کہ جب جعرانہ کے اموال غنیمت حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسم نے قریش و دیگر اقوام عرب کوعطا فرمائے اور انصار کرام نے اس میں سے کوئی شے نہ پائی انھی (اس خیال سے کہ شاید حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ہم پر اب وہ نظر توجہ وکرم نہ رہی شاید اب اپنی قوم قریش کی طرف زیادہ التفات فرمائیں بمقتضائے سنت عشاق کہ دوسروں پر لطف محبوب زائد دیکھ کر رنجیدہ وکبیدہ ہوتے ہیں ) ملال گزرا یہاں تک بعض کی زبان پر بعض کلمات شکایت آمیز آئے حضور اقدس نے سنا ،خاطر انور پر ناگوار گزرا ،انھیں جمع کرکے ارشاد فرمایا :
الم اجدکم ضلالا فھداکم اللہ الم اجدکم عالۃ فاغناکم اللہ۱۔
کیا میں نے تمھیں نہ پایا گمراہ پس اللہ عزوجل نے تمھیں راہ دکھائی ،کیا میں نے تمھیں نہ پایا محتاج پس اللہ عزوجل نے تمھیں تو نگری دی ۔
اور صحیح بخاری وصحیح مسلم ومسند امام احمد میں یوں ہے:
یا معشر الانصار الم اجد کم ضلا لا فھداکم اللہ بی ، وکنتم متفرقین فالفکم اللہ بی ،وکنتم عالۃ فاغناکم اللہ تعالی بی ۔ رواہ عن عبد اللہ بن زید بن عاصم۲و نحوہ لاحمد عن انس ۳ ولہ ولعبد بن حمید والضیاء عن ابی سعید ۴رضی اللہ تعالی عنہم ۔
اے گروہ انصار !کیا میں نے نہ پایاتمہیں گمراہ پس اللہ عزوجل نے تمہیں میرے ذریعے سے ہدایت کی ، اورتمہارے آپس میں پھوٹ تھی اللہ تعالٰی نے میرے وسیلے سے تم میں موافقت کردی، اورتم محتاج تھے اللہ عزوجل نے میرے واسطے سے تمہیں تونگری بخشی (عبداللہ بن زید بن عاصم سے اسے روایت کیا گیا اوراسی طرح احمد نے حضرت انس سے نیز احمد ، عبدبن حمید اورضیاء نے ابو سعید خدری سے روایت کیا رضی اللہ تعالٰی عنہم۔(ت)
(۲صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الطائف قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶۰)
(صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب اعطاء الموئفۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۹)
(مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۲)
(۳مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۴و۲۵۳)
(۴کنزالعمال بحوالہ حم وعبدبن حمید عن ابی سعید الخدری حدیث ۳۳۷۶۴مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۷)
انصار کرام ہر کلمے پر عرض کرتے جاتے تھے :
نعوذ باللہ من غضب اللہ ومن غضب رسولہ ۔
ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ کے غضب اور رسول اللہ کے غضب سے جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
الاتجیبون
جواب کیوں نہیں دیتے ؟
انصار نے عرض کی :
اللہ ورسولہ امن وافضل ۔
اللہ ورسول کا احسان زائد ہے اور اللہ ورسول کا فضل بڑا ہے ۔
حضور نے فرمایا : تم چاہو تو جواب دے سکتے ہو ۔
انصار کرام روئے اور باربار عرض کرنے لگے :
اللہ ورسولہ امن وافضل ۔
اللہ ورسول کا احسان زائد ہے اوراللہ ورسول کا فضل بڑاہے ۔
ابوبکر بن ابی شیبہ ۱فی مصنفہ عن ابی سعید ن الخدری رضی اللہ تعالی عنہ ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
موتان الارض للہ ورسولہ البیھقی ۲فی الشعب عن ا بن عباس رضی اللہ تعالی عنھما موصولاً ۔
جو زمین کسی کی ملک نہیں وہ اللہ اور اللہ کے رسول کی ہے بیہقی نے شعب میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مو صولا روایت کیا ۔(ت)
(۲السنن الکبری للبیہقی کتاب احیاء الموات باب لایترک ذمی یحییہ الخ دارصادر بیروت ۶ /۱۴۳)
حدیث ۸۴:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم:
عادی الارض من اللہ ورسولہ ھو فیھا عن طاؤس ۱مرسلا ۔
قدیم زمینیں اللہ ورسول کی ملک ہیں ۔اسی میں طاؤس سے مرسلا مروی ہے ۔(ت )
(۱السنن الکبری للبیہقی کتاب احیاء الموات باب لا یترک ذمی یحییہ الخ دار صادر بیروت ۶ /۱۴۳)
اقول: بن ،جنگل ،پہاڑوں اور شہرو ں کی ملک افتادہ زمینوں کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ ان پر ظاہری ملک بھی کسی کی نہیں یہ ہر طرح خالص ملک خدا ورسول ہیں جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ورنہ محلوں ،احاطوں ،گھروں ،مکانوں کی زمینیں بھی سب اللہ ورسول کی ملک ہیں اگرچہ ظاہری نام من وتو کا لگا ہوا ہے ۔زبور شریف سے رب العزت کا نام سن ہی چکے کہ احمد مالک ہوا ساری زمین اور تمام امتوں کی گردنوں کا۲، صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
(۲تحفہ اثنا عشریہ باب ششم در بحث نبوت وایمان انبیاء سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹)
تو یہ تخصیص مکانی ایسی ہے جیسے آیہ کریمہ
والامر یومئذ للہ ۳
میں تخصیص زمانی کہ حکم اس دن اللہ کے لئے ہے ،حالانکہ ہمیشہ اللہ ہی کا ہے ۔مگر وہ دن روز ظہور حقیقت وانقطاع ادعا ہے ۔
(۳القران الکریم ۸۲ /۱۹)
لا جرم صحیح بخاری شریف کی حدیث نے ساری زمین بلا تخصیص اللہ ورسول کی ملک بتائی وہ کہاں ؟ وہ اس حدیث آئندہ میں :
حدیث ۸۵ :
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
اعلمو ا ان الارض للہ ولرسولہ البخاری ۴فی الجہاد من الجامع الصحیح باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ ۔
یقین جان لو کہ زمین کے مالک اللہ ورسول ہیں جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔امام بخاری نے الجامع الصحیح میں کتاب الجہاد باب یہود کا جزیر ۃ العرب سے اخراج میں حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔(ت)
(۴صحیح البخاری کتاب الجہاد باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۹)
(صحیح مسلم باب اجلاء الیہود من جزیرۃ العرب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۴)