Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
120 - 212
فصل دوم احادیث منیفہ میں
تین وصل پر مشتمل :
وصل اول :
اعظم واجل محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف جانفزا اسناد میں جن سے ایمان کی جان میں جان آئے ایمان کی آنکھ نور و ایقان پائے ، وباللہ التوفیق ۔
حدیث ۷۱:
بخاری شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے جب ابن جمیل نے زکوٰۃ دینے میں کمی کی سید عالم مغنی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
 ماینقم ابن جمیلٍ الا انّہ کان فقیراً فاغناہ اللہ ورسولہ ۱؂۔
ابن جمیل کو کیا بُرا لگا یہی نا کہ وہ محتاج تھا اللہ ورسول نے اسے غنی کردیا ،
جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
 (۱؂صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب قول اللہ تعالٰی وفی الرقاب والغارمین قدیمی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۹۸)
حدیث ۷۲:
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
اللہ ورسولہ مولٰی من لا مولی لہ۔ الترمذی وحسنہ وابن ماجۃ عن امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۲؂۔
جس کا کوئی نگہبان نہ ہو اللہ ورسو ل اس کے نگہبان ہیں (اسے ترمذی نے روایت کیا اوراسے حسن کہا، اورابن ماجہ نے امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ت)
(۲؂سنن الترمذی باب ماجاء فی میراث الخال حدیث ۲۱۱۰دارالفکر بیروت ۴ /۳۳)

(سنن ابن ماجۃ ابواب الزکوٰۃ باب ذوی الارحام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۱)
علامہ مناوی تیسیر میں اس کی شرح میں فرماتے ہیں :
ای حافظ من لاحافظ لہ۳؂۔
یعنی ارشاد حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس کا کوئی حافظ نہیں اللہ ورسول اس کے حافظ ہیں۔
 (۳؂التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث اللہ ورسولہ مولٰی من لا مولی لہ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۲۰۶)
حدیث ۷۳:
کہ جب سیدنا حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت ہوئی حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انکے یہاں تشریف لے گئے اوران کے یتیم بچوں کو خدمت اقدس میں یاد فرمایا وہ حاضر ہوئے حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ تعالٰی عنہما اسے بیان کر کے فرماتے ہیں :
فجاء ت امنا فذکر ت یتیمنا فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم العیلۃ تخافین علیھم وانا ولیھم فی الدنیا والاٰخرۃ۔ احمد والطبرانی  ۱؂ وابن عساکرٍرضی اللہ تعالٰی عنہ۔
میری ماں نے حاضر ہوکر حضور پناہ بیکساں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہماری یتیمی کی شکایت عرض کی ، حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کیا ان پر محتاجی کا اندیشہ کرتی ہے حالانکہ میں ان کاولی وکارساز ہوں دنیا وآخرت میں ۔ (امام احمد اورطبرانی اورابن عساکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے روایت کیا۔ت)
؎ غم نخورد آنکہ حفیظش توئی 

والی ومولٰی و ولیش  توئی
 (وہ غم نہیں کھاتا جس کا محافظ ، والی ، آقا اور ولی تو ہے ۔ت)
(۱؂مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن جعفرالمکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۰۴و۲۰۵)

(تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۳۳۰۳عبداللہ بن جعفر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۹ /۱۷۳و۱۷۴)
حدیث ۷۴:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
حب ابی بکرٍوعمرمن الایمان وبغضہما کفر وحب الانصار من الایمان وبغضھم کفر وحب العرب من الایمان وبغضھم کفر، ومن سب اصحابی فعلیہ لعنۃ اللہ ، ومن حفظنی فیھم فانا احفظہ یوم القیٰمۃ ۔ ابن عساکر ۲؂عن جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔وللہ الحمد
محبت ابوبکر وعمر کی ایمان سے ہے اوران کا بغض کُفر ، اورمحبت انصار کی ایمان سے ہے اوران کا بغض کفر، اورمحبت عرب کی ایمان سے ہے اوران کا بُغض کفر ، اورمیرے اصحاب کو جو براکہے اس پر اللہ کی لعنت ، اورجو ان کے معاملہ میں میرا لحاظ رکھے میں روز قیامت اس کا حافظ ونگہبان ہوں گا(ابن عساکر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ ت)
(۲؂تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۵۳۰۲ عمر بن الخطاب داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۷ /۱۸۱)
حدیث ۷۵و۷۶:
دنیا کی ظاہر ی زینت وحلاوت اورمال حلال کما کر اچھی جگہ خرچ کرنے کی خوبی اورحرام کما کر بری جگہ اٹھانے کی برائی بیان فرما کر ارشاد فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  :
ورب متخوضٍ فیما شا ءت نفسہ من مال اللہ ورسولہٖ لیس لہ  یوم القیٰمۃ الا النار۔ احمد ۱؂والترمذی وقال حسن صحیح عن خولۃ بنت قیس والبیھقی فی الشعب عن ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہم۔
اوربہت اللہ اوررسول کے مال سے اپنے نفس کی خواہشوں میں ڈوبنے والے ہیں جن کے لیے قیامت میں نہیں مگر آگ۔(احمد اورترمذی نے خولہ بنت قیس سے روایت کیا اوراس کو حسن صحیح کہا اوربیہقی نے شعب میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ۔ ت)
(۱؂مسند احمد بن حنبل عن خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت   ۶ /۳۷۸)

 (سنن الترمذی کتاب الزہد باب ماجاء فی اخذ المال حدیث ۲۳۸۱دارالفکر بیروت۴ /۱۶۶)

(شعب الایمان حدیث ۵۵۲۷دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۳۹۶و۳۹۷)
حدیث ۷۷:
جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
مانفعنی مال قطّ مانفعنی مال ابی بکر
مجھے کسی مال نے وہ نفع نہ دیا جو ابو بکر کے مال نے دیا۔ صدیق اکبر روئے اورعرض کی :
ھل انا ومالی الالک یا رسول اللہ
میری جان ومال کا مالک حضور کے سواکون ہے یارسول اللہ۔
احمد۲؂فی مسندہ بسند صحیح عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
احمد نے اپنی مسند میں بسند صحیح ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
 (۲؂مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۵۳)
حدیث ۷۸:
آیہ کریمہ :
قل لااسئلکم علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربٰی ۳؂۔
(۳؂القرآن الکریم ۴۲ /۲۳)
تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔(ت) کے اسباب نزول میں مروی انصار کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور عاجزی کرتے ہوئے گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے اورعرض کی :
اموالنا وما فی ایدینا للہ ورسولہ۔ ابناء جریر ۱؂ و ابی حاتم ومردویۃ عن مقسم عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
ہمارے مال اورہمارے ہاتھوں میں جو کچھ ہے سب اللہ ورسول کا ہے ۔ (جریر کے بیٹوں اور ابی حاتم اورمردویہ نے مقسم سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت )
( ۱؂  جامع البیان (تفسیر طبری )تحت الآیۃ ۴۲ /۲۳  داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۵ /۳۲)

(تفسیر ابن ابی حاتم تحت الآیۃ ۴۲/ ۲۳  مکتبہ نزار مصطفی البازمکۃ المکرمۃ ۱۰ /۳۲۷۶)

(الدرالمنثور بحوالہ ابن جریروابن ابی حاتم وابن مردویہ ۴۲ /۲۳  داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۲۹۹)
Flag Counter