حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کی فریاد سن کر شکایت رفع فرما دی ۔
الامام احمد حدثنا محمد بن ابی بکر ن المقدمی ثنا ابو معشرن البّراء ثنی صدقۃ بن طیسلۃ ثنی معن بن ثعلبۃ المازنی والحی بعد ثنی الاعشی المازنی رضی اللہ تعالی عنہ قال اتیت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فانشدتہ یا مالک الناس ودیان العرب الحدیث۱ورواہ الامام الاجل ابو جعفرن الطحاوی فی معانی الآثار حدثنا ابن ابی داود ثنا المقدمی ثنا ابو معشرالی اخرہ نحوہ سندا۲و متناً ورواہ ابن عبداللہ ابن الامام فی زوائد مسندہٖ من طریق عوف بن کھمس بن الحسن عن صدقۃ بن طیسلۃ حدثنی معن بن ثعلبۃ المازنی والحی بعدہ قالو ا ثنا الاعشیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ فذکرہ ۳ قلت والیہ اعنی عبداللہ عزاہ حافظ الشان فی الاصابۃ۴۔ انہ رواہ فی الزوائد والعبدالضعیف غفراللہ تعالٰی لہ قدرواہ فی المسند نفسہ ایضاکما سمعت وللہ الحمد ورواہ البغوی وابن السکن وابن ابی عاصم کلھم من طریق الجنبد بن امین بن عروۃ بن نضلۃ بن طریق بن بھصل الحرمازی عن ابیہ عن جدہٖ نضلۃ ولفط البغوی عنہ حدثنی ابی امین حدثنی ابی ذروۃ عن ابی نضلۃ عن رجل منھم یقال لہ الاعشی واسمہ عبداللہ بن الاعوررضی اللہ تعالٰی عنہ فذکر القصۃ وفیہ فخرج حتی اتی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فعادبہ وانشأیقول یا مالک الناس ودیان العرب الحدیث۵۔
(۱مسند احمد بن حنبل المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۰۱)
(مجمع الزوائد کتاب النکاح باب النشوز دارالکتاب بیروت ۴ /۲۳۱)
(۲شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب روایۃ الشعر الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۴۱۰)
(۳ زوائد عبداللہ بن احمد کتاب الادب باب ماجاء فی الشعر حدیث۱۲۸ دارالبشائر الاسلامیۃ بیروت ص۳۲۳)
(۴الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ترجمہ ۴۵۳۳ عبداللہ بن الاعور دارالفکر بیروت ۳ /۱۵۲)
(۵الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ بحوالہ البغوی ترجمہ ۸۷۱۴ نضلۃ بن طریف دارالفکر بیروت ۵ /۳۳۷)
یہ حدیث جلیل اتنے ائمہ کبار نے باسانید متعددہ روایت کی اورطریق اخیر میں یہ لفظ ہیں کہ :
اعشی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پناہ لی اورعرض کی کہ : اے مالک آدمیاں ، واے جز اوسزا دہ عرب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وبارک وسلم۔
حارث بن عوف مزنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حاضر خدمت ہوکر عرض کی :
ابعث معی من یدعو الی دینک فانالہ جار۔
میرے ساتھ کسی شخص کو حضور ارسال فرمائیں جو میری قوم کو حضور کے دین کی طرف دعوت کرے اوروہ میری پناہ میں ہوگا۔
حضو راقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ساتھ کر دیا حارث رضی ا للہ تعالٰی عنہ کے کنبے والوں نے عہد شکنی کر کے انہیں شہید کردیا ۔ حسان بن ثابت رضی ا للہ تعالٰی عنہ نے اس بارے میں اشعار کہے ازانجملہ یہ شعر ؎
یاحارث من یغدر بذمۃ جارہ
منکم فان محمداً لایغدر
اے حارث ! جو کوئی تم میں اپنے پناہ دئے ہوئے کے عہد سے بے وفائی کرے تو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جسے پناہ دیتے ہیں وہ سچی پناہ ہوتی ہے۔
فجاء الحارث فاعتذر و ودی الانصاری وقال یا محمد انی عائذبک من لسان حسانٍ ۔الزبیر بن بکارٍ حدثنی عمی مصعب ان الحارث بن عوف اتی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱فذکرہ ۔
حارث رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حاضر ہوکر عذر کیا اور انصاری شہید کی دیت دی اورحضور سے عرض کی یارسول اللہ ! میں حضور کی پناہ مانگتاہوں حسان کی زبان سے ۔ زبیر بن بکار نے کہا مجھے میرے چچا مصعب نے حدیث بیان کی کہ حارث بن عوف رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوکر پھر پوری حدیث بیان کی۔(ت)
(۱الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ بحوالہ الزبیر ترجمہ ۱۴۵۷ الحارث بن عوف دارالفکر بیروت ۱ /۴۳۰)
صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :
انہ کان یضرب غلامہ فجعل یقول اعوذباللہ قال فجعل یضربہ فقال اعوذبرسول اللہ ، فترکہ فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم واللہ اقدرعلیک منک علیہ قال فاعتقہ ۱۔
یعنی وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے ، غلام نے کہنا شروع کیا، اللہ کی دہائی ، اللہ کی دُہائی ۔انہوں نے ہاتھ نہ روکا۔غلام نے کہا : رسول اللہ کی دہائی ۔ فوراً چھوڑدیا ۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : خدا کی قسم ! بے شک اللہ تجھ پر اس سے زیادہ قادرہے جتنا تو اس غلام پر۔ انہوں نے غلام کو آزاد کردیا۔
(۱صحیح مسلم کتاب الایمان باب صحۃ الممالیک قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۵۲)