا چاہیے اکثر لوگ پیروں پیغمبروں کو مشکل کے وقت پکارتے ہیں، ان سےمادیں مانگتے ہیں ، کوئی اپنے بیٹے کا نام عبدالنبی رکھتاہے کوئی علی بخش کوئی غلا م محی الدین، کوئی مشکل کے وقت کسی کی دہائی دیتاہے ، غرض کہ جو کچھ ہندو اپنے بتوں سے کرتے ہیں وہ سب کچھ یہ جھوٹے مسلمان اولیاء و انبیاء سے کر گزرتے ہیں اوردعویٰ مسلمانی کا کئے جاتے ہیں۔سچ فرمایا اللہ صاحب نے کہ نہیں مسلمان ہیں اکثر لوگ مگر کہ شرک کرتے ہیں ۱۔ ''اھ مختصراً
(۱تقویۃ الایمان پہلا باب توحید وشرک کے بیان میں مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص ۴)
ان دافع البلاء کے منکروں سے بھی اتنا پوچھ لیجئے کہ کسی کی پناہ یعنی اس کی دہائی دینی دفع بلا ہی کے لیے ہوتی ہے یا کچھ اور ۔
ولٰکن الوھابیۃ قوم یعتدون۔
(اورقوم وہابیہ حدسے بڑھنے والی ہے ۔ت)
حدیث ۹۰:
ابن ماجہ حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
قال کنا جلو سا عند رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اذ اقبل بعیر تعدوا حتی وقف علی ھامۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایھا البیعر اسکن فان تک صادقاً فلک صدقک وان تک کاذباًفعلیک کذبک مع ان اللہ تعالٰی قد امن عائذنا ولیس بخائب لائذنا فقلنا یارسول اللہ مایقول ھذا البعیر، فقال ھذا بعیر ھم اھلہ بنحرہ واکل لحمہ فھرب منھم واستغاث بنیکم بینا نحن کذٰلک اذ ا قبل صاحبہ او قال اصحابہ یتعادون فلما نظر الیھم البعیرعاد الی ھامّۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاذبھا فقالوا یا رسول اللہ ھذا بعیرناھرب منذثلاثۃ ایام فلم نلقہ الا بین یدیک، فقال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اما انہ یشکوا لی فبئست الشکایۃ۔ فقالو یارسول اللہ ما یقول ؟قال یقول انہ ربی فی امنکم احوالا وکنتم تحملون علیہ فی الصیف الی مواجع الکلاء فاذا کان الشتاء رحلتم الی موضع الدفاء فلما کبر استفخلتم فرزقکم اللہ ابلاًسائماًفلما ادرکتہ ھذہ السنۃ الخصبۃ ھممتم بذبحہ واکل لحمہٖ۔ فقالو ا واللہ کان ذٰلک یارسول اللہ۔ فقال صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم ماھذا جزاء المملوک الصالح من موالیہ ۔ فقالوا یارسول اللہ فانا لانبیعہ ولا ننحرہ۔ فقال صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم کذبتم قد استغاث بکم فلم تغیثوہ وانا اولی بالرحمۃ منکم فان اللہ نزع الرحمۃ من قلوب المنافقین واسکنھا فی قلوب المؤمنین ۔ فاشتراہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم منھم بمائۃ درھم وقال یٰایھا البعیر!ا نطلق فانت حر لوجہ اللہ تعالٰی۔ فرغیٰ علی ھامۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فقال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اٰمین۔ ثم رغیٰ فقال اٰمین ۔ ثم رغٰی الرابعۃ فبکی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ فقلنا یارسول اللہ ما یقول ھذا البعیر؟قال قال جزاک اللہ ایھا النبی عن الاسلام والقراٰن خیراً۔، فقلت اٰمین ۔ثم قال سکن اللہ رعب امتک یوم القیٰمۃ کما سکنت رعبی فقلت اٰمین ۔ ثم قال حقن اللہ دماء امتک من اعدائھا کما حقنت دمی فقلت اٰمین۔ ثم قال لاجعل اللہ باس امتک بینھا فبکیت فان ھذہ الخصال سألت ربی فاعطانیھا ومنعنی ھذہٖ واخبرنی جبریل علیہ السلام عن اللہ عز وجل ان فناء امتی بالسیف جری القلم بما ھو کائن ۔ کذا اوردہ عازیا لہ الامام الحافظ ذکی الدین عبدالعظیم المنذر ی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فی کتاب الترغیب والترہیب ۱۔
یعنی ہم خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوئے ناگاہ ایک اونٹ دوڑتا آیا یہاں تک کہ حضور کے سر مبارک کے قریب آکر کھڑا ہوا، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : اے اونٹ !ٹھہراگر تو سچا ہے تو تیرے سچ کا پھل تیرے لیے ہے اورجھوٹا ہے تو تیرے جھوٹ کا وبال تجھ پر ہے ، اس کے ساتھ یہ بات بیشک کہ جو ہماری پناہ میں آئے اللہ تعالٰی نے اس کے لیے امان رکھی ہے اور جو ہمارے حضو رالتجا لائے وہ نامرادی سے بری ہے ۔ صحابہ نے عرض کی : یارسول اللہ!یہ اونٹ کیا عرض کرتاہے ؟فرمایا : اس کے مالکوں نے اسے حلا ل کر کے کھالینا چاہا تھا یہ ان کے پاس سے بھاگ آیا اور تمہارے نبی کے حضور فریاد لایا۔ ہم یوں ہی بیٹھے تھے کہ اتنے میں اس کا مالک یاکہا اس کے مالک دوڑتے آئے ، اونٹ نے جب انہیں دیکھا پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سرانور کے پاس آگیا اور حضور کی پناہ پکڑی ، اس کے مالکوں نے عرض کی : یا رسول اللہ!ہمارااونٹ تین دن سے بھاگا ہوا ہے آج حضور کے پاس ملا ہے ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : سنتے ہو اس نے میرے حضور نالش کی ہے اوربہت ہی بری نالش ہے ۔ وہ بولے : یا رسول اللہ!یہ کیا کہتاہے ؟فرمایا : یہ کہتا ہے کہ وہ برسوں تمہاری امان میں پلا گرمی میں اس پر اسباب لادکر سبزہ ملنے کی جگہ تک جاتے اورجاڑے میں گرم مقام تک کوچ کرتے ، جب وہ بڑا ہوا تو تم نے اسے سانڈبنالیا اللہ تعالی نے اس کے نطفے سے تمہارے بہت اونٹ کردیے جو چرتے پھرتے ہیں، اب جو اسے یہ شاداب برس آیا تم نے اسے ذبح کرکے کھا لینا چاہا ۔وہ بولے :یا رسول اللہ !خداکی قسم !یونہی ہوا ۔حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا نیک مملوک کا بدلہ اس کے مالکوں کی طرف سے یہ نہیں ہے ۔وہ بولے:یا رسول اللہ !تو ہم اسے نہ بیچیں گے نہ ذبح کریں گے ۔فرمایا :غلط کہتے ہو اس نے تم سے فریاد کی تو تم اس کی فریاد کو نہ پہنچے اور میں تم سے زیادہ اس کا مستحق ولائق ہوں کہ فریادی پر رحم فرماؤں اللہ عزوجل نے منافقوں کے دلوں سے رحمت نکال لی اور ایمان والوں کے دلوں میں رکھی ہے ،پس حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے وہ اونٹ ان سے سو روپے کو خرید لیا اور اس سے ارشاد فرمایا :اے اونٹ ! چلا جا کہ تو اللہ عزوجل کے لئے آزاد ہے ۔یہ سن کر اس نے سر اقدس پر اپنی بولی میں کچھ آواز کی۔حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے آمین کہی ۔اس نے دوبارہ آواز کی حضور نے پھر آمین کہی ۔اس نے سہ بارہ عرض کی حضور نے پھر آمین کہی اس نے چوتھی بار کچھ آواز کی اس پر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے گریہ فرمایا ۔ صحابہ نے عرض کی :یا رسول اللہ !یہ کیا کہتا ہے ؟فرمایا :اس نے کہا اے نبی اللہ !اللہ عزوجل حضور کو اسلام و قران کی طرف سے بہتر جزا عطا فرمائے میں نے کہا آمین ،پھر اس نے کہا اللہ تعالی قیامت کے دن حضور کی امت سے خوف دور کرے جس طرح حضور نے میر خوف دور کیا میں نے کہا آمین ۔پھر اس نے کہا اللہ جل وعلا حضور کی امت کے خون ان کے دشمنوں کے ہاتھوں سے محفوظ رکھے( کہ کفار کبھی انہیں استیصال نہ کر سکیں )جیسا حضور نے میرا خون بچایا ،میں نے کہا آمین پھر اس نے کہا اللہ سبحانہ امت والا کی سختی انکے آپس میں نہ رکھے (باہمی خونریزی سے دور رہیں )،اس پر میں نے گریہ فرمایا کہ یہ سب مرادیں میں اپنے رب عزوجل سے مانگ چکا اور اس نے مجھے عطا فرما دیں مگر یہ پچھلی منع فرمائی اور مجھے جبرائیل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے اللہ عزوجل کی طرف سے خبر کر دی کہ میری امت کی فنا تلوار سے ہے ۔قلم چل چکا شدنی پر ۔یوں ہی کتاب الترغیب والترھیب میں امام حافظ ذکی الدین عبد العظیم مندزی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے وارد ہے ۔(ت)
(۱الترغیب والترھیب الترغیب فی الشفقۃ علی خلق اللہ تعالٰی مصطفی البابی مصر ۳ /۸۔۲۰۷)
فقیر نے اس رسالہ میں بنظر اختصار اکثر احادیث کا خلا صہ لکھا یا صرف محل استدلال پر اقتصار کیا ۔یہ حدیث نفیس کہ ایک اعلی اعلام نبوت ومعجزات جلیل حضرت رسالت علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والتحیہ سے تھی بتمامہ ذکر کرنی مناسب سمجھی ،یہاں موضع استناد وہ پیاری پیاری اسناد ہے کہ جوہماری پناہ لے اللہ عزوجل اسے پناہ دیتاہے اور جوہم سے التجا کرے نامراد نہیں رہتا ۔الحمد للہ رب العالمین اور خدا جانے دافع البلا کس شے کا نام ہے ۔