| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
(۴) مصحف کریم میں والدٍ، والدین ، والدیہ ، والدیک ، والدی، والدۃ ، والدتی ، والدتک سب بالف بعد واؤ مرسوم ہیں۔ اوریہی مقتضائے قاعدہ فاعل ہے حتی کہ والدات بآنکہ جمع مونث سالم ہے ، حذف الف میں مختلف فیہ ہے ۔ والدٰان میں حذف الف تثنیہ توحسب قاعدہ مطردہ ضرور ہے ، حذف اول کی کوئی وجہ ظاہر نہیں اورعبارت خلاصۃ الرسوم اس نسخہ سقیمہ میں یوں مرسوم ''الولدان ہردو بحذف الف تثنیہ مکتوب است بعد از واو ودال ہمہ جا''عبارت نے تو یہ حذف الف تثنیہ بتایا ہے اورہر دو سے مراد دونوں لفظ الولدٰن کہ ا س آیۃ کریمہ میں واقع ہیں اوربعد از واو الف تثنیہ کے کوئی معنی نہیں ۔ ظاہرا لفظ واؤ زیادت قلم ناسخ سے ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (۵) فعالٰی کا قاعدہ مرتع سے گزرا اوربعینہ یہی تخصص موضعین حج مفاد مقنع ہے ۔ محذوفات نافع بیان کر کے فرماتے ہیں :
فھذا جمیع ما فی روایۃ عبداللہ بن عیسٰی عن قالون عن نافع مما حذفت منہ الالف الرسم وحدثنا ابوالحسن بن غلبون قرأہ منی علیہ حدثنا ابی حدثنا محمد ابن جعفرحدثنا اسمٰعیل ابن اسحٰق القاضی القالون عن نافع بعامۃ ھذہ الحروف وزادفی الکہف
فلا تصٰحبنی
وفی الحج
سکری وما ھم بسکری
۱ الخ۔
(۱ المقنع فی رسم المصحف)
یہ سب عبداللہ بن عیسٰی کی روایت قالون سے ہے ۔ اورانہوں نے نافع سے روایت کی جہاں جہاں سے رسم میں الف محذوف ہوا ابوالحسن ابن غلبون نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں ان پر پڑھ رہا تھا انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے ان سے محمد ابن جعفر نے ان سے اسمٰعیل بن اسحٰق قاضی نے انہوں نے قالون سے اورانہوں نے امام نافع سے یہ سب روایت کی ۔ اورسورہ کہف میں فلاتصٰحبنی اورحج میں سکری وما ھم بسکری کا اضافہ کیا۔ اوروہ واضح الوجہ ہے کہ حرفین حج کو امام حمزہ اورامام کسائی نے سکرٰی بروزن سَلْمٰی پڑھا ہے بخلاف حرف نساء کہ قراء ت سبعہ میں بالاتفاق سکٰرٰی بروزن فُعالٰی ہے تو قول مرتع ہی اوضح اوراوجہ ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۶) مصاحف ہند نے اتباع ''خلاصۃ الرسوم''کیا مگر کلام الامام امام الکلام ولا اقل دونوں مجوز ہوں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (۷) تیسیر میں ھود ومعارج کے خزی یومئذ۲ اور عذاب یومئذ۳ میں فتح میم کو نافع اورکسائی کی طرف نسبت فرمایا اوراسی طرح دیگر ائمہ نے تصریح فرمائی ۔
(۲ القرآن الکریم ۱۱ /۶۶) (۳القرآن الکریم ۷۰ /۱۱)
تیسیر میں ہے :
نافع والکسائی ومن خزی یومئذ وفی المعارج من عذاب یومئذ ببنیہ بفتح المیم والباقون بکسرھا۴۔
نافع اورکسائی نے من خزی یومئذ اورسورہ معارج میں من عذاب یومئذ ببنیہ کو میم کے فتحہ کے ساتھ اورباقیوں نے کسرہ کے ساتھ پڑھا۔
(۴ التیسیرفی قواعد علم التفسیرللامام محمد بن سلیمان)
شاطبیہ میں ہے :
ویومئذ مع سال فافتح (ا) تی (ر) ضا وفی النمل (حصن)قبلہ النون (ث) ملا۵۔
یومئذکو اس سورۃ اورسورۃ معارج میں فتح میم سے پڑ ھ کہ وہ وہ پسندیدہ ہوکر آیا ہے اورسورۃ نمل میں فتح میم کوفیین اور نافع کیلئے ایک قلعہ ہے اوراس لفظ سے پہلے نون تنوین نے فتح کو سنواردیا۔
(۵ حرزالامانی ووجہ التہانی سورہ ہود مصطفی البابی الحلبی مصر ص۶۲)
شرح میں ہے :
امر بفتح المیم فی قولہ تعالٰی ومن خزی یومئذ ومن عذاب یومئذ ببنیہ فی المعارج المشار الیھما بالھمزۃ والراء فی قولہ اتی رضا وھما نافع والکسائی ۔ ثم اخبر ان المشارالیھم بحصن وھم الکوفیون ونافع قرأوا بالنمل وھم من فزع یومئذ یومئذ فتعین لمن لم یذکرہ فی الترجمتین القراء ۃ بکسر اما اصلہ وھو علی الحقیقۃ الخفض فی المواضع۱ ۔الخ
اللہ تعالٰی کے قول من خزی یومئذ او رمن عذاب یومئذ ببینہ میں جو سورہ معارج میں ہے میم کے فتحہ کا حکم دیا اورہمزہ اور راء سے مصنف کے قول ''اتی رضا ''میں نافع اورکسائی کی طرف اشارہ ہے ۔ پھر یہ بتایا کہ لفظ حصن سے کوفیوں اورنافع کی طرف اشارہ ہے ۔ ان لوگوں نے سورہ نمل کے من فزع یومئذ کو یومئذ پڑھا۔ تو یہ ثابت ہوگئی کہ دونوں ترجموں میں جن لوگوں کا ذکر نہیں ہے وہ اصل حقیقی پر تینوں جگہ مکسور پڑھتے ہیں ۔
(۱ سراج القاری لعلی بن عثمان المعروف بابن القاصع )
غیث النفع میں ہے :
خزی یومئذ قرأنا فع وعلی بفتح المیم والباقون بالکسر۲۔
خزی یومئذ کو نافع اور علی نے بفتح میم اورباقی قراء نے بالکسر پڑھا۔
(۲ غیث النفع )
بعینہ اسی طرح اس کی سورۃ سأل میں ہے ان اجلہ اکابر کی تصریحات جلیلہ پر اعتماد لازم ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔