Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
119 - 212
حدیث ۶۹:
حافظ ابو سعید عبدالملک بن عثمان کتاب شرف النبوۃ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا کان یوم القیٰمۃ وجمع اللہ الاولین والاٰخرین یؤتی بمنبرین من نور فینصب احدھما عن یمین العرش والاٰخر عن یسارہٖ ویعلوھما شخصان فینادی الذی عن یمین العرش معاشر الخلائق من عرفنی فقد عرفنی ومن لم یعرفنی فانا رضوان خازن الجنۃ ان اللہ امرنی ان اسلم مفاتیح الجنۃ الی محمد وان محمدا امرنی ان اسلّمھا الی ابی بکر وعمر لیدخلا محبیھما الجنۃ الا فاشھدوا ثم ینادی الذی عن یسار العرش معشر الخلائق من عرفنی فقد عرفنی ومن لم یعرفنی فانا مالک خازن النار ان اللہ امرنی ان اسلم مفاتیح النار الی محمد ومحمد امرنی ان اسلمھا الی ابی بکر وعمرلیدخلا مبغضیھما النار الا فاشھدوا۱؂۔او ردہ ایضاً فی الباب السابع من کتاب الاحادیث الغررفی فضل الشیخین ابی بکرٍوعمر من کتاب الاکتفاء ۔
روز قیامت اللہ تعالٰی سب اگلوں پچھلوں کو جمع فرمائے گا دو منبر نور کے لاکر عرش کے داہنے بائیں بچھائے جائیں گے ان پر دو شخص چڑھیں گے ، داہنے والا پکارے گا : اے جماعات مخلوق! جس نے مجھے پہچانا اس نے پہچانا اورجس نے نہ پہچانا تو میں رضوان داروغہ بہشت ہوں مجھے اللہ عزوجل نے حکم دیا کہ جنت کی کنجیاں محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سپردکروں اورمحمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابوبکر وعمر (رضی اللہ تعالٰی عنہما)کو دوں کہ وہ اپنے دوستوں کو جنت میں داخل کریں۔ سنتے ہوگواہ ہوجاؤ۔ پھر بائیں والا پکارے گا : اے جماعات مخلوق! جس نے مجھے پہچانااس نے پہچانا اورجس نے نہ پہچانا تو میں مالک داروغہ دوزخ ہوں مجھے اللہ عزوجل نے حکم دیا کہ دوزخ کی کنجیاں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سپرد کروں اور محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابوبکر وعمر (رضی اللہ تعالٰی عنہما)کو دوں کہ وہ اپنے دشمنوں کو جہنم میں داخل کریں ، سنتے ہو گواہ ہوجاؤ ۔ (اس کو بھی کتاب الاکتفاء میں کتاب الاحادیث الغررفی فضل الشیخین ابی بکر وعمر میں باب ہفتم میں بیان کیا۔ ت)
(۱؂مناحل الشفاء ومناھل الصفاء بتحقیق شرف المصطفی حدیث ۲۳۸۸دارالبشائر الاسلامیہ بیروت ۵ /۴۱۹و۴۲۰)
یہی معنی ہیں اس حدیث کے کہ ابو بکر شافعی نے غیلانیات میں روایت کی :
ینادٰی یوم القیٰمۃ این اصحاب محمدٍ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ،فیؤتیٰ بالخلفاء رضی اللہ تعالٰی عنہم فیقول اللہ لھم ادخلوا من شئتم الجنۃ ودعوا من شئتم اوماھو بمعناہ ذکرہ العلامۃ الشھاب الخفّاجی فی نسیم الریاض ۲؂شرح شفاء الامام القاضی عیاض فی فصل ما اطلع علیہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من الغیوب ، وقال اوماھو بمعناہ ۔
روز قیامت ندا کی جائے گی کہاں ہیں اصحاب محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ پس خلفاء رضی اللہ تعالٰی عنہم لائے جائیں گے اللہ عزوجل ان سے فرمائے گا تم جسے چاہو جنت میں داخل کرو اورجسے چاہو چھوڑدو ۔ (علامہ شہاب خفاجی نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فصل ''نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو کن کن غیوب پر مطلع کیا گیا''میں اس کا ذکر کیا اورفرمایا یا جو اس کے ہم معنیٰ ہے ۔ (ت)
(۲؂نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض بحوالہ الغیلانیات فصل ومن ذٰلک ما اطلع علیہ من الغیوب مرکز اہلسنت گجرات الہند ۳ /۱۶۴)
حدیث ۷۰:
ولہذا سیدنا مولاعلی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم نے فرمایا :
انا قسیم النار
میں قسیم دوزخ ہوں ۔
یعنی وہ اپنے دوستوں کو جنت اور اعداء کو دوزخ میں داخل فرمائیں گے ۔
رواہ شاذان ۱؂ الفضیلی عنہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فی جزء ردّالشمس جعلنا اللہ ممن والاہ کما یحبّہ ویرضاہ بجاہ جمال محبّاہ اٰمین۔
اس کو شاذان نے جزء ردالشمس میں روایت کیا ہے ۔ اللہ تعالٰی ہمیں اس کے محبوں میں رکھے جیسا کہ وہ خود اس سے محبت فرماتاہے اوراس پر راضی ہے اس کے محبوں کے جمال کے صدقے ۔ آمین۔(ت)
 (۱؂کنزالعمال بحوالہ شاذان الفضیلی فی ردالشمس حدیث ۳۶۴۷۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت  ۱۳ /۱۵۲)
بلکہ قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالی ٰ نے اسے احادیث حضور والا صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ میں داخل کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت مولٰی علی (کرم اللہ وجہہ الکریم )کو قسیم النار فرمایا۔
شفاء شریف میں فرماتے ہیں :
 قدخرج اھل الصحیح ولاائمۃ ما اعلم بہٖ اصحابہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مما وعدھم بہ من الظھور علی اعدائہ (الٰی قولہ ) وقتل علیٍ وان اشقاھا الذی یخضب ھٰذہ من ھٰذہٖ ای لحیتہ من رّاسہ وانہ قسیم النار یدخل اولیاء ہ الجنۃ واعداء ہ النار۲؂۔رضی اللہ تعالٰی عنہ وعنابہ اٰمین !
بیشک اصحاب صحاح  وائمہ حدیث نے وہ حدیثیں روایت کیں جن میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو غیب کی خبریں دیں مثلاً یہ وعدہ کہ وہ دشمنوں پر غالب آئیں گے اور مولٰی علی (کرم اللہ وجہہ الکریم ) کی شہادت اوریہ کہ بدبخت ترین امت ان کے سر مبارک کے خون سے ریش مطہر کو رنگے گا ، اوریہ کہ مولا علی (رضی اللہ تعالٰی عنہ )قسیم دوزخ ہیں اپنے دوستوں کو بہشت میں اوراپنے دشمنوں کو دوزخ میں داخل فرمائیں گے ۔ اللہ تعالٰی اس سے راضی ہو اوراس کے صدقے ہم سے راضی ہو۔ آمین۔(ت)
(۲؂الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ فصل ومن ذالک مااطلع علیہ من الغیوب المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۲۸۳و۲۸۴)
نسیم میں عبارت نہایہ :
ان علیّاًرضی اللہ تعالٰی عنہ قال انا قسیم النار۔
حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : میں قسیم دوزخ ہوں ۔(ت)
ذکر کر کے فرمایا :
 ابن الاثیر ثقۃ وما ذکرہ علی لایقال من قبل الرای فھو فی حکم المرفوع اذ لا مجال فیہ للاجتھاد ۱؂اھ اقول: کلام النسیم انہ لم یرہ مرویّا عن علی فاحال علی وثاقۃ ابن الاثیر وقد ذکرنا تخریجہ وللہ الحمد۔
ابن اثیر ثقہ ہے اورجو کچھ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ذکر فرمایا وہ اپنے رائے سے نہیں کہا جاسکتا ہے ، لہذا وہ مرفوع کے حکم میں ہوگا کیونکہ اس میں اجتہاد کی مجال نہیں اھ ۔ میں کہتا ہوں نسیم کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کو حضرت علی سے مروی نہیں جانتے چنانچہ انہوں نے اسے ابن اثیر کے ثقہ ہونے کی طرف پھیر دیا ہے اورہم نے اس کی تخریج کردی ہے ۔ وللہ الحمد۔(ت)
(۱؂نسیم الریاض فصل ومن ذالک ما اطلع علیہ من الغیوب مرکز اہلسنت گجرات الہند ۳ /۱۶۳)
مدارج شریف میں ہے :
 آمدہ است کہ ایستادہ میکنداو را پروردگار وے یمین عرش ودر روایتے برعرش ودرروایتے برکرسی ومے سپاردبوے کلید جنت۲؂ ۔
مروی ہے کہ اللہ تعالٰی آپ کو عرش کی دائیں جانب کھڑا کرے گا۔ایک روایت میں ہے کہ عرش کے اوپر، اورایک روایت میں ہے کہ کرسی پر کھڑا کریگا اورجنت کی چابی آپ کے سپرد فرمائے گا ۔ (ت)
 (۲؂مدارج النبوۃ باب ہشتم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر   ۱ /۲۷۴)
ملاجی !ذرا انصاف کی کنجی سے دیدہ عقل کے کواڑ کھول کر یہ کنجیاں دیکھئے جو مالک الملک شہنشاہ قدیر جل جلالہ نے اپنے نائب اکبر خلیفہ اعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو عطافرمائی ہیں خزانوں کی کنجیاں ، زمین کی کنجیاں ، دنیا کی کنجیاں ، جنت کی کنجیاں ، نار کی کنجیاں۔ اور اب اپنا وہ بلائے جان اقرار یاد کیجئے ''جس کے ہاتھ کنجی ہوتی ہے قفل اسی کے اختیار میں ہوتا ہے جب چاہے کھولے جب چاہے نہ کھولے ''۳؂۔
 (۳؂تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۴)
دیکھ حجت الہٰی یوں قائم ہوتی ہے ۔
والحمدللہ رب العالمین۔
Flag Counter