کہ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے روز حنین زنان وصبیان بنی ہوازن کو اسیر فرمایا اوراموال وغلام وکنیز مجاہدین پر تقسیم فرمادئے اب سرداران قبیلہ اپنے اہل وعیال واموال حضور( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) سے مانگنے کو حاضر ہوئے زُہیر بن صرد جشمی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی :
(۱) امنن علینا رسول اللہ فی کرم
فانک المرء نرجوہ ونذخر
(۲) امنن علٰی بیضۃٍ قد عاقھا قدر
فشتت شملھا فی دھرھا غیر
(۳) ابقت لنا الدھرھنا فاعلی حزَنٍ
علی قلوبھم الغماء والغمر
(۴) ان لم تدارکھم نعماء تنشرھاً
یا ارجح الناس حلماً حین یختبر
(۱) یارسول اللہ ! ہم پر احسان فرمائیے اپنے کرم سے ، حضور ہی وہ مرد کامل وجامع فواضل ومحاسن وشمائل ہیں جس سے ہم امید کریں اورجسے وقت مصیبت کےلئے ذخیرہ بنائیں۔
(۲) احسان فرمائیے اس خاندان پر کہ تقدیر جس کے آڑے آئی اس کی جماعت تتّربتّرہوگئی اس کے وقت کی حالتیں بدل گئیں ۔
(۳) یہ بدحالیاں ہمیشہ کےلئے ہم میں غم کے وہ مرثیہ خواں باقی رکھیں گی جن کے دلوں پر رنج وغیظ مستولی ہوگا۔
(۴) اورحضور کی نعمتیں جنہیں حضور نے عام فرمادیا ہے ان کی مدد کو نہ پہنچیں تو ان کا کہیں ٹھکانہ نہیں اے تمام جہان سے زیادہ عقل والے !(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ واصحابہ وسلم )
قال فلما سمع النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ھذا الشعر قال ماکان لی ولبنی عبدالمطلب فھو لکم وقالت قریش ماکان لنا فھوللہ ولرسولہ وقالت الانصار ماکان لنا فھو للہ ورسولہٖ۔الطبرانی فی ثلاثیات معجمہ الصغیر حدثنا عبید اللہ ابن رماحس القیسیّ برمادۃ الرمالۃ سنۃ اربع وسبعین ومائتین ثنا ابو عمرو زیاد بن طارق وکان قد اتت علیہ عشرون ومائۃ سنۃ قال سمعت ابا جَروَلٍ زھیر بن صردن الجشمی ۱ یقول فذکرہ ۔
یہ اشعار سن کر سید ارحم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میرے اوربنی عبدالمطلب کے حصے میں آیاوہ میں نے تمہیں بخش دیا ۔ قریش نے عرض کی جو کچھ ہمارا ہے وہ سب اللہ کا ہے اوراس کے رسول کا ہے ۔ انصار نے عرض کی جو کچھ ہمارا ہے وہ سب اللہ کا ہے اوراس کے رسول کا ہے جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ طبرانی نے معجم صغیر کی ثلاثیات میں کہا کہ ہمیں ۲۷۴ھ میں رمادہ رملہ پر عبید اللہ بن رماحس قیسی نے حدیث بیان کی ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو عمرو زیاد بن طارق نے جن کی عمر ۱۲۰سال ہوئی انہوں نے کہا کہ میں نے ابو جرول زہیر بن صُرد جشمی کو کہتے ہوئے سنا ، پھر انہوں نے اس کو ذکر کیا۔ (ت)
( ۱ المعجم الکبیر عن زہیر بن صردالجشمی حدیث ۵۳۰۳المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۵/ ۷۰ و ۲۶۹)
(المعجم الصغیر من اسمہ عبید اللہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۳۷ ۔ ۲۳۶)
(المعجم الاوسط حدیث ۴۶۶۷ مکتبۃ المعارف ریاض ۵ /۱۹ ۔ ۳۱۸)
حدیث ۸۰:
کہ اسود بن مسعود ثقفی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی : ؎
انت الرسول الذی ترجیٰ فواضلُہ
عندالقحوط اذا ما اخطاء المطرُ
حضور وہ رسول ہیں کہ حضور کے فضل کی امید کی جاتی ہے قحط کے وقت جب مینہ خطاکرے ۔
عمر بن شیبۃ من طریق عامر ن الشعبی ذکرہ الحافظ فی الاصابۃ وقال ذکرہ ابن فتحون فی الذیل۲۔
(عمر بن شیبہ نے بطریق عامر الشعبی سے روایت کیا ، حافظ نے الاصابہ میں اس کا ذکر کیا اورفرمایا اس کا ذکر ابن فتحون نے ذیل میں کیا۔ ت)
(۱) اتیناک والعذراء یدمی لبابھا
وقد شغلت اممٍ الصبی عن الطفل
(۲) والقت بکفیہا الفتیٰ لاستکانۃٍ
من الجوع ضعفالایمر ولا یحلی
(۳) ولیس لنا الا الیک فرارُنا
واین قرار الخلق الا الی الرسل
(۱) ہم در دولت پر شدت قحط کی ایسی حالت میں حاضر ہوئے کہ جو کنواری لڑکیاں ہیں (جنہیں ان کے والدین بہت عزیز رکھتے ہیں ناداری کے باعث خادمہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے کام کاج کرتے کرتے ان کے سینے شق ہوگئے) ان کی چھاتیوں سے خون بہہ رہا ہے مائیں بچوں کو بھول گئی ہیں۔
(۲) جوان قوی کو اگرکوئی لڑکی دونوں ہاتھوں سے دھکا دے تو ضعف گرسنگی سے عاجزانہ زمین پر ایسا گرپڑتا ہے کہ منہ سے کڑوی میٹھی بات نہیں نکلتی ۔
(۳) اورہمارا حضور کے سوا کون ہے جس کے پاس مصیبت میں بھاگ کر جائیں ، اورخود مخلو ق کو جائے پناہ ہے ہی کہاں مگر رسولوں کی بارگاہ میں۔صلی اللہ تعالٰی علیھم وبارک وسلم۔
یہ فریاد سن کر حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بنہایت عجلت منبراطہر پر جلوہ فرما ہوئے اوردونوں دست مبارک بلند فرما کر اپنے رب عزوجل سے پانی مانگا ، ابھی وہ پاک مبارک ہاتھ جھک کر گلوئے پرنور تک نہ آئے تھے کہ آسمان اپنی بجلیوں کے ساتھ اُمڈا اوربیرون شہر کے لوگ فریاد کرتے آئے کہ یارسول اللہ ! ہم ڈوبے جاتے ہیں۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : حوالینا لاعلینا ہمارے گردبرس ہم پرنہ برس۔ فوراً ابر مدینے پر سے کھل گیا ، آس پا س گھرا تھا اورمدینہ طیبہ سے کھلاہوا ۔ یہ ملاحظہ فرما کر حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خندہ دنداں نما کیا اورفرمایا : اللہ کے لیے ہے خوبی ابو طالب کی ، اس وقت وہ زندہ ہوتا تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں ، کون ہے جو ہمیں اس کے اشعار سنائے ۔
مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شاید حضور یہ اشعار سننا چاہتے ہیں جو ابو طالب نے نعت اقدس میں عرض کئے تھے :
(۱) وابیض یستسقی الغمام بوجھہ
ثمال الیتامی عصمۃ للارامل
(۲) تلوذبہ الھلاک من ال ھاشم
فھم عندہ فی نعمۃ وفواضل
(۱) وہ گورے رنگ والے کہ ان کے منہ کے صدقے میں ابر کا پانی مانگا جاتا ہے ۔یتیموں کے جائے پناہ ،بیواؤ ں کے نگہبان ۔
(۲) بنی ہاشم (جیسے غیور لوگ ) تباہی کے وقت ان کی پناہ میں آتے ہیں انکے پاس ان کی نعمت وفضل میں بسر کرتے ہیں ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
اجل ذلک اردتُّ ۔
ہاں یہی نظم ہمیں مقصود تھی ۔
صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وسقانا بجاھہ عندہ الغیث النافع الاتم الاعم امین !
اللہ تعالی آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور ہمیں آپ کے طفیل باران رحمت عطا فرمائے جو نافع کامل ترین اور سب کو شامل ہو آمین (ت)
البیھقی۱فی الدلائل بسند صالح کما افادہ حافظ الشان العسقلانی والدیلمی فی مسند الفردوس کلامھما عن انس رضی اللہ تعالی عنہ ۔
بیہقی نے دلائل میں بسند صالح روایت کیا جیسا کہ حافظ الشان عسقلانی نے اور دیلمی نے مسند الفردوس میں اس کا افادہ فرمایا ان دونوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔ت
(۱دلائل النبوۃ للبیھقی باب استسقاء النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الخ دارالکتب العلمیہ بیروت۶ /۱۴۱)
(فتح الباری شرح صحیح البخاری باب سوال الناس الامام الاستسقاء ۳ /۴۲۹)
یہ حدیث نفیس بحمد اللہ تعالی اول تاآخر شفائے مومنین وشقائے منافقین ہے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پسندیدہ فرمودہ اشعار میں یہ الفاظ خاص ہمارے مقصود رسالہ ہیں کہ حضور کے سواہمارا کوئی نہیں جس کے پاس مصیبت میں بھاگ کرجائیں۔خلق کیلئے جائے پناہ نہیں سو ا بارگاہ انبیاء علیہم الصلوۃ والثنا ء کے ، وہ گورے رنگ والا پیارا جس کے چاند سے منہ کے صدقے میں مینہ اترتا ہے ،وہ یتیموں کا حافظ ،وہ بیواؤں کا نگہبان ،وہ ملجاوماوا کہ بڑے بڑے تباہی کے وقت اسکی پناہ میں آکر اس کی نعمت اس کے فضل سے چین کرتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وبارک وسلم ۔